آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ: شری سنتھ پر تاحیات پابندی برقرار

شری سنتھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈین ریاست کیرالہ کی ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ نے انڈیا کے کرکٹ بورڈ کے ذریعے کرکٹر ایس شری سنتھ پر تاحیات پابندی برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ اس سے قبل ہائی کورٹ کی ایک سنگل جج بنچ نے شری سنتھ کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔

کرکٹ بورڈ نے اس فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ کی ڈویزن بنچ میں اپیل دائر کی تھی۔

دہلی سے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق شری سنتھ پر سنہ 2013 میں آئی پی ایل ٹورنامنٹ کے درمیان سپاٹ فکسنگ کا الزام لگا تھا۔ کرکٹ بورڈ نے ایک انکوائری کے بعد بعض دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ شری سنتھ پر تاحیات کھیلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

ہائی کورٹ کی ایک ڈویزن بنچ نےکرکٹ بورڈ کی درخواست منظور کرتے ہوئے پیس بولر پر تاحیات پابندی دوبارہ نافذ کر دی ہے ۔

نامہ نگار کے مطابق سرکردہ سپورٹ‎ کمنٹیٹر جسوندر سدھو نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کرکٹ بورڈ کے پاس میچ فکسنگ کےثبوت اتنے پختہ تھے کہ اس طرح کا سخت قدم اٹھانے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا اور یہ آئی پی ایل کے مستقبل کے لیے بھی ضروری تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شری سنتھ پر اپنی ٹیم راجستھان رائلز کے دو ساتھیوں اجیت چنڈیلا اور انکت چوان پر سنہ 2013 کے آئی پی ایل ٹورنامنٹ میں سپاٹ فکسنگ کا الزام لگا تھا

شری سنتھ نے ایک ٹویٹ میں عدالت عالیہ کے فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ ’یہ میرے لیے اب تک کا سب سے برا فیصلہ ہے ۔ کیا میرے لیے خصوصی قانون ہیں؟ اصل قصور واروں کے بارے میں کیا کہیں گے؟ چنئی سپر کنگ اورراجستھان رائلز کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟‘

شری سنتھ پر اپنی ٹیم راجستھان رائلز کے دو ساتھیوں اجیت چنڈیلا اور انکت چوان پر سنہ 2013 کے آئی پی ایل ٹورنامنٹ میں سپاٹ فکسنگ کا الزام لگا تھا۔ دلی پولیس نے انھیں اپنی تفتیش میں بے قصور قرار دیا تھا۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے سنہ 2015 میں انھیں الزامات سے بری کر دیا تھا اور بورڈ کے ذریعے ان پر لگائی گئی تاحیات پابندی ہٹا لی تھی۔ لیکن بورڈ اپنے فیصلے پر قائم رہا اور اس نے عدالت عالیہ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں