جب کھلانا ہی نہیں تو سلیکٹ کیوں کیا جاتا ہے؟

اصغر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد اصغر کو سکواڈ میں شامل کیا لیکن وہ دونوں ٹیسٹ میچوں میں موقع کے منتظر ہی رہے

یہ پاکستانی کرکٹ کا پرانا انداز ہے کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی پرفارمنس پر ون ڈے میں سلیکشن کردیا جاتا ہے اور ون ڈے کی پرفارمنس پر ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنادی جاتی ہے۔

یہ بھی ہم بار بار دیکھتے آئے ہیں کہ ہر دورے پر ایک نیا چہرہ ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اسے گھر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے یا پھر اسے میدان میں ہی نہیں اتارا جاتا۔

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ ٹیم کا سلیکشن ہوا تو اس میں سلیکٹرز نے تجربہ کار یاسر شاہ کے علاوہ لیفٹ آرم سپنر محمد اصغر اور آف سپنر بلال آصف کو بھی سکواڈ میں شامل کیا لیکن یہ دونوں بولرز دونوں ٹیسٹ میچوں میں موقع کے منتظر ہی رہے۔

تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین انضمام الحق اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہیں کہ سلیکشن کمیٹی اور ٹیم منیجمنٹ ایک پیج پر نہیں ہیں۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ سولہ رکنی ٹیم اس لیے بنائی جاتی ہے کہ اگر ضرورت پڑے توکسی کھلاڑی کو موقع دے دیا جائے اور یہ ضروری نہیں ہوتا کہ دورے میں تمام سولہ کھلاڑیوں کو کھلایا جائے۔ جن کھلاڑیوں کو موقع نہیں ملتا لیکن وہ دورے میں ٹیم کے ساتھ رہ کر تجربہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں اور جب وہ دورے سے واپس آتے ہیں تو پھر انہیں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔

پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور بولنگ کوچ اظہر محمود کا اس سیریز کے دوران یہی اصرار رہا ہے کہ انھوں نے دونوں ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قوت کو مدنظر رکھتے ہوئے میدان میں ٹیم اتاری ہے۔ دونوں کا یہی خیال ہے کہ پاکستانی ٹیم کی اصل قوت اس کی تیز بولنگ ہے۔ لیکن حالات اس کے بالکل برعکس دکھائی دیے ہیں۔

دونوں ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کے فاسٹ بولرز تگ و دو کرتے نظر آئے ہیں۔ پہلے ٹیسٹ میں محمد عباس کو دونوں اننگز میں پانچ وکٹیں ملیں لیکن محمد عامر وکٹ سے محروم رہے۔ حسن علی پٹھوں کے کھنچاؤ میں مبتلا ہوگئے اور دوسرے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے۔

دوسرے ٹیسٹ میں حسن علی کی جگہ وہاب ریاض کو ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن ورلڈ کپ کے طوفانی سپیل کے بعد سے وہ اپنا اثر کھو بیٹھے ہیں اور اتنے منتشر الخیال ہوچکے ہیں کہ دوسرے ٹیسٹ میں وہ پانچ بار اپنا رن اپ بھول بیٹھے لیکن دوسرے ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کے لیے سب سے بڑا دھچکہ محمد عامر کا ان فٹ ہوجانا ہے جس کی وجہ وہ ون ڈے سیریز سے بھی باہر ہو چکے ہیں۔

محمد عامر کے بارے میں یہ جواز دیا گیا ہے کہ ٹھنڈے موسم سے اس گرم موسم اور فارمیٹ کی تبدیلی ان کی بولنگ کارکردگی کے متاثر ہونے کا سبب بنی ہے لیکن محمد عامر کا ٹیسٹ میچز میں موثر یا کامیاب نہ ہونا نیا نہیں ہے ۔ وہ آسٹریلیا کے دورے میں بھی مشکل میں تھے اور پھر ویسٹ انڈیز کے دورے سے وکٹیں ان سے دور ہوتی چلی گئی ہیں۔

پاکستانی ٹیم کی اس اصل قوت یعنی فاسٹ بولنگ کے بڑھتے ہوئے مسائل نے لیگ سپنر یاسر شاہ پر زور بڑھا دیا ہے اور انھوں نے ایسی کنڈیشنز میں بہت زیادہ بولنگ کرلی ہے یہ اور بات ہے کہ ٹیم کے بولنگ کوچ اظہرمحمود اسے معمول کی بولنگ قرار دیتے ہیں کہ یہ بات سب کو پتہ تھی کہ برصغیر یا امارات میں یاسر شاہ کو لمبی بولنگ کرنی پڑے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلال آصف تاحال ٹیسٹ کیپ کے منتظر ہیں

سوال یہ ہے کہ کیا اگر کنڈیشنز کے مطابق دونوں ٹیسٹ میچوں میں صحیح سلیکشن ہوتا تو کیا پھر بھی یاسر شاہ دونوں ٹیسٹ میچوں میں پچاس پچاس سے زائد اوورز کراتے ؟

اگر یہ صحیح سلیکشن تھا تو پھر کپتان کو حارث سہیل، اسد شفیق اور شان مسعود کے ہاتھوں میں گیند تھمانے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟

کیا دوسرے اینڈ سے ایک ریگولر سپنر یاسر شاہ کا بوجھ بانٹ نہیں سکتا تھا۔

اظہرمحمود سکواڈ میں موجود محمد اصغر اور بلال آصف کو موقع نہ دینے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ دونوں کوالٹی کے سپنرز نہیں ہیں ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کوالٹی کے سپنرز نہیں ہیں تو انھیں کیوں ٹیم میں منتخب کیا گیا؟

محمد اصغر پچھلے کچھ عرصے سے ٹیم کے ساتھ ساتھ ہیں تو کیا وہ اسی بات کی وجہ سے اپنا ٹیسٹ کیریئر شروع نہیں کر سکیں گے کہ وہ کوالٹی سپنر نہیں ہیں؟

بلال آصف کو سلیکٹ کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ سری لنکن ٹیم میں چند لیفٹ ہینڈڈ بیٹسمین ہیں لہذا ان کے خلاف آف سپنر موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ جسے سلیکٹرز نے سلیکٹ کیا ہو کپتان اور کوچ نے بھی اس پر اعتماد ظاہر کیا ہو۔

اگر کھلانا ہی نہیں ہے تو پھر ایسے کھلاڑیوں کو سلیکٹ کیوں کیا جاتا ہے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں