چھکے جو کرکٹ کی تاریخ میں یادگار رہیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرکٹ جینٹلمین کے کھیل سے اب ’کھل کر مارنے والوں‘ کے کھیل میں داخل ہو چکا ہے۔ آج کی کرکٹ میں آہستہ کھیلنے کی شاید گنجائش ہی نہیں رہی

کرکٹ کی تاریخ میں ایک سے بڑھ کر ایک بلے باز آئے ہیں اور انھوں نے اپنی بیٹنگ کا لوہا منوایا ہے۔ سر گیری سوبرز سے لے کر ویراٹ کوہلی تک ایک لمبی لائن ہے جن کو گیند کرانے سے پہلے بولر ایک مرتبہ سوچتے ضرور ہوں گے۔ لیکن تاریخ میں ایسے بھی بلے باز آئے جنھوں نے کریز پر آتے ہی بلے کو گھمانا شروع کیا اور گیند زمین پر آنے کو ترستی تھی۔

ایسے بلے بازوں کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن شاہد شاہد آفریدی اور کرس گیل ان میں سرِ فہرست ہیں۔ حال ہی میں بنگلہ دیش میں کرس گیل نے ایک مرتبہ پھر بتایا کہ ابھی ان کی بڑی کرکٹ باقی ہے۔

گیری سوبرز، تاریخ کے پہلے ’چھکے باز‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سر گیری سوبرز بلاشبہ تاریخ کے سب سے اچھے آل راؤنڈرز میں سے ایک ہیں

کرکٹ کی تاریخ میں جس بیٹسمین نے سب سے پہلے ایک اوور میں چھ چھکے مارے وہ ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر سر گیری سوبرز تھے۔

انھوں نے سنہ 1968 میں یہ کارنامہ برطانیہ کی کاؤنٹی سوانسی کے سٹیڈیم میں گلیمورگن کی ٹیم کے خلاف کھیلتے ہوئے سرانجام دیا۔ وہ نوٹنگھم شائر کے کپتان تھے اور ان کا نشانہ بائیں ہاتھ سے سپن بولنگ کروانے والے گلیمورگن کے مالکم نیش بنے۔

اس گیند کو جسے مار مار کر سوبرز نے تباہ کر دیا تھا سنہ 2006 میں 26 ہزار چار سو پاؤنڈز میں نیلام کیا گیا، اگرچہ اس بات پر شکوک ہیں کہ یہ وہ ہی گیند تھی جس کی 1968 میں درگت بنی تھی۔

ہرشیل گبز: ورلڈ کپ میں چھ چھکے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہرشیل گبز نے عالمی کپ میں ایک ہی اوور میں چھ چھکوں کا ریکارڈ قائم کیا

کرکٹ کے میچز اور کاؤنٹی کرکٹ میں چھکے تو لگتے رہے تھے لیکن ابھی تک یہ کارنامہ کسی نے کرکٹ کے ورلڈ کپ میں سرانجام نہیں دیا تھا۔

سنہ 2007 میں یہ بھی ہو گیا۔ سنہ 2007 میں ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کے سٹائلش بیٹسمین ہرشیل گبز نے نیدرلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے ایک ہی اوور میں چھ چھکے لگا کر یہ اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

انھوں نے یہ کارنامہ میچ کے 30 ویں اوور میں سر انجام دیا۔ یہ اوور نیدرلینڈ کے سپنر ڈان وان بنج کروا رہے تھے۔ لانگ آن، لانگ آف، لانگ آف، مڈ وکٹ، لانگ آف اور مڈ وکٹ پر ہر طرف چھکے لگائے گئے۔

ویسٹ انڈیز کے سر گیری سوبرز اور انڈیا کے روی شاستری کے بعد وہ پہلے بیٹسمین تھے جنھوں نے یہ اعزاز حاصل کیا، لیکن ان دونوں نے ایسا فرسٹ کلاس کرکٹ میں کیا تھا۔ گبز نے یہ کارنامہ ورلڈ کپ میں سر انجام دیا۔

پہلی مرتبہ ٹی 20 میں یوراج کے چھ چھکے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یوراج سنگھ کے سامنے کوئی بولر بھی خطرناک نہیں ہوتا۔ وہ سٹائل اور طاقت کا مجموعہ ہیں

انڈیا کے یوراج سنگھ پہلے بیٹسمین بنے جنھوں نے ٹی 20 کے میچ میں ایک ہی اوور میں چھ چھکے لگانے کا اعزاز حاصل کیا۔ انھوں نے ایسا انگلینڈ کے خلاف سٹوارٹ براڈ کے اوور میں کیا۔ وہ کھیل کے اس فارمیٹ میں بین الاقوامی کرکٹ میں چھ چھکے لگانے والے پہلے اور دنیا کے دوسرے بیٹسمین بنے جو ایسا کر پائے۔

میچ کے 19 ویں اوور میں سٹوارٹ براڈ بیچارے یوراج کو تیز سے تیز گیند کرانے کی جستجو میں رہے اور یوراج سنگھ بہت تحمل سے ہر بارہ گیند کو باؤنڈری سے پار پھینکتے رہے۔

میانداد شارجہ کے فاتح

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جاوید میانداد اپنے وقت کے سب سے ذہین بیٹسمینوں میں سے ایک تھے

18 اپریل 1986 کو شارجہ میں میانداد کا لگایا ہوا چھکا وہ چھکا ہے جو پاکستان اور انڈیا میں کرکٹ کے مداح کبھی نہ بھول پائیں گے۔

آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں آخری گیند پر پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے چار رن درکار تھے۔ میانداد کے سامنے انڈیا کے فاسٹ بولر چیتن شرما گیند کرا رہے تھے۔ میانداد نے بڑے تحمل سے فیلڈ کو دیکھا، بلکہ ضرورت سے زیادہ وقت لیا اور بولر کی طرف نظریں مرکوز کیں۔

چیتن شرما کی یہ آخری گیند سیدھی میانداد کے بلے پر آئی اور انھوں نے بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے اسے مڈ وکٹ کی طرف گراؤنڈ سے باہر پھینک دیا۔ چیتن شرما نے بعد میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس میچ کے آخری اوور میں ان کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے دو مرتبہ سوچا کہ وہ اب کون سی گیند کریں گے۔ وہ رن اپ میں رکے بھی اور دماغ میں فیصلہ بدلہ لیکن جب گیند کی تو وہ سیدھی میانداد کے بلے پر آئی اور یوں میچ کا اختتام ہوا۔

وریندر سہواگ ۔ چھکا تو میں ماروں گا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وریندر سہواگ اگر لمبی اننگز بھی کھیلتے تو کھیلتے جارحانہ انداز سے ہی

وریندر سہواگ انڈیا کے پہلے بیٹسمین تھے جنھوں نے ٹرپل سنچری بنائی اور وہ اس وقت جب ان کے رول ماڈل سچن تندولکر ان کے ساتھ کریز کے دوسری طرف نان سٹرائیکرز اینڈ پر کھڑے تھے۔ انھوں نے ثقلین مشتاق کو چھکا مار کر یہ کارنامہ انجام دیا۔

انھوں نے 2014 میں جریدے آل آؤٹ کرکٹ سے بات کرتے کہا تھا کہ ’جب میں 295 رنز پر تھا تو میں نے سچن کو بتایا کہ چاہے گیند سلو ہو، تیز یا جو مرضی ہو، میں آگے نکل کر چھکا لگاؤں گا۔‘ اور انھوں نے ایسا ہی کیا اور اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی تیز ترین ٹرپل سنچری بنائی۔ اس کے تین سال بعد انھوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلتے ہوئے دوسری ٹرپل سنچری بنائی جو کہ آج تک کی تیز ترین ٹرپل سنچری ہے۔

شاہد آفریدی ۔ بولروں کے چھکے چھڑانے والے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہد آفریدی کریز پر آتے ہی چھکے سے آغاز کرنے کی کوشش کرتے تھے اور یا تو شروع ہی میں بولر پر حاوی ہو جاتے یا پھر پویلین کی طرف جاتے ہوئے نظر آتے

شاہد آفریدی کو آپ جیسا بھی بیٹسمین سمجھیں لیکن جب تک وہ کریز پر رہتے ہیں تو بولروں اور شائقین کے چھکے چھڑاتے رہتے۔

چھکوں کے حوالے سے ان کے کئی ریکارڈ ہیں لیکن سب سے پہلے تو ان کا یہ ریکارڈ کہ انھوں نے ایک روزہ میچوں میں دنیا میں سب سے زیادہ چھکے لگائے ہیں۔ جی ہاں ان کے چھکوں کی تعداد 351 ہے جو دوسرے نمبر پر آنے والے بیٹسمین سے 81 چھکے زیادہ ہے۔

اسی طرح انھوں نے ٹی 20 میں 73 اور ٹیسٹ کرکٹ میں 52 چھکے لگائے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کے ان تینوں فارمیٹس میں ان کے چھکوں کی کل تعداد 476 ہو جاتی ہے جو کہ شاید کسی بھی بیٹسمین سے زیادہ ہے۔

شائقین کو ان کے بہت سے چھکے یاد ہوں گے لیکن مجھے میلبرن کے سٹیڈیم میں ان کا وہ چھکا یاد ہے جس پر انھیں 12 رنز ملے تھے۔ ان کا شکار بولر فلیمنگ تھے۔

اس سٹیڈیم کے اوپر چھت تھی اور سکور اس طرح رکھا گیا تھا کہ اگر کوئی سیدھا چھت کو مارے گا تو اسے 12 رنز ملیں گے۔ آفریدی کے علاوہ اور کون یہ کام کر سکتا تھا۔ امپائر ہولڈر نے اس کا بڑا عجیب سگنل دیا۔ انھوں نے دونوں ہاتھوں کی کلائیوں کو جوڑ کر ایک کراس بنایا جس کا مطلب تھا 12 رنز یا شاید یہ ہو کہ بھئی ’حد ہو گئی اب اس کو پکڑ لو‘۔

شائقین اس پر خوب ہنسے۔ آفریدی کے پاس یہ بھی ریکارڈ ہے کہ انھوں نے دنیا کا سب سے لمبا چھکا مارا تھا جس میں گیند 158 میٹر دور گیا تھا۔ شاہد آفریدی کو آپ جو بھی کہیں پر آپ انھیں اینٹرٹینمنٹ کے سو نمبر دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہاں کبھی کبھار جان بھی نکال لیتے ہیں اپنے مداحوں کی۔

کرس گیل ۔ گیند کا دشمن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرس گیل

ذرا کرس گیل کے ریکارڈ پر ایک نظر دوڑائیں۔ ٹی ٹوئنٹی میچ میں سب سے زیادہ 18 چھکے، ٹی ٹوئنٹی کا سب سے زیادہ 175 ناٹ آؤٹ سکور، ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ یعنی کہ 20 سینچریاں اور ٹی ٹوئنٹی کی ہی تیز ترین سینچری یعنی کہ 30 گیندوں پر سو رنز۔ ہے کوئی مقابلہ؟

کرس گیل ہی وہ واحد کھلاڑی ہے جنھوں نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سینچری، ایک روزہ میچ میں ڈبل سینچری اور ٹیسٹ میچ میں ٹرپل سینچری بنائی ہے۔

بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بیٹسمین کرس گیل نے چھکے مارنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔ رنگپور کی نمائندگی کرتے ہوئے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے فائنل میں کرس گیل نے 69 گیندوں پر 18 چھکوں کی مدد سے 146 رنز سکور کیے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ اس طرح 38 سالہ کرس گیل نے 2013 میں انڈین پریمیئر لیگ میں بنایا ہوا اپنا ہی 17 چھکوں کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں