پاکستان سپر لیگ کے آئندہ سیزن کے چار میچ کراچی میں ہوں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کرکٹ بورڈ نے فروری میں ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ پاکستان سپر لیگ کے تیسرے سیزن کے چار میچ کراچی میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سے ملاقات میں میچوں کے انعقاد کے بارے میں آگاہ کیا۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بدھ کی صبح ملاقات میں نجم سیٹھی نے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو بتایا کہ پی سی بی نیشنل سٹیڈیم کی بحالی پر کام کر رہا ہے اس حوالے سے نیشنل انجینیئرنگ سروس پاکستان کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

٭ اب ٹیسٹ میچوں کی ورلڈ چیمپیئن شپ ہو گی

٭ جب کھلانا ہی نہیں تو سلیکٹ کیوں کیا جاتا ہے؟

٭ٹی ٹوئنٹی کے بعد اب ٹی ٹین لیگ

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سید مراد علی شاہ نے چیئرمین پی سی بی کو یقین دہانی کرائی کہ کھلاڑیوں اور شائقین کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور یہ کہ کراچی ایک پرامن شہر ہے جہاں عالمی کرکٹ ہونی چاہیے۔

وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے نجم سیٹھی کو پیشکش کی کہ اگر وہ چاہیں تو وہ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک ٹیم کے ساتھ آ سکتے ہیں اور حکومت ٹیم کی مکمل دیکھ بال کرے گی۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق سکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے پی سی بی کے چیف سکیورٹی انچارج ریٹائرڈ کرنل اعظم خان، ڈائریکٹر جنرل رینجرز اور آئی جی سندھ میں ملاقات طے کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB

وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کے بعد پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے نیشنل سٹڈیم کا دورہ کیا اور سٹیڈیم کا معائنہ کیا۔

منگل کی شب ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا تھا کہ سٹیڈیم کا بہت برا حال ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ چار ماہ میں اس کو ٹھیک کر سکتے ہیں کہ نہیں، تاہم ان کی کوشش ہے کہ پی ایس ایل کے دو سے چار میچ یہاں ہوں۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ وہ غیر ملکی سکیورٹی ماہرین کو بھی یہاں لانا چاہتے ہیں، اس سے پہلے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے پولیس اور رینجرز کو متحرک کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل 2018 میں کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے 'پلیئرز ڈرافٹ' اگلے ماہ کے پہلے ہفتے میں لاہور میں ہوگا۔ گذشتہ سال کراچی کنگز، لاہور قلندر، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ نے شرکت کی تھی اور فائنل میں پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دیکر کامیابی حاصل کی تھی۔

سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر تمام میچ متحدہ عرب امارات میں منعقد کیے گئے تھے تاہم فائنل لاہور میں منعقد کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں