محمد عامر کی عمدہ بولنگ، پاکستان کا ٹی 20 سیریز میں بھی وائٹ واش

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عامر نے پاکستان میں اپنے پہلے بین الاقوامی میچ میں عمدہ کارکردگی دکھائی

پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے مابین ٹی 20 سیریز کا تیسرا اور آخری میچ اتوار کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلا گیا جہاں پاکستان نے سری لنکا کو 36 رنز سے شکست دے کر سیریز میں تین صفر سے کامیابی حاصل کر لی۔

181 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکا کی ٹیم اپنے 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 144 رنز بنا سکی۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

آٹھ سال بعد سری لنکن کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد

سری لنکا نے جب اپنی بلے بازی شروع کی تو آغاز میں ہی انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے چار کھلاڑی 57 رنز پر پویلین واپس لوٹ چکے تھے۔

اس کے بعد داسن شناکا نے کچھ مزاحمت دکھائی اور تین چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کرلی لیکن ان کی مزاحمت بھی 54 کے انفرادی سکور پر ختم ہو گئی۔

محمد عامر نے پاکستان میں اپنے پہلے بین الاقوامی میچ میں عمدہ کارکردگی دکھائی اور چار وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ان کے ٹی 20 کیرئیر کی بہترین بولنگ کارکردگی ہے۔ ان کے علاوہ فہیم اشرف نے بھی دو وکٹیں حاصل کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سری لنکا کی جانب سے دلشان مناویرا اور گناتھیلاکا نے اننگز کاآغاز کیا لیکن دوسرے اوور میں محمد عامر نے مناویرا کو ایک رن پر بولڈ کر دیا۔

اس کے بعد عماد وسیم نے تیسرے اوور میں سماراوکراما کو بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروا دیا جنھوں نے صرف چار رنز بنائے۔

اس کے بعد اگلے ہی اوور میں محمد حفیظ نے گناتھیلاکا کو نو رنز پر اپنی ہی گیند پر کیچ آؤٹ کر دیا۔

چوتھے آؤٹ ہونے والے بلے باز اداواتے تھے جنھیں فہیم اشرف نے 11 رنز کے سکور پر آؤٹ کر دیا۔

محمد عامر نے چاتورانگا ڈی سلوا کو آؤٹ کر کے اپنی دوسری اور مجموعی طور پر چھٹی وکٹ حاصل کی جبکہ حسن علی نے کپتان تھسارا کو آؤٹ کر کے پاکستان کو ساتویں کامیابی دلائی۔

آخری اوور میں محمد عامر نے دو گیندوں پر لگاتار دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا مگر اپنی ہیٹ ٹرک مکمل نہ کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سری لنکا کی جانب سے داسن شناکا نے عمدہ بیٹنگ کی اور 54 رنز بنائے

اس سے قبل پاکستان نے اپنے 20 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 180 رنز بنائے جس میں شعیب ملک کی دھواں دار بیٹنگ قابل ذکر رہی۔

آخری پانچ اوورز میں پاکستان نے 72 رنز سمیٹے۔

شعیب ملک کی نصف سنچری کے علاوہ عمر امین نے 45، فخر زمان نے 31 اور بابر اعظم نے ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 34 رنز بنائے۔ فہیم اشرف نے آخری تین گیندوں پر 2 چھکوں کی مدد سے 13 رنز بنائے۔

دلشان مناویرا نے فخر زمان کو 31 رنز پر آؤٹ کر کے پہلی وکٹ کی شراکت داری ختم کی۔

پاکستان کو دوسرا نقصان ہوا جب 91 کے مجموعی سکور پر عمر امین 45 رنز بنا کر ادانا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

تیسرے آؤٹ ہونے والے بیٹس مین شعیب ملک تھے جنھوں نے 24 گیندوں پر 51 رنز بنائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دلشان مناویرا نے فخر زمان کو آؤٹ کر کے پہلی کامیابی حاصل کی

مارچ 2009 میں قذافی سٹیڈیم کے باہر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سری لنکن ٹیم نے پاکستان میں کوئی میچ کھیلا ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے ابو ظہبی میں ہونے والے پہلے دونوں میچوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔

سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے سات وکٹوں سے واضح کامیابی حاصل کی تھی جبکہ دوسرا میچ سنسنی خیز رہا اور آخری اوور میں شاداب خان کی زبردست بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے جیت حاصل کی۔

ٹیسٹ میچوں میں سری لنکا نے دو صفر سے جیت حاصل کی تھی جبکہ ایک روزہ میچوں میں پاکستان نے سری لنکا کو پانچ صفر سے شکست فاش دی تھی۔

ٹی 20 سیریز کے بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

سری لنکن ٹیم کی لاہور آمد، میچ کی تیاریاں مکمل

پاکستان کی سری لنکا کو سات وکٹوں سے شکست

پاکستان کی دلچسپ مقابلے میں سری لنکا کو شکست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

واضح رہے کہ آٹھ سال قبل سری لنکا کی ٹیم پاکستان میں سیریز کھیل رہی تھی جب لاہور میں جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز میدان جاتے ہوئے سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ گو کہ اس واقعے میں کوئی کھلاڑی ہلاک نہیں ہوا تھا لیکن سری لنکا کے ایک کھلاڑی کو ٹانگ میں گولی لگی تھی جبکہ کچھ اور کھلاڑی زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے انعقاد میں تعطل آگیا تھا لیکن پہلے 2015 زمبابوے کے ٹیم اور اس کے بعد کینیا کی ٹیموں نے مختصر دورے کیے۔

اس کے بعد مارچ 2017 میں پہلے پاکستان سپر لیگ ٹورنامنٹ کا فائنل پاکستان میں منعقد ہوا جس میں چند غیر ملکی کلاڑی شامل تھے اور کچھ امید بنی کہ شاید بین الاقوامی کرکٹ کی پاکستان میں واپسی کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کے بعد ستمبر میں ورلڈ الیون نے پاکستان کا تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کے لیے دورہ کیا جس کی قیادت جنوبی افریقہ کے فاف ڈو پلیسی نے کی اور اس ٹیم میں موجودہ سری لنکن ٹیم کے کپتان تھسارا پریرا بھی شامل تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو امید ہے کہ اس میچ کے بعد دیگر ممالک کے ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں