اگلے ورلڈ کپ کی ٹرافی بھی بعید نہیں ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بالآخر نو سال بعد پاکستان نے ون ڈے میں کسی ٹیم کو کلین سویپ کر ہی ڈالا۔ پچھلی بار ایسا 2008 میں ہوا تھا جب شعیب ملک کپتان ہوا کرتے تھے۔ تب سے اب تک چھ کپتان بدل چکے ہیں۔ ان میں سے چار ریٹائر بھی ہو گئے۔ شعیب ملک بھی اپنے کرئیر کے اختتام کے قریب ہیں۔

ان نو سالوں میں پاکستان کی ون ڈے کرکٹ کئی ایک پیچیدہ ادوار سے گزری ہے۔ جہاں کبھی فاسٹ بولنگ کا شاندار ترین اٹیک پاکستان کی پہچان ہوا کرتا تھا، وہاں چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ سپنر سے بولنگ اوپن کرنا پاکستان کی ہی روایت ٹھہری۔

’رشتے داروں نے کہا عامر جیسی پرفارمنس دکھانا‘

پاکستان کا نو سال بعد ون ڈے سیریز میں کلین سویپ

نوجوان ٹیم کا بڑا کارنامہ

اوپننگ جوڑی ہمیشہ تجربات کی زد میں رہی۔ محمد یوسف کے بعد کوئی مستند مڈل آرڈر بیٹسمین دیکھنے کو نہ ملا۔ یونس خان کو زیادہ زحمت ہی نہ دی گئی۔ اسد شفیق سے بہت امیدیں تھیں مگر وہ بھی ون ڈے میں اپنی پوزیشن مستحکم نہ کر سکے۔ مصباح بنیادی طور پہ لوئر مڈل آرڈر کے ہارڈ ہٹر تھے مگر پانچویں نمبر پہ آ کر 40 اوورز کھیلنا ان کا نصیب ٹھہرا۔

لوئر آرڈر میں عبدالرزاق کے بعد کوئی ایسا آل راؤنڈر نہ آیا جو مشکل میچ کا پانسہ پلٹ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ شاہد آفریدی کی فارم ڈانواں ڈول رہی۔ بولنگ میں دیکھیے تو عامر، آصف کی پابندی سے ایسا خلا پیدا ہوا کہ اس کے بعد اگلے دو ورلڈ کپ ان کے زیاں کے احساس میں ہی گزر گئے۔

اور پھر اس مسلسل گزرتے زوال کا حتمی انجام یہ ہوا کہ آج سے کوئی پانچ ماہ پہلے تک پاکستان کو یہ لالے پڑے ہوئے تھے کہ ورلڈ کپ 2019 کے لیے کہیں کوالیفائنگ راؤنڈ نہ کھیلنا پڑ جائے۔ جس روز چیمپیئنز ٹرافی میں انڈیا سے پہلا میچ ہارے، اس روز سرفراز کی باڈی لینگویج شدید مایوس کن تھی۔

لیکن آج وہی ٹیم ہے، وہی کپتان ہے، وہی کوچ ہے۔ تاریخ میں پہلی بار چیمپیئنز ٹرافی جیت چکی ہے۔ مسلسل نواں ون ڈے جیت چکی ہے۔ رینکنگ میں دن بدن بہتری آ رہی ہے۔

نجانے کتنے سال پہلے ایسا ہوا ہو گا کہ کوئی پاکستانی فاسٹ بولر آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں پہلے نمبر پہ آیا ہو۔ آج حسن علی ون ڈے کے نمبر ون بولر ہیں۔ بابر اعظم ٹاپ فور میں آ چکے ہیں، حفیظ نمبر ون آل راونڈر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سرفراز کی کپتانی بالکل اوائل میں ہی اپنی دھاک بٹھا چکی ہے۔ اس ون ڈے سیریز کے آغاز سے پہلے ٹیم کا مورال بہت ڈاؤن تھا۔ پہلی بار یو اے ای میں کوئی ٹیسٹ سیریز ہارے تھے اور آگے پانچ ون ڈے درپیش تھے۔ عامر ان فٹ ہو کر باہر بیٹھے تھے، اظہر علی بھی انجری کے سبب سکواڈ کا حصہ نہیں تھے، امام الحق کی سلیکشن پہ بھی انگلیاں اٹھ رہی تھیں۔

لیکن تب سرفراز نے یہ کہا تھا کہ ون ڈے میں بہتر کپتانی دیکھنے کو ملے گی۔ حالانکہ سری لنکا کے پاس یہ نادر موقع تھا کہ ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کرنے کے بعد اپنی ون ڈے فارم بھی بحال کرتا لیکن سرفراز کی کپتانی اور نوجوان بولنگ اٹیک نے ایک بھی میچ میں سری لنکا کو اٹھنے نہیں دیا۔

اس میں دو رائے نہیں کہ سری لنکا کی ون ڈے ٹیم سال کی بدترین ون ڈے ٹیم رہی ہے۔ مسلسل تیسری بار کلین سویپ ہوئی ہے لیکن حالیہ سیریز میں پاکستان نے جس طرح کی کرکٹ کھیلی ہے، سرفراز کا یہ دعویٰ بالکل بجا ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کا یہ بولنگ اٹیک واقعی ورلڈ کلاس اٹیک ہے۔

فیلڈنگ میں بدرجہ بہتری آئی ہے۔ شاداب خان نے جس عمر میں عروج حاصل کر لیا ہے، کم از کم اگلے 12 سال کے لیے پاکستان کا سپن ڈیپارٹمنٹ محفوظ ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔

حسن علی جس طرح سے مڈل اوورز میں وکٹیں لینے پہ اپنی مہارت مہمیز کر رہے ہیں، کسی بھی ورلڈ کلاس بیٹنگ لائن کو مصیبت میں ڈال سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے لیے اس وقت ون ڈے میں سبھی اشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔ ٹیم وننگ سپرٹ میں داخل ہو چکی ہے۔ بینچ پہ بھرپور سٹرینتھ موجود ہے اور اگر اس نوجوان گروپ کی عمر کو دیکھا جائے تو اگلے ورلڈ کپ تک یہ سبھی لڑکے تجربے، مہارت اور چستی کا بھرپور پیکج بن چکے ہوں گے۔

لیکن اگر اگلے ورلڈکپ کی تیاریوں کو ذہن میں رکھا جائے تو پاکستان کو کچھ مشکل فیصلے ابھی سے کرنا ہوں گے۔

مکی آرتھر کا کنٹریکٹ اگلے ورلڈ کپ تک ہے۔ سو تھنک ٹینک میں تو استحکام آ چکا ہے۔ اب فیصلہ صرف یہ کرنا ہو گا کہ کس پلیئر کو کتنا استعمال کرنا ہے اور کیسے بچا کر چلانا ہے۔

مثلاً جب پاکستان سیریز جیت ہی چکا تھا تو آخری دو میچز میں حسن علی کو ریسٹ دیا جا سکتا تھا۔ وہ پرائم بولر ہیں۔ ان کو غیر ضروری تھکاوٹ سے بچانا چاہیے۔ بابر اعظم بھرپور فارم میں ہیں مگر سیریز جیت جانے کے بعد بینچ میں سے بھی کسی کو اعتماد حاصل کرنے کا موقع دیا جا سکتا تھا۔ دنیا کی بہترین ٹیمیں اسی طرح سے اپنی روٹیشن پالیسی وضع کرتی ہیں۔

کیا ہی اچھا ہو کہ اگلے سال کے دورہ انگلینڈ سے پہلے اس نوجوان ٹیلنٹ پول کو کاؤنٹی کرکٹ کے لیے ریلیز کیا جائے۔

کیونکہ اگلا ورلڈ کپ بھی انہی وکٹوں پہ کھیلا جانا ہے جہاں پاکستان چیمپیئنز ٹرافی جیت کر آیا ہے لیکن ورلڈ کپ کا شیڈول چیمپیئنز ٹرافی سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ سو ورلڈ کپ کے لیے اگر ابھی سے ان عوامل کو ذہن میں رکھ کر تیاری کی جائے تو 2019 کی ٹرافی بھی بعید نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں