آپ کی بیٹنگ کہاں کھو گئی جناب؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پچھلی چھ انٹرنیشنل اننگز میں سرفراز نے 125 رنز بنائے ہیں۔

ابوظہبی ٹیسٹ کا پانچواں دن ہے اور پاکستانی بیٹنگ ایک بار پھر مشکلات کا شکار۔ ہدف صرف 136 رنز، مگر صرف 36 پہ ہی پانچ کھلاڑی پویلین لوٹ چکے ہیں۔ کپتان بیٹنگ کے لیے آتے ہیں، دھیرے دھیرے ایک پارٹنرشپ لگنے لگتی ہے، چلتے چلتے بنا کسی نقصان 42 رنز بن جاتے ہیں۔ پاکستان قریب پہنچ رہا ہے۔

اور اچانک ایک بیٹسمین آؤٹ ہو جاتا ہے۔

نہ جانے کیوں وہ کریز سے نکلتا ہے اور پھر پلٹ نہیں پاتا۔ جب اس کا پاؤں کریز میں گرتا ہے تب بیلز گر چکی ہوتی ہیں۔

کچھ ہی دیر بعد پاکستان میچ ہار جاتا ہے۔

یہ دبئی ٹیسٹ کا پانچواں دن ہے۔ کپتان کریز پر موجود ہے، کل کی شام کے زخم دھل رہے ہیں۔ پارٹنرشپ لگ چکی ہے۔ سری لنکا پہ تھکاوٹ چھا رہی ہے اور پاکستان قریب پہنچ رہا ہے۔

لیکن اچانک ایک بیٹسمین آؤٹ ہو جاتا ہے۔

دوسرا ون ڈے کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان کی بیٹنگ ایک بار پھر تاریخ کے دوراہے پہ ہے۔ بیسواں اوور ہے، پاکستان کا سکور 79 ہے اور چار کھلاڑی پویلین لوٹ چکے ہیں۔ کپتان مگر کریز پر موجود ہیں۔

اچانک ایک گیند آتی ہے۔ بیٹسمین کا فرنٹ فٹ پتا نہیں کہاں کھو جاتا ہے۔ بلا جسم سے دور ہو جاتا ہے۔ عقل انسانی اور فزکس کے درمیان کافی چوڑا سا شگاف پیدا ہوتا ہے اور.....

ایک بار پھر بیٹسمین آؤٹ ہو جاتا ہے۔

پچھلی چھ انٹرنیشنل اننگز میں سرفراز نے 125 رنز بنائے ہیں۔ کرئیر کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ آخر ایسا بھی کیا ہوا کہ ٹیسٹ میں 40 اور ون ڈے میں 35 کی اوسط رکھنے والے بیٹسمین کی پچھلی چھ اننگز میں اوسط 20.83 تک آ گئی۔

سرفراز نے آخری بار سنچری کب سکور کی تھی، شاید انھیں یاد ہو۔ انھیں ہی یاد ہو گا۔

سرفراز پاکستان کو کیوں پسند آئے تھے؟

ایک ایسی ٹیم جس کے اوپنرز کا سٹرائیک ریٹ مڈل آرڈر سے کم تھا اور مڈل آرڈر بھی چار سال سے صرف ایک بیٹسمین کے سہارے چل رہا تھا، جس ٹیم کے لیے ون ڈے میں تین سو کرنا ایک ناممکن تاریخ بنتا جا رہا تھا، اس ٹیم کو ایک ایسا بیٹسمین مل گیا جو تیز کھیلتا تھا۔

لیکن سرفراز کی وجہ شہرت ان کا سٹرائیک ریٹ ہی نہیں، رنز بھی تھے۔

مگر جب سے کپتانی کا بوجھ پڑا ہے، سٹرائیک ریٹ کا تو معلوم نہیں، ہاں رنز کا قال پڑ چکا ہے۔

نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے پہ بھی صرف ایک آدھ اننگز دیکھنے کو ملی۔ ویسٹ انڈیز میں بھی کچھ قابل ذکر نہ ہو پایا۔ چیمپئنز ٹرافی میں ایک یادگار اننگز کھیلی مگر وہ بجائے خود ایک مستحکم اننگز نہیں تھی۔ دبئی ٹیسٹ میں ایک شاندار اننگز کھیلی مگر وائے قسمت کہ کمند پھر ٹوٹ گئی۔

بطور بیٹسمین ان کی تکنیک کو دیکھا جائے تو وہ کسی بھی بولر کے لیے مشکل حریف ثابت ہو سکتے ہیں۔ مگر پچھلی کافی اننگز میں وہ خود سے الجھتے نظر آ رہے ہیں۔ جارحیت انھیں کھینچ رہی ہے، کپتانی انھیں روک رہی ہے اور اس مخمصے میں گم، وہ یہ طے نہیں کر پا رہے کہ انھیں رکنا کہاں ہے اور روکنا کب۔

اس الجھن میں پاکستان کو نقصان یہ ہو رہا ہے کہ جس بیٹسمین سرفراز کو کپتان بنایا تھا، اس کی بیٹنگ کپتانی میں کہیں کھو گئی۔ شاید وہ کچھ زیادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید وہ کریز پر بطور بیٹسمین نہیں، بطور کپتان آتے ہیں۔ شاید یہ شاید وہ، شاید ہاں شاید نہیں۔

اور اسی گماں و ممکن کے درمیان چلتے چلتے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سلپ کہاں پوزیشن کرنی ہے اور خود کو کیسے سنبھالنا ہے۔ کیچ ڈراپ ہونے لگتے ہیں۔ تھرو اپنا رستہ بھول جاتے ہیں۔ مائیک میں شور بڑھنے لگتا ہے۔ اہم مواقع ضائع ہونے لگتے ہیں۔

جناب آپ کپتانی کے چند ہی مہینوں میں اتنا کچھ حاصل کر گئے ہیں جتنا سالوں میں ہو پاتا ہے۔ آپ کی کپتانی تو جیت گئی۔ مگر آپ کی بیٹنگ کہاں کھو گئی جناب؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں