لیکن یاسر شاہ کا کیا قصور ہے؟

یاسر شاہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بھلے وقتوں میں جب دو ڈبلیوز کا طوطی بولتا تھا تو لاہور، فیصل آباد سی نیم جان وکٹوں پہ بھی پاکستان اپنی فاسٹ بولنگ کے بل پہ راج کیا کرتا تھا۔ وسیم اکرم اور وقار یونس کے ساتھ کبھی عبدالرزاق ہوتے، کبھی اظہر محمود تو کبھی شعیب اختر۔ سپن کا شعبہ کافی عرصہ مشتاق احمد نے سنبھالے رکھا، پھر ثقلین آ گئے۔

اس دور میں پاکستان ہمیشہ تین فاسٹ بولروں اور ایک سپنر کے ساتھ میدان میں اترتا تھا۔ حتی کہ جب وسیم، وقار رخصت ہو گئے، تب بھی فارمولا یہی رہا۔ سپن کا چارج دانش کنیریا کے پاس چلا گیا، پیس میں شعیب اختر کے ہمراہ کبھی عبدالرزاق تو کبھی عمر گل، کبھی رانا نوید تو کبھی شاہد نذیر و راؤ افتخار وغیرہم ہوا کرتے۔ لیکن فارمولا بہرطور یہی رہا کہ تین فاسٹ بولروں اور ایک سپنر سے اٹیک کیا جائے گا۔

پاکستان نے اپنے ہوم گراونڈز پہ جو آخری میچ کھیلا تھا، اس میں بھی بولنگ اٹیک تین فاسٹ بولروں اور ایک سپنر پہ مشتمل تھا۔ عمر گل، محمد طلحہ اور یاسر عرفات کے ہمراہ ریگولر سپنر صرف دانش کنیریا ہی تھے۔

جب بدقسمتی سے اس ادھورے ٹیسٹ کے بعد یہ طے پا گیا کہ تا حکم ثانی امارات کے صحراوں کو ہی پاکستان کا ’ہوم‘ کہا، لکھا اور پڑھا جائے تو مصباح نے اٹیک کے فلاسفے کی از سر نو تشریح کی۔ تب سے پاکستان نے دو سپنروں اور دو فاسٹ بولروں کو ملا کر اٹیک وضع کرنا شروع کیا۔ اس سے پاکستان کی جارحانہ کرکٹ کو کتنی زک پہنچی، یہ ایک الگ بحث ہے، فی الوقت ہم ریکارڈز اور اعدادوشمار کی نظر سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دو سپنر، دو فاسٹ بولر کے فارمولے کی بدولت ہی یہ ممکن ہوا کہ پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی بار انگلینڈ اور آسٹریلیا کو کلین سویپ کر دیا۔

آج اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کو ٹیسٹ چیمپئین بنانے میں کلیدی کردار دو سپنروں کے فارمولے کا تھا تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

اب اصولاً ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کم از کم یو اے ای کی کنڈیشنز کے لیے پاکستان یہ قاعدہ اختیار کر لیتا کہ دو باقاعدہ سپنروں کے بغیر میدان میں نہ اترنا۔ لیکن اصولاً تو اور بھی بہت کچھ ہونا چاہئے مگر پاکستان میں آج تک نہیں ہوا۔

فی الحال جو بھوت پاکستان تھنک ٹینک کے سر پہ سوار ہے، وہ ہے مصباح و یونس کے عہد سے نکلنا۔ اور اس بھوت کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے تھنک ٹینک کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

اسی بھوت کی خوشنودی کے لیے ابوظہبی میں نہ صرف تین پیسر کھلائے گئے بلکہ اس پہ اصرار بھی کیا گیا کہ یہی ہماری ’طاقت‘ ہے۔ اپنی اسی ’طاقت‘ کے استعمال کے طفیل یہ انہونی بھی ہوئی کہ ہم ابوظہبی میں پہلی بار کوئی ٹیسٹ میچ ہارے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سے پہلے جو میچ ’طاقت‘ کے بغیر کھیلے تھے، ان میں کبھی بھی پاکستان کو شکست نہیں ہوئی۔

اب کے دبئی میں پنک بال کا امتحان درپیش ہوا تو امید تھی کہ شاید ابوظہبی کی ہار کے سبب ہماری ’طاقت‘ میں کوئی بہتری دیکھنے کو ملے گی، مگر ہم ایک بار پھر یہ ثابت کرنے پہ تلے ہیں کہ ہماری اصل طاقت کیا ہے۔ ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ مہمان سری لنکن ٹیم دو سپنروں کے ساتھ اٹیک کر رہی ہے۔

اس حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ وکٹ سے پیس بالکل نہیں مل رہی، پیسر ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی کچھ نہیں کر پا رہے اور سارا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے یاسر شاہ کے کندھوں پہ۔ یہ وہ یاسر شاہ ہیں جو اس سیریز کے شروع ہونے تک مکمل فٹ نہیں ہو پائے تھے اور اب یہ عالم ہے کہ جب میچ دیکھو، یا اشتہار چل رہے ہوتے ہیں یا یاسر شاہ بولنگ کر رہا ہوتا ہے۔

سوچیے اگر آج حسن علی یا عامر کی جگہ ان فٹ ہو کر باہر بیٹھنے والے کا نام یاسر شاہ ہوتا تو کون یہ چھ وکٹیں لے کر پاکستان کو مسلسل اذیت سے نکالتا؟ اگر یاسر شاہ نہ ہوتا تو اس ’طاقت‘ والے اٹیک کو یہی سری لنکن اننگز لپیٹنے کے لیے کتنے سو اوورز اور پھینکنا پڑتے؟

ہمیں نہیں معلوم کہ تھنک ٹینک کیا ٹھیک ثابت کرنا چاہتا ہے اور کس کو غلط، لیکن گزارش صرف اتنی ہے کہ جناب! ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کا نقصان نہ کیجیے۔ آپ جس بھی طاقت کو لے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، بڑھئے۔ مگر اتنا تو بتا دیجیے کہ یاسر شاہ کا کیا قصور ہے؟

کیا یہ جرم ہے کہ دنیا کا کامیاب ترین بولر ہونے کے باوجود اسے فی میچ 80 اوور پھینکنا پڑتے ہیں؟ کیا اس سے کم پہ یاسر شاہ کو افورڈ کرنا آپ کی شان کے خلاف ہے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں