وہ جنید خان کہاں رہ گئے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2012 میں کوہلی کے لیے مشکل ترین بولر جنید خان ہی تھے۔

وراٹ کوہلی کہتے ہیں کہ اب تک کے کرئیر میں محمد عامر وہ بولر ہیں جو ان کے لیے سب سے مشکل بولر ثابت ہوئے ہیں. چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر نے جو سپیل کیا تھا، وہ بولنگ نہیں جادو تھا، اور اس سپیل میں دو متواتر گیندوں پہ دو دفعہ آوٹ ہونے والے بیٹسمین کوہلی ہی تھے، اگر اظہر علی سے وہ کیچ ڈراپ نہ ہوتا۔

اگر ماڈرن کرکٹ کا بیٹنگ آئیڈل کسی بولر کے بارے میں ایسا جملہ کہہ دے تو اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ اور محمد عامر کے معاملے میں تو کچھ زیادہ سنجیدگی کی ضرورت ہے کیونکہ کم بیک کے بعد سے اب تک ان کے اعداد و شمار وراٹ کوہلی کی بات سے میل نہیں کھاتے۔

جنید خان تیسری بار لنکا شائر کے لیے کھیلیں گے

گو وراٹ کوہلی نے کبھی جنید خان کے بارے ایسا کہا تو نہیں مگر سب نے یہ دیکھا ضرور کہ 2012 میں ان کے لیے مشکل ترین بولر جنید خان ہی تھے۔ لیکن آج شاید یہ کسی کو ہی یاد ہوگا۔ جنید خان کے بارے اتنا ضرور یاد ہے کہ 2015 کے ورلڈ کپ میں انہیں بہت یاد کیا گیا۔

اس دور کے جنید خان کو ذہن میں لائیے تو آج کا جنید خان سمجھ میں نہیں آتا۔

اس معمے کو ذرا مختلف پیرائے میں دیکھا جائے تو دو لیفٹ آرم فاسٹ بولر دو مختلف ادوار میں دنیا کے کامیاب ترین بیٹسمین کے لیے چیلنج رہ چکے ہیں۔ یہی نہیں، وہ آج بھی بہترین سپیل پھینکنے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔ اور کبھی کبھی ان میں پھر سے وہ چمک بھی نظر آتی ہے جو گزرے سالوں کا خاصہ تھی لیکن اس کے باوجود اعداد و شمار کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔

محمد عامر نے ابوظہبی ٹیسٹ میں کتنے آوٹ کیے؟ جنید خان نے اس سال کتنی وکٹیں لی؟

جس رات ابوظہبی میں پاکستان نے 219 رنز کا دفاع کیا، اس شام بولنگ کا سب سے خوبصورت سپیل جنید خان نے ہی پھینکا تھا۔ ان کی گیند میں وہ کاٹ بھی نظر آئی اور وہ پھرتی بھی کہ جس کے بعد بلے خلا میں گھورتے رہ جاتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اب اس سپیل کے نمبرز اٹھا کر دیکھیں تو وہاں وہ کاٹ اور پھرتی نظر نہیں آتی۔ بالکل اسی الجھن کا محمد عامر کو سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنید خان کی ہمت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کی بولنگ میں جوش بھی بہت ہے۔ ان کی چال میں ذمہ داری کا احساس بھی ہے۔ نہیں ہے تو وہ آنکھوں کی چمک نہیں ہے۔

فاسٹ بولنگ صرف کندھوں کے بل پہ نہیں کی جاتی، اس میں دماغ کا بھی بہت دخل ہوتا ہے۔ جب ایک فاسٹ بولر اپنے ماہ و سال گراونڈ سے دور گزار رہا ہوتا ہے تو اس دوران وہ اپنا کم بیک کیسے پلان کرتا ہے؟ ڈیل سٹین پچھلے سال نومبر میں انجرڈ ہوئے تھے۔ اس وقت وہ اپنا کم بیک پلان کر رہے ہیں۔ انہوں نے نومبر کا ہدف سامنے رکھا ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ واپسی کے حوالے سے اپنی فٹنس اور تیاری کو کہاں دیکھتے ہیں تو بولے کندھا تو پہلے سے بھی مضبوط ہو گیا ہے، بس خود کو یہ یاد دلا رہا ہوں کہ ایک سال پہلے میں فاسٹ بولنگ کیسے کیا کرتا تھا۔

سٹین اگر خود کو یاد دلا پائے تو ان کی آنکھوں میں وہی چمک پھر سے دیکھنے کو ملے گی جو ہر بار وکٹ لینے کے بعد چھلکتی تھی۔ اگر یہ نہ بن پڑا تو ایک سال بعد ان کے اعداد و شمار بھی اسی مخمصے کا شکار ہوں گے جو آج عامر اور جنید خان کو درپیش ہے۔

جس وقت تھارنگا جنید خان کی گیندوں پہ حیرت کی تصویر بنے ہوئے تھے، سارے گراونڈ پہ ایک سحر طاری تھا۔ ہر بار جب گیند سرفراز کے گلوز میں پہنچتی تو رستے پہ کچھ نہ کچھ ایسا ہو چکا ہوتا تھا کہ امپائر سمیت سبھی انگشت بدنداں ہوتے کہ یاللعجب بیٹسمین ابھی تک محفوظ کیوں ہے۔

لیکن اس سپیل کی کوئی بھی فوٹیج نکال کر دیکھ لیجیے، آپ کو جنید خان کی آنکھوں میں وہ چمک نظر نہیں آئے گی جو 2012 کے بھارتی دورے کی بہترین یاد ہے۔

جنید خان کی ہمت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کی بولنگ میں جوش بھی بہت ہے۔ ان کی چال میں ذمہ داری کا احساس بھی ہے۔ نہیں ہے تو وہ آنکھوں کی چمک نہیں ہے۔

آئے روز کوئی میچ گزر جاتا ہے اور جنید خان کا انتظار طویل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ جنید خان جو کوہلی جیسوں کے لیے خطرے کا نشان تھا، وہ کہاں رہ گیا۔ کیونکہ یہ جو خوش شکل سا پریشان فاسٹ بولر اس وقت شارجہ کی باونڈری پہ مایوس کھڑا ہے، یہ وہ والا جنید خان نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں