’اگر انضمام کا بھتیجا ہوں تو میری کیا غلطی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’اگر اگلے میچ میں پرفارمنس نہ ہوئی تو پھر تنقید ہوگی جس پر میں زیادہ غور نہیں کرتا۔'

نوجوان بیٹسمین امام الحق کو جب پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل کیا گیا تو اس سلیکشن کو چچا کی جانب سے بھتیجے کی سلیکشن کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

حالانکہ اس وقت بھی انضمام الحق نے یہ واضح کر دیا تھا کہ اس سلیکشن کو رشتہ داری کی نظر سے نہیں بلکہ میرٹ کی نگاہ سے دیکھا جائے اور امام الحق نے اپنے اولین ون ڈے انٹرنیشنل میں سنچری بنا کر اپنے چچا کے موقف کو درست ثابت کر دکھایا ہے۔

تیسرا ون ڈے پاکستان کے نام، امام الحق کی سنچری

’امام الحق کی سلیکشن کو صرف اس نظر سے نہ دیکھا جائے کہ وہ میرا بھتیجا ہے‘

امام الحق کے باصلاحیت ہونے کے بارے میں کبھی بھی دو رائے نہیں رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ تک آنے کا ہر زینہ اپنی کارکردگی سے طے کرتے آئے ہیں لیکن اسے محض اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ امام الحق کے پاکستانی ٹیم میں منتخب ہونے کا وقت آیا تو اس وقت چیف سلیکٹر ان کے چچا ہیں لیکن امام الحق کے نزدیک اس میں ان کا کیا قصور ہے؟

’اس میں میری کیا غلطی ہے کہ میں انضمام الحق کا بھتیجا ہوں۔ میں ہر کسی کو تو جواب دہ نہیں ہوں لیکن اس کا سب سے آسان جواب پرفارمنس ہے۔ میں ناکامی سے نہیں ڈرتا کیونکہ دنیا کے ہر کرکٹر کے کریئر میں ناکامیاں آتی ہیں۔ اچھا کرکٹر وہی ہے جو اس ناکامی سے خود کو نکالے اور پرفارمنس دے۔'

امام الحق سے سوال تھا کہ انضمام الحق پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ آپ کے سلیکشن کو میرٹ کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ آپ خود ناقدین کے اس تاثر کو غلط ثابت کرنے کے لیے کتنے پر امید تھے؟

'مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ مجھے خود پر بہت زیادہ بھروسہ ہے۔ میں اس فیملی کا حصہ ہوں لہٰذا مجھ میں بہت پختگی ہے۔ جو لوگ باتیں کرتے ہیں میں ان کی بھی عزت کرتا ہوں لیکن میرے نزدیک اس کا بہتر جواب میدان میں دکھائی جانے والی کارکردگی ہے۔ اگر اگلے میچ میں پرفارمنس نہ ہوئی تو پھر تنقید ہو گی جس پر میں زیادہ غور نہیں کرتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امام الحق ان چند کرکٹرز میں سے ایک ہیں جو عینک لگا کر کھیلتے ہیں

امام الحق کے لیے وہ لمحہ خاصا پریشان کن تھا جب 89 کے سکور پر امپائر احسن رضا نے انہیں وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ دے دیا تھا لیکن ٹی وی ری پلے نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔

'ظاہر ہے کہ اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری کے قریب آ کر آؤٹ ہونے پر بہت برا محسوس کر رہا تھا لیکن کپتان نے ڈریسنگ روم سے مجھے اشارہ کر کے بتادیا کہ گیند زمین سے لگ کر وکٹ کیپر کے پاس گئی تھی۔'

امام الحق اس بارے میں بھی لاعلم تھے کہ وہ سلیم الٰہی کے بعد اولین ون ڈے میں سنچری بنانے والے دوسرے پاکستانی بنے ہیں۔

'میں اولین ون ڈے انٹرنیشنل میں سنچری کو بہت بڑا اعزاز سمجھتا ہوں لیکن سچ یہ ہے کہ مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والا دوسرا پاکستانی ہوں۔ میں جب آؤٹ ہو کر آیا تو کپتان سرفراز نے مجھے اس بارے میں بتایا۔'

امام الحق اپنی اس سنچری کا کریڈٹ محمد حفیظ کو دیتے ہیں۔

'حفیظ بھائی نے میچ سے قبل مجھے گرین کیپ بھی دی،یہاں تک کہ ہماری فیلڈنگ کے دوران بھی انھوں نے یہ کہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ تم ضرور سنچری بناؤ گے۔ جب بیٹنگ کے دوران مجھے کریمپ پڑ گئے تھے تو اس وقت بھی انھوں نے میری ہمت بڑھائی اور مذاقاً کہا کہ اگر تم غلط شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے تو تمہیں جوتے پڑیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امام الحق اس بارے میں بھی لاعلم تھے کہ وہ سلیم الٰہی کے بعد اولین ون ڈے میں سنچری بنانے والے دوسرے پاکستانی بنے ہیں

امام الحق کا پسندیدہ کھلاڑی کوئی نہیں لیکن وہ یونس خان کی خوبیوں کے قائل ہیں۔

'یونس خان کا انہماک غیرمعمولی محنت، کھیل سے دیانت داری اور وقت کی اہمیت کو سمجھنا ہے۔ ان کی یہ باتیں مجھے پسند ہیں۔ موجودہ ٹیم میں شعیب ملک جس طرح ہر کھلاڑی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں وہ بہت اہم ہے۔'

امام الحق ان چند کرکٹرز میں سے ایک ہیں جو عینک لگا کر کھیلتے ہیں ان کی بائیں آنکھ کا نمبر ٹو پوائنٹ سیون فائیو ہے جبکہ دائیں آنکھ کا نمبر ون پوائنٹ سیون ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں