پاکستان: ہراساں کیے جانے کا الزام لگانے والی ہاکی کی دو کھلاڑیوں پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ SYEDA SADIA

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ان دو خواتین کھلاڑیوں پر ایک، ایک سال کی پابندی عائد کر دی ہے جنھوں نے ہیڈ کوچ پر جسمانی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے خواتین کھلاڑیوں سیدہ سعدیہ اور اقرا جاوید کو ’بے بنیاد‘ الزامات لگانے کا قصوروار اور ہیڈ کوچ سعید خان کو بے قصور قرار دیا تھا اور پاکستان ہاکی فیڈریشن سے سفارش کی تھی کہ دونوں خواتین کھلاڑیوں پر ایک، ایک سال کی پابندی لگائی جائے جسے منظور کر لیا گیا ہے۔

ہاکی فیڈریشن کے سربراہ شہباز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ تحقیقات کرنے والی کمیٹی میں شامل تمام ممبران خواتین تھیں اور وہ ان کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ سے وہ مطمعئن ہیں۔

غیر ملکی ہاکی لیگ کھیلنے والی پہلی پاکستانی خاتون

شہباز احمد نے کہا کہ 'میں نے ایک اور کمیٹی بنائی تھی جس میں صرف خواتین ممبران تھیں اور کوئی مرد نہیں تھا تاکہ کسی قسم کے امتیازی سلوک کی بات نہ ہو سکے۔ وہ لڑکیاں اپنے الزامات کے ٹھوس ثبوت بھی نہ دے سکیں بلکہ عینی شاہدین نے ان کی بات کی تائید بھی نہیں کی‘۔

خاتون کھلاڑی سیدہ سعدیہ نے صوبہ پنجاب کے وزیر کھیل کو تحریری طور پر اپنی شکایت سے آگاہ کیا تھا جس میں انھوں نے الزام لگایا تھا کہ 'ہیڈ کوچ سعید خان نے مجھے رات کے وقت سٹیڈیم سے جانے کو کہا، بدتمیزی کی اور پیچھا کرتے ہوئے میرے کمرے تک پہنچ گئے، وہاں میرا بازو پکڑ لیا اور چند خواتین کھلاڑیوں کو جو میری مدد کو آرہی تھیں وہیں روک دیا۔'

اس تحریری شکایت میں اقرا جاوید کا نام بطور عینی شاہد لیا گیا تھا۔

تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن کی خواتین وِنگ کی انچارج تنزیلہ چیمہ نے جو کمیٹی کی ممبر بھی تھیں اور کمیٹی کے سامنے بطور گواہ اور عینی شاہد پیش ہوئیں، کمیٹی کو بتایا کہ انھوں نے ہیڈ کوچ کو جسمانی تشدد کرتے نہیں دیکھا لہذا خواتین کھلاڑیوں کے الزامات ’بے بنیاد‘ ہیں۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے ایک، ایک سال کی پابندی کے فیصلے اور تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو کھلاڑی سیدہ سعدیہ نے مسترد کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'یہ فیصلہ کیسے کر لیا گیا؟ ہمیں دو مرتبہ تحقیقات کے لیے بلایا ہم نے سب بتایا اور وہاں سر سعید (ہیڈ کوچ) کو تو بلایا ہی نہیں گیا۔ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں؟ یہ تو سراسر زیادتی ہو رہی ہے پلیئرز کے ساتھ‘۔

سعدیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف 'جہاں تک ان کے گھر والے مدد کریں گے جائیں گی‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں