جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو مذاکرات کی پیشکش

سرمائی اولمپکس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو سنہ 2018 کے سرمائی اولمپکس میں ممکنہ شرکت پر تبادلۂ خیال کے لیے نو جنوری کو منعقدہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

جنوبی کوریا کی جانب سے یہ پیشکش شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کی جانب سے دیے جانے والے بیان کے بعد سامنے آئی ہے۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے کچھ عرصہ قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کے شہر پیونگچین میں آئندہ برس فروری سے منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس میں شرکت کے لیے اپنی ٹیم کو بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اس امکان پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے ’فوری طور پر ملاقات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

شمالی کوریا کے دو اہلکاروں کے خلاف تازہ امریکی پابندیاں

شمالی کوریا پر نئی پابندیاں 'جنگ کے مترادف'

'شمالی کوریا امریکہ کے لیے حقیقت میں ایک بڑا جوہری خطرہ بن گیا ہے'

شمالی کوریا کا ایک اور فوجی بھاگ کر جنوبی کوریا پہنچ گیا

دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ اس موقع کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

صدر مون نے منگل کو کابینہ کے اجلاس کے موقع پر یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام کسی بھی کھیل کی بات چیت کا پس منظر ہو گا۔

انھوں نے مزید کہا ’شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات کی بہتری شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو حل کرنے سے الگ نہیں ہو سکتی ہے، لہذا شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کو اس کے بارے میں اتحادیوں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ قریبی تعاون کرنا چاہیے۔‘

جنوبی کوریا کے وزیر نے منگل کو ایک تجویز دی کہ دونوں ممالک کے نمائندے نام نہاد ’ٹروس ویلج‘ میں ملاقات کر سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا ’ہمیں امید ہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا آمنے سامنے بیٹھ کر پیونگچین میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس میں شمالی کوریا کے وفد کی شرکت کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے بات چیت کر سکتے ہیں۔‘

ابھی یہ واضح نہیں کہ آئندہ ہفتے ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں کون شریک ہو گا کیونکہ شمالی کوریا نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے وزراء شمالی کوریا کے وفد کی مذاکرات میں شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے تیزی سے کام کریں۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آخری بار اعلیٰ سطح کے مذاکرات دسمبر سنہ 2015 میں ہوئے تھے۔

یہ مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے اور دونوں ممالک کے عوام کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے پیر کو نئے سال کے موقع پر کی جانے والی تقریر میں یہ کہہ کر کہ وہ اپنے ہمسائیوں کے ساتھ ’مذاکرات کے لیے تیار ہیں سب کو حیران کر دیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ رواں سال شمالی اور جنوبی کوریا کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ شمالی کوریا اپنے قیام کی 70 ویں سالگرہ منا رہا ہے جبکہ جنوبی کوریا سرمائی اولمپکس کی میزبانی کر رہا ہے۔

کِم جونگ اُن کا ہنا تھا کہ ہمیں شمالی اور جنوبی کوریا کے منجمند تعلقات کو پگھلانا چاہیے.

اسی بارے میں