سپر لیگ نے مجھے نیا اعتماد دیا: رومان رئیس

رومان رئیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رومان رئیس ایک موثر بولر کے روپ میں ابھر کر سامنے آئے ہیں

پاکستانی ٹیم کی ایک روزہ کرکٹ میں حالیہ شاندار کارکردگی کا سہرا نوجوان کرکٹرز کے سر باندھا جا رہا ہے جو حریف بیٹسمینوں کو سنبھلنے نہیں دے رہے۔

اگرچہ اس غیر معمولی بولنگ میں حسن علی اور شاداب خان نمایاں طور سامنے آئے ہیں لیکن ان دو کے علاوہ دیگر بولر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب رہے ہیں جن میں فہیم اشرف اور رومان رئیس قابل ذکر ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے 26 سالہ تیز بولر رومان رئیس کو اگرچہ کھیلنے کے زیادہ مواقع نہیں مل سکے اس کے باوجود وہ ایک موثر بولر کے طور پر سامنے آئے ہیں تاہم ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج خود کو مکمل فٹ ثابت کرکے ٹیم میں جگہ بنانا ہے۔

پاکستان پہلی بار عالمی ٹی 20 رینکنگ میں سرفہرست

حسن علی ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست

بولنگ کا حساب دان حسن علی

رومان رئیس اب تک چار ون ڈے اور پانچ ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کھیل چکے ہیں اور انھوں نے یہ میچ ویسٹ انڈیز، انگلینڈ، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی مختلف کنڈیشنز میں کھیلے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: 'اگر آپ انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ جو بھی کنڈیشن ہو اس سےخود کو جلد سے جلد ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں۔'

رومان رئیس انٹرنیشنل کرکٹ میں بولنگ کرتے وقت چند بنیادی باتوں پر عمل کرنا بہت ضروری سمجھتے ہیں۔

'کنڈیشنز کو سمجھنا، بیٹسمین کے مضبوط اور کمزورپہلوؤں پر نظر رکھتے ہوئے اسے بولنگ کرنا اور ہدف کا خیال رکھتے ہوئے بولنگ کرنا کیونکہ جب آپ وکٹ ٹو وکٹ بولنگ کریں گے آپ کو کامیابی ملنے کے امکانات زیادہ رہتے ہیں۔'

رومان رئیس ان کرکٹروں میں سے ایک ہیں جن کے کریئر میں پاکستان سپر لیگ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

'پاکستان سپر لیگ نے مجھے نیا اعتماد دیا ہے۔ اگرچہ میں پہلے بھی فرسٹ کلاس کرکٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ون ڈے ٹورنامنٹس کھیلتا رہا ہوں لیکن پی ایس ایل میں غیر ملکی کرکٹروں اور غیر ملکی کوچز کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑی کرکٹ کا جو دباؤ ہوتا ہے اس کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔

’اور اب جب میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہا ہوں مجھے کراؤڈ اور بڑے میچ کا پریشر محسوس نہیں ہوتا کیونکہ پی ایس ایل کا معیار انٹرنیشنل کرکٹ جیسا ہی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رومان رئیس نے وکٹ لینے کے جشن کے معاملے میں انفرادیت قائم کرنے کی کوشش کی ہے

رومان رئیس گذشتہ سال پہلی بار پاکستانی ٹیم میں منتخب ہوئے تھے لیکن ان فٹ ہونے کے سبب پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکے تھے لیکن وہ اس صورت حال سے مایوس نہیں ہوئے اور کچھ عرصے بعد ہی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

'اگر افسوس کرتا تو آج دوبارہ یہاں نہ ہوتا۔ میری کوشش ہے کہ اپنی فٹنس کا خیال رکھوں کیونکہ فٹنس کی وجہ سے ہی مجھے تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔'

آج کل کی کرکٹ میں حسن علی کا وکٹ لے کر جشن منانے کا انداز دنیا بھر میں مشہور ہو چکا ہے لیکن رومان رئیس نے بھی اس معاملے میں انفرادیت قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ وکٹ لینے کے بعد ہاتھ بلند کرتے ہوئے بالکل خاموش کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے کہیں کھو گئے ہوں اور پھر مسکرا دیتے ہیں۔

'میں نے یہ انداز پاکستان سپر لیگ میں شروع کیا تھا جسے سب نے پسند کیا تو میں نے اسے مستقل اپنا لیا۔ میں بولنگ کرتے ہوئے جارحانہ انداز دکھاتا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ جب وکٹ ملے تو پرسکون رہوں۔'

رومان رئیس نے گذشتہ دنوں قائد اعظم ٹرافی میں یو بی ایل کی جانب سے لاہور وائٹس کے خلاف میچ کی ایک اننگز میں نو وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔ ان سے سوال تھا کہ بچ جانے والی ایک وکٹ کس کے پاس چلی گئی؟

'وہ ایک وکٹ سہیل خان لے گئے جو میرے ساتھ بولنگ کر رہے تھے۔ میں انٹرنیشنل کرکٹ میں مصروف ہونے کے سبب فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیل پایا تھا۔ کافی عرصے کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی تو میں نے اپنے اندر تبدیلی محسوس کی کہ میں اب لمبی بولنگ بھی کرسکتا ہوں اس کی وجہ بہتر فٹنس ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں