'سہیل تنویر بھی کبھی وسیم اکرم ہوا کرتے تھے'

سہیل تنویر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کو دو چھکے بھی جڑ دیے تو خاصے سنجیدہ حلقوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ دوسرا وسیم اکرم آ چکا ہے

سال ہے 2007 اور پہلا ٹی 20 ورلڈ کپ ہو رہا ہے۔ محمد آصف بولنگ کر رہے ہیں۔ جے سوریہ سامنا کر رہے ہیں۔ دو گیندیں پہلے اپل تھرنگا ایک شارٹ پچ پہ ٹاپ ایج کے راستے پویلین لوٹے ہیں۔ ہدف ہے 190 رنز اور سری لنکا شروع سے ہی پھنستا نظر آ رہا ہے۔

ایک اور شارٹ پچ آتی ہے۔ جے سوریہ نیم دلی سے پل کھیلتے ہیں۔ کیچ ہوا میں بلند ہوتا ہے۔ فیلڈر بالکل درست جگہ پہ کھڑا ہے۔ کیچ ہاتھوں تک پہنچتا ہے۔ فیلڈر رک جاتا ہے مگر گیند نہیں رکتا۔ اور ایک اہم ترین میچ میں جے سوریہ جیسے خطرناک کھلاڑی کو اتنا بڑا تحفہ دے دیا جاتا ہے۔

یہ فیلڈر تھے سہیل تنویر جنھیں ٹھیک ایک گیند بعد اسی جے سوریہ کو بولنگ کرنا تھی۔

یہ بھی پڑھیے

وہ جنید خان کہاں رہ گئے؟

امام الحق کی عینک اور انگلش میں دلچسپی کیوں؟

بولنگ کا حساب دان حسن علی


اس کے بعد جس وقت محمد آصف آخری گیند پھینک رہے تھے، تب سہیل تنویر کیا سوچ رہے ہوں گے؟

سہیل تنویر نے دوڑنا شروع کیا، جے سوریہ تیار کھڑے ہیں۔ سہیل تنویر ایک ہی گیند پہلے جے سوریہ کو ڈراپ کر چکے ہیں۔ اچانک وہ پراسرار سی گیند آتی ہے۔ جے سوریہ کو سرے سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ کہاں پڑتی ہے اور کیسے اندر آتی ہے اور یک لخت سٹمپس کو منتشر کر دیتی ہے۔ جے سوریہ بےیقینی کی تصویر بنے کھڑے ہیں کہ آف سٹمپ سے ایک میڈیم پیس یارکر کیسے ان کے بلے سے بچ سکتا ہے اور کیوں کر ان کے سٹمپس تک پہنچ سکتا ہے؟

یہ تھے سہیل تنویر۔ اس ایک وکٹ کے بعد سہیل تنویر کے موازنے شروع کر دیے گئے۔ لیفٹ آرم آل راؤنڈر تھے، منفرد سا بولنگ ایکشن تھا، اور کیچ ڈراپ کرنے کے بعد پہلی گیند پہ ہی جے سوریہ کے اوسان خطا کر دیے۔ اور پھر جب انھوں نے فائنل میں مشکل ترین جگہ پہ انڈیا کو دو چھکے بھی جڑ دیے تو خاصے سنجیدہ حلقوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ دوسرا وسیم اکرم آ چکا ہے۔

اس بات کو گزرے دس سال ہو چکے ہیں۔ ان دس سال میں سہیل تنویر نے کیسا کریئر گزارا؟ کتنے میچ کھیلے؟ کتنی کامیابیاں سمیٹیں؟ کتنی بار یہ ثابت کر پائے کہ واقعی دوسرا وسیم اکرم آ چکا ہے؟

سمیع اسلم آئے تو فوراً سعید انور سے موازنہ کر دیا گیا۔ امام الحق نے سینچری کی تو انضمام کا جانشین قرار دے دیا گیا۔ سب بھول گئے کہ تین سال پہلے بھی ایک انضمام ہوا کرتا تھا۔ کہاں گئے صہیب مقصود؟

اسد شفیق نے جب ڈیبیو کیا تھا تو ون ڈے کے بہترین پلیئر دکھائی دیتے تھے۔ پھر ورلڈ کپ کے پریشر میچ میں بریٹ لی اور شان ٹیٹ کی تباہ کن گیندوں کا ہی نہیں، لفظی واروں کا بھی مقابلہ کیا۔ اور پھر ان کا بھی محمد یوسف سے موازنہ کر دیا گیا۔ کتنے عرصے سے اسد شفیق کوشش کر رہے ہیں لیکن آج تک ون ڈے میں جگہ نہیں بنا پائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اپنا دوسرا ہی ون ڈے کرکٹ میچ کھیلنے والے عثمان شنواری نے پانچویں ون ڈے میں اپنی پہلی پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں

آج عثمان خان شنواری نے جو سپیل پھینکا، وہ کوئی محیرالعقول قسم کی چیز تھی۔ جس لائن اور لینتھ سے وہ کھیل رہے تھے، اس نے سری لنکن کیمپ پہ وہ سراسیمگی طاری کر دی کہ پانچ ٹاپ آرڈر بیٹسمین ایک ہی طریقے سے آوٹ ہوئے۔ بولڈ ہو یا ایج، لیگ بائی ہو یا لیڈنگ ایج، عثمان کے ہاتھوں آؤٹ ہونے والے کسی بھی بیٹسمین نے اپنا پاؤں کریز سے نہیں نکالا۔

جس درجے کی فاسٹ بولنگ اس سپیل میں عثمان شنواری نے کی، اسے لیجنڈ سے تعبیر نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ وہ سپیل اپنی جگہ فاسٹ بولنگ کا بہترین مظاہرہ تھا۔ مگر اس ایک سپیل کی بنیاد پہ انھیں ڈینس للی کا متبادل کہہ دینا بھی سراسر زیادتی ہو گی۔

عثمان خان شنواری کے سامنے ایک تابناک کریئر پڑا ہے۔ ان کی بولنگ میں وہ کاٹ ہے کہ سست پچوں پہ بھی اچھے سپیل پھینک سکتے ہیں۔ لیکن اگر ابھی سے انھیں مچل جانسن کا جانشین قرار دے دیا جائے تو خدانخواستہ کہیں دس سال بعد ان کے نمبر بھی ہمیں ویسے ہی پریشان نہ کر رہے ہوں جیسے آج سہیل تنویر کے کریئر سٹیٹس۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں