کیا ایشز ایک صدی اور زندہ رہ پائے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پچھلے سال جب پاکستان آسٹریلیا کے دورے پہ ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ ہوا تو ایئن چیپل نے کہا کہ اگر ہر بار پاکستان کو آسٹریلیا آ کر ہارنا ہی ہوتا ہے تو کرکٹ آسٹریلیا کو چاہیے کہ وہ انہیں مدعو ہی نہ کیا کرے۔ اس بیان پہ بہت لے دے ہوئی مگر اس لے دے سے حقیقت کی تلخی بہرحال کم نہ ہو پائی۔

مصباح الحق نے بھی کرکٹ آسٹریلیا کی ویب سائٹ کے لیے لکھے گئے مضمون میں اس بیان کو ناقابل جواز قرار دیا۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آخر آسٹریلوی گراونڈز پہ پاکستان کی پے در پے شکست کا سلسلہ کبھی تھمے گا بھی؟ تو مصباح کا کہنا تھا کہ اس کا ایک ہی حل ہے کہ جونیئر ٹیموں کو زیادہ سے زیادہ آسٹریلیا کے دورے کروائے جائیں تاکہ وہ ان کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو پائیں۔

کیا یہ 21ویں صدی کی بہترین گیند تھی؟

ایشز سیریز: ’انڈین بکیز کے رابطے کا کوئی ثبوت نہیں ملا‘

’آپ کا مقابلہ بارہویں کھلاڑی سے نہیں‘

اب جب کہ ایک اور ایشز سیریز دو میچ پہلے ہی اسی انجام پہ منتج ہو چکی ہے جس کا امکان بھی تھا اور خدشہ بھی، تو اگرچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جب ہر بار میزبان ملک نے ہی جیتنا ہوتا ہے تو کیسا مقابلہ اور کہاں کی ریت روایت۔ لیکن یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر اس دہائیوں پرانی جنگ کا مستقبل کیا ہے۔

اس صدی کے آغاز سے اب تک یہ دسویں ایشز سیریز ہے۔ ان دس سیریز میں صرف دو بار ایسا ہوا ہے کہ میزبان ٹیم کو شکست ہوئی ہو۔ 2001 میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرایا تھا جبکہ 2010 میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کے ہوم گراونڈ پہ ایشز کی ٹرافی اپنے نام کی۔ ان دو مواقع کے علاوہ باقی آٹھوں بار ٹرافی میزبان ملک ہی نے سمیٹی۔

انگلینڈ اور آسٹریلیا کی وکٹوں کا مزاج یکسر مختلف ہے۔ انگلش وکٹوں پہ سیمرز راج کرتے ہیں جبکہ آسٹریلین کنڈیشنز میں بنیادی کردار باؤنس کا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس فرق کو یوں سمجھیے کہ وہی مصباح الحق اور یونس خان جو دنیا بھر کی کنڈیشنز میں سپن کے بہترین کھلاڑی ہیں، وہ آسٹریلیا میں نیتھن لیون سے اوسط سپنر کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ یاسر شاہ، جو بلاشبہ دنیا کے بہترین سپنر ہیں، آسٹریلیا سے اپنے کریئر کے بدترین اعدادوشمار لے کر لوٹے۔

اس بار کی ایشز میں پیس ڈیپارٹمنٹ میں انگلینڈ کا تمام تر انحصار اینڈرسن اور براڈ کی جوڑی پہ تھا لیکن تاحال دونوں کی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی ہے۔ اسی طرح سے معین علی بھی، جو کہ انگلش کنڈیشنز میں اچھے سپنر ہیں، ابھی تک خود سے ہی الجھتے دکھائی دیے ہیں۔

پچھلی ایشز کے دوران آسٹریلین بولر انگلش کنڈیشنز میں سر پیٹتے رہ گئے کیونکہ گیند کو سیم کرنا نہ تو ان کے مزاج کا خاصہ ہے نہ ہی گرومنگ کا حصہ۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ نہ صرف ایک بار پھر فتح میزبان ملک کی جھولی میں گری، بلکہ پچھلی ایشز کے ہیرو مچل جانسن بھی دلبرداشتہ ہو کر ٹوئر کے دوران ہی ریٹائر ہو گئے۔

اس بار اگرچہ سارا شور سٹوکس کی عدم دستیابی کے گرد رہا لیکن یہ طے ہے کہ سٹوکس کی موجودگی سے بھی شاید مارجن میں کچھ فرق آ جاتا لیکن نتیجہ بہرحال کچھ ایسا ہی رہتا۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو دنیا بھر کے تمام دوطرفہ ٹیسٹ مقابلے بے معنی سے نظر آتے ہیں کیونکہ جب پہلے ہی معلوم ہو کہ آسٹریلیا عرب امارات میں نہیں جیت سکتا اور انگلینڈ آسٹریلیا میں، تو پھر ہاہاکار کیسی۔

لیکن ایشز کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ ایشز ٹیسٹ کرکٹ اور اس سے جڑے کلچر کا حتمی استعارہ ہے۔ دنیا کی کسی بھی دو طرفہ ٹیسٹ سیریز کا نہ تو اس قدر انتظار کیا جاتا ہے اور نہ ہی ایسا اہتمام۔ سال سال بھر پہلے تیاریاں شروع کر دی جاتی ہیں، ایک بھرپور تشہیری مہم چلتی ہے اور گراونڈ میں اترنے سے پہلے ہی دونوں ممالک کا میڈیا بھی آپس میں ایک بھرپور جنگ لڑ چکا ہوتا ہے۔

ایسے میں اگر شماریات کے اصول امکانیات کے تحت 80 فیصد مواقع پہ فیورٹ کا تعین آغاز سے کہیں پہلے اور اتنی آسانی سے ہی کیا جا سکتا ہو تو اس کا واضح پیغام یہ ہے کہ سلیکشن کے موجودہ معیارات میں کہیں نہ کہیں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

انگلینڈ کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ بھلے اینڈرسن اور براڈ سیمنگ کنڈیشنز کے آزمودہ ترین بولر ہیں، لیکن کیا آسٹریلیا کی باؤنسی کنڈیشنز کے لیے یہ موزوں ہوں گے بھی یا نہیں۔ اسی طرح سے آسٹریلیا اگلی بار جب ایشز کا چیلنج لیے انگلینڈ کے لیے روانہ ہو تو ان پہلوؤں کو دیکھ کر نکلے۔ کہیں ایسا نہ ہو ایک اور دلبرداشتہ مچل جانسن سامنے آئے۔

ایشز کے بقا کے لیے ٹوئرنگ سائیڈز کو مروجہ کرکٹنگ روایات سے ہٹ کر بولڈ فیصلے کرنا ہوں گے۔ سلیکشن کے معیارات پہ نظرثانی کرنا ہو گی کیونکہ ایشز کی حرارت سے نمٹنے کے لیے جس تجربے اور مہارت کے جوڑ کو ابھی تک آزمایا گیا ہے، وہ بے ثمر ثابت ہوا ہے۔ الیسٹر کک، جیمز اینڈرسن اور سٹورٹ براڈ سے جو نتائج متوقع تھے، وہ ابھی تک دھندلکے میں گم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کرکٹ ہی نہیں، ہر کھیل کی کامیابی اور اس کا مستقبل غیر یقینی کے عنصر سے وابستہ ہوتا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل تو پہلے ہی کئی سوالیہ نشانوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایشز کے ساتھ جڑی روایت اور اس مقابلے کی سنسنی ہی ہے جس کے سبب قریب ڈیڑھ صدی بعد بھی ایشز زندہ ہے۔ لیکن اگر موجودہ معیارات میں بدلاؤ نہ لایا گیا، تو کیا ایشز ایک صدی اور زندہ رہ پائے گی؟

اس سوال کا جواب دیا جانا ضروری ہے کیونکہ صرف ایشز ہی نہیں، ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل بھی اسی سوال سے جڑا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں