ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں فاسٹ بولنگ کا قحط

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سلو اوور ریٹ کی پاداش میں کپتان جیسن ہولڈر کو ایک میچ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

جس وقت ہملٹن میں مچل سینٹنر نے یکے بعد دیگرے کمنز اور روچ کو آوٹ کیا، تب یہ پچھلے ایک سال میں پہلا موقع تھا کہ ویسٹ انڈیز کسی ٹیسٹ سیریز کا ایک بھی میچ نہ جیت پایا ہو۔ ورنہ پچھلے سال اکتوبر میں پاکستان کے خلاف آخری ٹیسٹ جیتنے سے جو سفر شروع ہوا تھا، اس کے بعد سے اب تک کوئی سیریز ایسی نہیں گزری کہ ویسٹ انڈیز کو یکسر خالی ہاتھ لوٹنا پڑا ہو۔

ہملٹن میں ویسٹ انڈیز کی مشکلات کا آغاز تو میچ شروع ہونے سے پہلے ہی ہو گیا تھا۔ سلو اوور ریٹ کی پاداش میں کپتان جیسن ہولڈر کو ایک میچ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز

بنگلہ دیش پریمیئر لیگ فائنل میں کرس گیل کے 18 چھکے

اس کے بعد یہ امید کم ہی تھی کہ ہولڈر کی کپتانی میں پہلا میچ ہارا ہوا یہ نوآموز یونٹ کسی نئے کپتان کی قیادت میں کوئی معجزہ کر پائے گا۔ لیکن گراونڈ میں جس طرح کی کارکردگی دیکھنے کو ملی، وہ ویسٹ انڈین کلچر کے تناظر میں خاصی مایوس کن تھی۔

چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی فتح کے بعد اظہر محمود نے کہا تھا کہ بیٹسمین میچ جتواتے ہیں جبکہ بولرز ٹورنامنٹ جتواتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے پاس فی الوقت نہ تو ایسے بیٹسمین ہیں جو میچ جتوا سکیں اور نہ ہی ایسے بولر جو کسی بھی فتوحات کے سلسلے کو دراز کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کورٹنی والش اور کرٹلی امبروز کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے اب تک پیس اٹیک میں کوئی ایسی موثر جوڑی

یہ امر ویسٹ انڈین کرکٹ کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ کورٹنی والش اور کرٹلی امبروز کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے اب تک پیس اٹیک میں کوئی ایسی موثر جوڑی نہیں آئی جو امید کی کرن ہی جگا پائے۔ ایسا نہیں ہے کہ گیبریل اور کمنز ورلڈ کلاس بولرز نہیں ہیں۔ لیکن ہملٹن کی دونوں اننگز ہی نہیں، ویلنگٹن میں بھی ویسٹ انڈین بولنگ کا اکانومی ریٹ نہایت مایوس کن رہا۔

الزاری جوزف میں کافی پوٹینشل تھا مگر ان کو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے تیار ہونے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ ان کو جلدی لانے سے ویسٹ انڈیز کی مشکلات کا خاتمہ اور بعید ہو گیا۔ روی رامپال کو تو ایک طرح سے ضائع ہی کر دیا گیا۔ گیبریل گراؤنڈ میں پوری جان مارتے ہیں لیکن ابھی تک تو انہیں یہی نہیں پتا کہ اگلی سیریز میں دوسرے اینڈ سے کون ان کا ساتھ دے گا۔

بہر طور ویلنگٹن کی نسبت ہملٹن میں ویسٹ انڈیز نے بہتر کارکردگی دکھائی لیکن پہلی شام کو ہی گیبریل یہ اعتراف کرتے نظر آئے کہ وہ پچ کو صحیح طور پر استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب کیوی اٹیک کی پرفارمنس دیکھیے تو اعدادوشمار ہی نہیں، کپتان ولیمسن بھی اپنے فاسٹ بولرز کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔

اس کے برعکس ہولڈر کی جگہ قائم مقام کپتان بریتھ ویٹ کا کہنا تھا کہ ان کے بلے باز خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے، اس لیے ناکامی ان کے حصے آئی. لیکن بولنگ کے بارے کچھ کہنے سے انھوں نے گریز ہی کیا۔ حالانکہ کیوی وکٹوں کے اعتبار سے ویسٹ انڈین بیٹنگ نے کچھ برا نہیں کیا۔

لیکن بولنگ کے اعدادوشمار دیکھیں تو کیوی وکٹوں کے حساب سے یہ کسی ورلڈ کلاس اٹیک کی کارکردگی نظر نہیں آتی۔ ہملٹن سے قطع نظر، ویلنگٹن میں ہی دیکھیں تو 148 اوورز پھینکنے کے بعد بھی ہولڈر کا اٹیک دس وکٹیں نہیں لے پایا۔ ہملٹن کی پہلی اننگز میں گیبریل نے چار وکٹیں تو لی مگر اکانومی ریٹ پانچ کو چھونے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ویسٹ انڈیز نے پچھلے ایک سال میں ٹیسٹ کرکٹ میں نمایاں بہتری دکھائی ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایک متوازن کمبینیشن تشکیل دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اس توازن کی کامیابی میں بہت حد تک تو ویسٹ انڈین بورڈ کے فیصلوں کا بھی عمل دخل ہے لیکن اصل بحران فاسٹ بولنگ کا قحط ہے۔

اس قحط کا میدان میں جو نقصان نظر آ رہا ہے وہ تو اپنی جگہ، ڈریسنگ روم کے مورال کا کیا کہیے جس کی کبھی شناخت ہی فاسٹ بولنگ ہوا کرتی تھی۔ جب کوئی ٹیم میدان میں اٹیک کے لیے اترتی ہے تو اپنے درمیان کوئی ایسا مرکزی کردار ڈھونڈتی ہے جس کے گرد پوری ٹیم اپنا سر اونچا کر کے چل سکے. فی الوقت ویسٹ انڈین ڈریسنگ روم میں کوئی ایسا مرکزی کردار نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں