بابر اعظم ٹیسٹ کرکٹ کیوں کھیلتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ کوئی زیادہ پرانا قصہ نہیں، صرف چار دن پہلے کی بات ہے۔ گراؤنڈ بھی یہی تھا، حریف ٹیم بھی یہی تھی، بابر اعظم بھی یہی والے بابر تھے جو کل نظر آئے۔ فرق تھا تو صرف دو رنگوں کا، گیند گلابی تھا اور بابر کی کٹ سفید۔

اسی دبئی کی وکٹ نے یہ دیکھا کہ دلروان پریرا نے جب بابر اعظم کو وہ گیند پھینکا تو اس پہ سرے سے کوئی سپن نہیں تھا۔ یہ بالکل سیدھی لائن میں پھینکا گیا تھا۔ پچ ہونے کے بعد بھی یہ ٹرن نہیں ہوا، لیکن چونکہ اس کی لینتھ پرفیکٹ تھی اور رفتار قدرے زیادہ، سو بابر اعظم کو چاروناچار کنفیوز ہونا ہی پڑا۔

٭ پہلے ون ڈے میں پاکستان نے سری لنکا کو شکست دے دی

٭ کیا احمد شہزاد نیا لڑکا ہے؟

برائن لارا کسی جگہ ٹپس دے رہے تھے تو سپن کے خلاف کھیلنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اگر آپ سپن کو فرنٹ فٹ پہ جا کر نہیں کھیل سکتے تو پھر بیک فٹ پہ بھی نہ جائیں۔

بابر اعظم نے بھی بالکل یہی کیا۔ وہ نہ تو کریز سے نکلے نہ ہی بیک فٹ پہ گئے لیکن اس کے باوجود کنفیوژن برقرار رہی۔ جتنی دیر میں وہ یہ طے کر پاتے کہ اس گیند کا کرنا کیا ہے، اتنی دیر میں گیند بلے تک پہنچی، اندرونی کنارے کو چھوا اور اڑ کر لیگ گلی کے ہاتھوں میں محفوظ ہو گئی۔

لیکن کل وہی بابر اعظم تھے، وہی گراؤنڈ تھا، وہی حریف ٹیم تھی۔ کل بھی کئی گیندیں ایسی تھی جو سپن نہیں ہوئی۔ ان میں سے کچھ قدرے تیز بھی تھی، لیکن کسی ایک گیند پہ بھی بابر اعظم کنفیوز نظر نہیں آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ کریز کے اندر سے بھی کھیلے، باہر بھی نکلے، آف سٹمپ کے باہر جاتی گیندوں کو بھی اسی اعتماد سے باؤنڈری پار پھینکا جس طرح سے پیڈوں کی جانب بڑھتی گیندوں کو کھیلا۔

کل بابر اعظم کی اننگز نے پاکستانی بولنگ کا ہی نہیں، سرفراز کا کام بھی آسان کر دیا۔ یہ بابر اعظم کی ون ڈے میں چھٹی سنچری تھی۔ عمر کے جس حصے میں وہ ہیں اور جس رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں، عین ممکن ہے دس سال بعد وہ پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین ون ڈے بیٹسمین ہوں۔

اب تک وہ 34 ون ڈے اننگز کھیلے ہیں اور ان کی بیٹنگ اوسط 55 ہے۔

لیکن ون ڈے فارمیٹ کے اس پار جب ٹیسٹ کے اعدادوشمار پہ نظر ڈالیں تو تفصیلات کسی بھی اعتبار سے خوش کن نہیں ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ کی 22 اننگز میں وہ اب تک ایک بھی سنچری نہیں بنا پائے ہیں۔ 22 اننگز کھیلنے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی اوسط صرف 23 ہے۔

اس دوران وہ چار مختلف ممالک کی کنڈیشنز میں کھیل چکے ہیں لیکن کسی بھی کنڈیشن میں کسی بھی طرح کی بولنگ کے سامنے وہ ایک بھرپور ٹیسٹ بیٹسمین نہیں دکھائی دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بطور ایک کرکٹ سٹوڈنٹ یہ بات میرے لیے ایک مخمصے سے کم نہیں تھی کہ ون ڈے کرکٹ میں 55 کی اوسط رکھنے والا بیٹسمین ٹیسٹ کرکٹ میں پے در پے ناکامی کا منہ کیوں دیکھ رہا ہے۔ جب اس کی کھوج میں کرک انفو پہ ان کی پروفائل کا جائزہ لیا تو مزید حیرت میری منتظر تھی۔

بابر اعظم کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں اوسط تو ان کی ٹیسٹ اوسط سے کچھ زیادہ ہے مگر ڈومیسٹک ایک روزہ کرکٹ یعنی لسٹ اے میں بابر اعظم کی بیٹنگ اوسط 50 سے زیادہ ہے۔

٭ پاکستان نے پہلا ون ڈے جیت لیا

سو جو فرق ہمیں ان کے انٹرنیشنل کرکٹ کے فارمیٹس کی اوسط میں دکھائی دیتا ہے، بعینہ ویسی تفریق ان کے ڈومیسٹک فارمیٹس کی اوسط میں بھی ہے۔ ستم در ستم یہ کہ ان کی ٹی ٹوئنٹی کی اوسط بھی 40 کے لگ بھگ ہے۔

لیکن اس تفریق سے بھی سوا یہ ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں بابر اعظم کے مسائل اوسط ہی پہ ختم نہیں ہوتے۔ بابر کے آؤٹ ہونے کی ٹائمنگ، ان کی بیٹنگ اوسط سے بھی زیادہ پریشان کن ہے۔

بارہا وہ ان مواقعوں پر آؤٹ ہوئے جن پہ نائٹ واچ مین بھی اپنی وکٹ بچا لیتے ہیں۔ کھانے کے وقفے سے پہلے آخری گیند پہ آؤٹ ہونا، چائے کے وقفے سے پہلے آخری اوور میں آؤٹ ہونا، دن کے ختم ہونے سے دو گیندیں پہلے آؤٹ ہونا وغیرہ وغیرہ ان جملہ مسائل کا حصہ ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان بابر اعظم کو ٹیسٹ کرکٹ کھلانے پہ مصر کیوں ہے؟ اور اس سے زیادہ اہم شاید یہ سوال ہے کہ کیا یہ بابر اعظم کا ذاتی فیصلہ تھا کہ وہ بڑے ہو کر ٹیسٹ کرکٹ ضرور کھیلیں گے؟

اس میں دو رائے نہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ ہی اس کھیل کی اصل روح ہے۔ جملہ اقسام کی کرکٹ میں ٹیسٹ کرکٹ کو وہی درجہ حاصل ہے جو جملہ اقسام کی گائیکی میں خیال کو ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ ہی پلیئرز کے نفسیاتی اور تکنیکی مسائل کا جواب دے پاتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پلیئر کا داخلہ کس بنیاد پہ ہونا چاہئیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میں اچھی پرفارمنس دینے والے کو ٹی ٹوئنٹی اوسط کی بنیاد پہ ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنا دیا جائے؟

بابر اعظم کو تین ون ڈے سنچریوں کی بنیاد پر ٹیسٹ میں شامل تو کر لیا گیا مگر اس کے بعد سے اب تک وہ ٹیسٹ ٹیم میں کر کیا رہے ہیں، اس پہ تو کوئی بتلاو کہ ہم بتلائیں کیا؟

کل کی اننگز میں جہاں ایک طرف بابر مکمل روانی میں دکھائی دیے، وہیں ان کا سٹرائیک ریٹ بھی اپنی جگہ موضوع سخن رہا۔ عین ممکن ہے کہ ٹیسٹ کی پچھلی چار اننگز میں متواتر ناکامی کے پریشر کا اثر کل کی اننگز کے سٹرائیک ریٹ کی شکل میں نکلا ہو۔

بابر اعظم ماڈرن ون ڈے کرکٹ کے ایک شاندار بیٹسمین ہیں۔ وہ ایک نیچرل بیٹسمین ہیں، ون ڈے کا ایک یادگار کریئر ان کا منتظر ہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں ان کو یہ جواب دینا ہو گا کہ وہ کیوں کھیل رہے ہیں، اور یہ جواب کوئی اور نہیں، ایک بہترین ون ڈے بیٹسمین ایک پریشان کن ٹیسٹ بیٹسمین سے پوچھ رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں