زلمی میں چینی کرکٹرز پبلسٹی سٹنٹ نہیں: جاوید آفریدی

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستان سپر لیگ کی چیمپیئن پشاور زلمی نے اگلے سال ہونے والے سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے لیے اپنی ٹیم میں چین کے دو کرکٹرز کو شامل کیا ہے۔

پشاور زلمی میں جی آنگ لی اور یوفی زینگ کی شمولیت کے حوالے سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی نے بتایا کہ ان دونوں چینی کرکٹرز کی گرومنگ یعنی ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ان کی تربیت کی جائے گی۔

’پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن میں ان کو تربیت دی جائے گی۔ یہ دونوں کھلاڑی چین کی کرکٹ ٹیم کے انٹرنیشنل کرکٹرز ہیں اور ان دونوں نے چین کی نمائندگی کی ہوئی ہے۔‘

جب جاوید آفریدی سے پوچھا گیا کہ دونوں چینی کرکٹرز کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں ہے کہ وہ پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی نمائندگی کریں تو انھوں نے کہا ’ان دونوں کھلاڑیوں کے انٹرنشینل کرکٹ میں اعداد و شمار تو اچھے نہیں ہیں لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ چین میں کرکٹ کتنی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’چین بہت چاہتا ہے کہ کرکٹ کو فروغ دیا جائے اور اس کوشش میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور ایشیا کرکٹ کونسل بھی شریک ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پشاور زلمی کا حصہ بن کر پاکستان سپر لیگ میں کھیلنا ان دونوں کھلاڑیوں کے لیے سیکھنے کا بہت بڑا موقع ہے۔

’آپ یہ دیکھیں کہ جب ڈیرن سیمی جیسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کے ساتھ وہ ڈریسنگ روم میں موجود ہوں گے تو صرف اس ڈریسنگ روم میں ہوتے ہوئے وہ کتنا سیکھ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ زلمی میں شمولیت کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں کی کوچنگ پشاور زلمی کرے گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان دونوں کھلاڑیوں کو میچ کھلوائے بھی جائیں گے یا پبلسٹی سٹنٹ ہے تو جاوید آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ان دونوں کھلاڑیوں کو زلمی کی ٹیم کا حصہ بنانا پبلسٹی سٹنٹ نہیں ہے۔ ورلڈ کلاس کرکٹرز کے ساتھ نیٹس پر اور ڈریسنگ روم میں رہ کر جی آنگ لی اور یوفی زینگ بہت کچھ سیکھیں گے اور یہی پہلا قدم ہے۔‘

جی آنگ لی

تصویر کے کاپی رائٹ Zalmi

جی آنگ لی تین جولائی 1992 کو پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے ہیں اور میڈیم پیسر ہیں۔

کرکٹ کی ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق انھوں نے اپنا آخری میچ چین کی جانب سے جنوبی کوریا کے خلاف کھیلا تھا۔ یہ ٹی ٹوئنٹی میچ 29 ستمبر 2014 کو کھیلا گیا تھا جس میں جی آنگ لی نے 15 رنز سکور کیے تھے اور بولنگ نہیں کرائی تھی۔

جی آنگ نے چین اور چین کی انڈر 19 ٹیموں کی نمائندگی کی ہوئی ہے۔

ٹیم اپوزیشن گراؤنڈ میچ کی تاریخ ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی بیٹنگ بولنگ
چین جنوبی کوریا اچون 29 ستمبر 2014 ٹی ٹوئنٹی 15 -
چین ملائشیا اچون 28 ستمبر 2014 ٹی ٹوئنٹی 1 -
چین انڈر 19 بھوٹان انڈر 19 کوالا لمپور 9 جولائی 2011 ون ڈے 0 0/28
چین انڈر 19 کویت انڈر 19 کوالا لمپور 8 جولائی 2011 ون ڈے 0 0/17
چین انڈر 19 برما انڈر 19 پنانگ 6 جولائی 2011 ون ڈے 0 1/15
چین انڈر 19 ایران انڈر 19 پنانگ چار جولائی 2011 ون ڈے 6 2/15
چین انڈر 19 بھوٹان انڈر 19 پنانگ تین جولائی 2011 ون ڈے 3 0/28
چین ایران بینکاک 10 دسمبر 2010 ون ڈے 0 1/1
چین برونائی چیانگ مے 7 دسمبر 2010 ون ڈے 0 0/4
چین مالدیپ چیانگ مے 5 دسمبر 2010 ون ڈے 7 -

یوفی زینگ

تصویر کے کاپی رائٹ Zalmi

پشاور زلمی میں شامل ہونے والے دوسرے چینی کرکٹر 17 جنوری 1992 میں پیدا ہوئے۔ وہ چین کی کرکٹ ٹیم اور چین کی انڈر 19 ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

یوفی زینگ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے ہیں اور میڈیم فاسٹ بولر ہیں۔ جی آنگ لی کی طرح انھوں نے بھی اپنا آخری میچ جنوبی کوریا کے خلاف 29 ستمبر 2014 کو کھیلا تھا۔ اس میچ میں انھوں نے چھ رنز سکور کیے اور بولنگ میں 22 رنز دے کر وکٹ حاصل نہ کر سکے۔

ان کا اب تک کا سب سے زیادہ سکور 61 رنز ہے جو انھوں نے آٹھ جولائی 2011 کو کوالا لمپور میں کویت کے خلاف ایک روزہ میچ میں بنایا تھا۔ اس میچ میں یوفی نے 135 گیندوں میں چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 61 رنز سکور کیے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

ٹیم اپوزیشن گراؤنڈ میچ کی تاریخ ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی بیٹنگ بولنگ
چین جنوبی کوریا اچون 29 ستمبر 2014 ٹی ٹوئنٹی 6 0/22
چین ملائشیا اچون 28 ستمبر 2014 ٹی ٹوئنٹی 0 0/12
چین انڈر 19 بھوٹان انڈر 19 کوالا لمپور 9 جولائی 2011 ون ڈے 30 1/15
چین انڈر 19 کویت انڈر 19 کوالا لمپور 8 جولائی 2011 ون ڈے 61 ناٹ آؤٹ 0/23
چین انڈر 19 برما انڈر 19 پنانگ 6 جولائی 2011 ون ڈے 13 2/14
چین انڈر 19 ایران انڈر 19 پنانگ چار جولائی 2011 ون ڈے 19 4/7
چین انڈر 19 بھوٹان انڈر 19 پنانگ تین جولائی 2011 ون ڈے 20 2/20
چین ایران پنانگ 10 دسمبر 2010 ون ڈے 0 1/16
چین برونائی چیانگ مے 7 دسمبر 2010 ون ڈے 8 0/16
چین مالدیپ چیانگ مے 5 دسمبر 2010 ون ڈے 2 3/65

جی آنگ لی اور یوفی زینگ کی پشاور زلمی میں شمولیت پر پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون صرف سائنس اور انفراسٹرکچر اور ٹیکٹنالوجی کی حد تک نہیں ہے۔

'پشاور زلمی چین میں کرکٹرز کی تربیت کرنے کے علاوہ ان کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے جس کے ذریعے وہ اپنا ٹیلنٹ سامنے لا سکیں۔'

متعلقہ عنوانات