ورلڈ الیون کے دورے کے بعد ہاکی لیگ کا انعقاد کے امکانات

تصویر کے کاپی رائٹ Steve Bardens
Image caption پاکستان ورلڈ الیون کے خلاف کراچی اور لاہور میں دو میچ کھیلے گا

پاکستان کے دورے پر آنے والی ہاکی ورلڈ الیون نے پاکستان الیون کے خلاف جمعہ کی شب کراچی کے عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم ( ہاکی کلب آف پاکستان ) میں کھیلا گیا پہلا میچ ایک کے مقابلے میں پانچ گول سے جیت لیا۔

ورلڈ الیون میں ہالینڈ، جرمنی، نیوزی لینڈ سپین اور اولمپک چیمپیئن ارجنٹائن کے کھلاڑی شامل ہیں۔

ورلڈ الیون اپنے اس مختصر دورے میں پاکستان الیون کے خلاف دوسرا میچ اتوار کو لاہور سے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔

غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے ہوتے ہوئے ورلڈ الیون کے خلاف اپنے جونیئر کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کومیدان میں اتارا ہے۔

’غیرملکی کوچ سے بھی ہاکی ٹیم کا مسئلہ حل نہیں ہو گا‘

ورلڈ الیون اور پاکستان کراچی اور لاہور میں آمنے سامنے

ورلڈ الیون کے اس دورے کے موقع پر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ماضی کے متعدد نامور کھلاڑیوں اور امپائرز کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا ہے جنھیں ہال آف فیم کا اعزاز دیا گیا ۔

ان کھلاڑیوں میں پنالٹی کارنر پر گول کرنے کے لیے مشہور ہالینڈ کے پال لٹجنر، بوولینڈر۔ جرمنی کے کرسچئن بلنک اور سپین کے سکارے شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس موقع پر پاکستان کے چھ سابق اولمپیئنز کو بھی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا جن میں اصلاح الدین۔ سمیع اللہ۔ اختررسول، شہناز شیخ، حسن سردار اور شہباز احمد شامل ہیں۔

دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن ورلڈ الیون کے اس دورے کے بعد ہاکی لیگ کے انعقاد کو یقینی بنانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری شہباز احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی ہاکی دوبارہ شروع کرنے کے سلسلے میں یہ دورہ پہلا قدم ہے جس کے بعد وہ پاکستان سپر لیگ کی طرز پر ہاکی میں بھی لیگ کے انعقاد کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شہباز احمد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ پاکستان میں پہلی ہاکی لیگ کے سلسلے میں ایک مارکیٹنگ کمپنی سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کریں گے ۔

شہباز احمد کا کہنا ہےکہ اس لیگ سے پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ صرف مالی فائدہ ہوگا بلکہ انھیں اپنا کھیل بہتر کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔

شہباز احمد کا کہنا ہے کہ پیسہ کمانا ہر کھلاڑی کا حق ہے لیکن اس وقت پاکستانی کھلاڑی بنگلہ دیش، اومان اور ملائیشیا کی لیگس میں حصہ لے رہے ہیں جن کا معیار اچھا نہیں ہے۔ پاکستان میں لیگ ہونے سے پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی کوچز کو غیرملکی کوچز کے ساتھ کام کرکے تجربہ حاصل ہوگا۔اسی طرح پاکستانی امپائرز اور ٹیکنیکل آفیشلز کو بھی بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں