کرکٹ: نوجوانوں کی گلی محلے کی کرکٹ اب ٹی ٹین کے نام سے بین الاقوامی سٹیڈیم میں کھیلی جائے گی

پاکستان میں کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹورنامنٹ میں پاکستان اور دیگر ممالک کے کئی سٹار کرکٹرز حصہ لے رہے ہیں

کرکٹ نے شائقین کی توجہ حاصل کرنے کے کئی مراحل طے کیے ہیں۔

دن کی کرکٹ رات میں بدلی۔ گیند اور پیرہن کے رنگ بدلے اور دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مصداق پانچ دن کی کرکٹ ایک دن کی کرکٹ میں تبدیل ہوئی پھر 50 اوورز سے معاملہ 20 اوورز تک آ گیا۔

اور اب ایک قدم مزید آگے بڑھتے ہوئے 10 اوورز کی کرکٹ سب کے سامنے آ رہی ہے۔

مزید پڑھیے

ٹی ٹوئنٹی کے بعد اب ٹی ٹین لیگ

پاکستان سپر لیگ کے چار میچ کراچی میں ہوں گے

پی ایس ایل میں شامل ہونے والے نئے چہرے کون ہیں؟

10 اوورز کی کرکٹ کو عام طور پر گلی محلے کا کھیل سمجھا جاتا ہے لیکن اب اس گلی محلے کی کرکٹ کو کھیل کے مروجہ قواعد وضوابط کے مطابق سٹیڈیم میں لایا گیا ہے۔

10 اوورز کی اپنی نوعیت کی پہلی ٹی ٹین لیگ جمعرات سے شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں شروع ہو رہی ہے جس میں چھ ٹیمیں پنجابی لیجنڈز، بنگال ٹائیگرز، کیرالہ کنگز، مراٹھا عربیئنز، پختونز اور ٹیم سری لنکا شامل ہیں۔

اس ٹی ٹین لیگ کے صدر سلمان اقبال کا کہنا ہے کہ آج کل نوجوان نسل انٹرنیٹ کی دلدادہ بن چکی ہے وہ عام طور پر فٹبال اور باسکٹ بال میں دلچسپی رکھتی ہے جن کا دورانیہ 90 منٹ ہوتا ہے۔

’نوجوانوں کے پاس پورے دن کی کرکٹ کے لیے وقت نہیں ہے اور چونکہ یہ ٹی ٹین کرکٹ بھی ڈیڑھ گھنٹے دورانیے کی ہے لہٰذا مجھے یقین ہے کہ شائقین اسے پسند کریں گے‘۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق کے خیالات بھی اسی طرح کے ہیں جو اس ٹی ٹین لیگ کی ٹیم پنجابی لیجنڈز کی قیادت کر رہے ہیں۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کئی تجربات کیے جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں گلی محلوں میں کم اوورز کی کرکٹ کھیلی جاتی ہے

’یہ ٹی ٹین کرکٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو ان لوگوں کے لیے بہترین تفریح ثابت ہوگی جو تین گھنٹے کے ٹی ٹوئنٹی میں بھی اب اکتاہٹ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اس طرز کی کرکٹ کا اصل مقصد یہی ہے کہ شائقین کو بڑی تعداد میں سٹیڈیم میں لایا جائے۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ جو بھی تبدیلی آتی ہے وہ پہلے آزمائشی بنیادوں پر ہوتی ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگوں کی اس میں دلچسپی کتنی ہے اور اگر یہ تجربہ کامیاب رہا اور شائقین میں اسے پذیرائی حاصل رہی تو ایک وقت آئے گا کہ آئی سی سی بھی اسے تسلیم کرے گا۔

ٹی ٹین کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی کا من پسند فارمیٹ سمجھا جا رہا ہے۔

خود شاہد آفریدی اس ایونٹ کے لیے خاصے پرجوش دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ مزید ایک سال تک ٹی ٹوئنٹی لیگس کھیل کر کریئر کا اختتام کر لیں گے لیکن اس ٹی ٹین کے آنے کے بعد لگ رہا ہے کہ ان کے لیے کرکٹ کو خیرباد کہنا آسان نہ ہو گا۔

شاہد آفریدی ٹی ٹین میں حصہ لینے والی ٹیم پختونز کے کپتان ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اس لیگ میں بنگال ٹائیگرز کے کپتان ہیں۔

سرفراز احمد بھی 10 اوورز کی اس لیگ کو شائقین کے لیے ایک بہترین تفریح سمجھتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ نوجوان کرکٹرز کو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ سے اپنی توجہ ہرگز مت ہٹائیں جو درحقیقت اصل کرکٹ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہد آفریدی ٹی ٹین میں حصہ لینے والی ٹیم پختونز کے کپتان ہیں

اس ٹی ٹین لیگ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی منظوری حاصل ہے۔

آئی سی سی کے قواعد وضوابط کے تحت اگر کوئی ایونٹ اس کے رکن بورڈ کے تحت ہو رہا ہو اور کم ازکم دو کرکٹ بورڈز اس کی حمایت کر رہے ہوں تو وہ آئی سی سی کا منظور شدہ ایونٹ کہلاتا ہے۔

واضح رہے کہ ٹی ٹین لیگ کا میزبان امارات کرکٹ بورڈ ہے اور اسے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے کرکٹ بورڈز کی حمایت حاصل ہے۔

اس ٹی ٹین لیگ میں شریک سری لنکن ٹیم خود سری لنکن کرکٹ بورڈ نے منتخب کی ہے۔ اس فرنچائز لیگ کے مالکان متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی اور پاکستانی ہیں۔

اس لیگ میں پاکستان اور دیگر ممالک کے کئی سٹار کرکٹرز حصہ لے رہے ہیں جن کا انتخاب آئی پی ایل اور پی ایس ایل کی طرز پر ڈرافٹنگ کے ذریعے کیا گیا ہے۔

غیر ملکی کرکٹرز میں انگلینڈ کے ون ڈے کپتان اوئن مورگن، الیکس ہیلز، بھارت کے وریندر سہواگ، ویسٹ انڈیز کے ڈیرن سیمی، کارلوس بریتھ ویٹ، ڈیرن براوو، ڈوئن براوو، بنگلہ دیش کے شکیب الحسن، تمیم اقبال اور نیوزی لینڈ کے لیوک رانکی قابل ذکر ہیں۔

سابق کرکٹرز وسیم اکرم، وقار یونس، معین خان اور مشتاق احمد اس ایونٹ میں کوچز کے روپ میں نظر آئیں گے۔

اسی بارے میں