سچن کی پہچان، ’10 نمبر کی جرسی اب شاید ہی کوئی دوسرا کھلاڑی پہنے‘

سچن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سچن 24 سال کے طویل کریئر کے بعد 2013 میں ریٹائر ہو گئے تھے

انڈیا میں خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ اب شاید ہی کوئی دوسرا کھلاڑی دس نمبر کی وہ جرسی پہنے گا جو سچن تندولکر کی پہچان بن گئی تھی۔

سچن کی ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ برسوں تک کسی دوسرے انڈین کھلاڑی نے دس نمبر کی جرسی نہیں پہنی۔

کرکٹروں کی دس مشہور توہم پرستیاں

وراٹ کوہلی نے سچن کا ریکارڈ برابر کر دیا

تیز ترین 9000 رنز کا ریکارڈ بھی وراٹ کوہلی کے نام

اب خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ شاید مستقبل میں کوئی دوسرا انڈین کھلاڑی کسی بین الاقوامی میچ میں دس نمبر کی جرسی نہیں پہنے گا۔

سچن تندولکر نے آخری مربتہ یہ جرسی 18 مارچ 2012 کو پہنی تھی، یہ میچ ڈھاکہ میں پاکستان کے خلاف کھیلا گیا تھا جس میں انھوں نے 52 گیندوں میں 48 رن بنائے تھے۔

سچن 24 سال کے طویل کیریئر کے بعد 2013 میں ریٹائر ہو گئے تھے۔

انڈیا میں سچن کے مداح انھیں کرکٹ کے بھگوان کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے پانچ سال بعد تک بھی کسی نے اس جرسی کو نہیں پہنا۔

لیکن اس سال ایک نوجوان فاسٹ بولر شاردل ٹھاکر کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ جب وہ کھیلنے کے لیے میدان میں اترے تو انھوں نے دس نمبر کی جرسی پہن رکھی تھی جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر انہیں خوب نشانہ بنایا گیا۔

کچھ لوگ بظاہر اس بات پر ناراض تھے کہ وہ سچن تندولکر کی پہچان بن جانے والی جرسی کیسے پہن سکتے ہیں۔

ٹوئٹر پر سچن کے ایک مداح نے لکھا کہ’آپ یہ جرسی کیسے پہن سکتے ہیں، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ یہ ہمارے بھگوان سچن کی جرسی ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سچن تندولکر نے آخری مربتہ 10 نمبر جرسی 18 مارچ 2012 کو پہنی تھی

کچھ لوگوں نے لکھا کہ’ دس صرف ایک نمبر ہی نہیں ہے، 90 کے عشرے میں اس نمبر سے ہماری بہت سے یادیں جڑی ہوئی ہیں۔‘ اس کے بعد اپنے اگلے میچ میں شاردل نے 54 نمبر کی جرسی پہنی۔

انڈین کرکٹ کے بارے میں مزید پڑھیے

پرتھوی شا: پانچ میچوں میں چار سنچریاں

کرکٹ کی تاریخ میں دھونی کی شمولیت یقینی کیوں ہے؟

بی سی سی آئی کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کس نمبر کی جرسی پہنی جائے، یہ کھلاڑیوں کا انفرادی فیصلہ ہوتا ہے، کسی کھلاڑی کو کوئی خاص جرسی پہننے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

بی سی سی آئی نے جرسی ریٹائر کرنے کا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا ہے، یہ بس کھلاڑیوں کی اپنی رائے ہے کہ وہ یہ جرسی نہیں پہنیں گے۔ اور یہ بھی ہے کہ آپ نہیں چاہتے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا جائے، جیسا کہ شاردل ٹھاکر کے ساتھ ہوا۔

انڈین پریمئر لیگ میں سچن تندولکر ممبئی انڈینز کے لیے کھیلتے تھے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ممبئی انڈینز نے بھی دس نمبر کی جرسی ریٹائر کر دی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں