پاکستان کرکٹ ٹیم بمقابلہ پاکستان کرکٹ بورڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کوئی دن تھے کہ کرکٹ کے بین الاقوامی دورے ہفتوں نہیں مہینوں پر محیط ہوا کرتے تھے۔ مہمان ٹیم سیریز کے آغاز سے دو سے تین ہفتے پہلے میزبان ملک پہنچ جاتی تھی۔ دو تین وارم اپ میچ اور چھ سات بھرپور ٹریننگ سیشنز ہوا کرتے تھے۔ اس کے بعد جا کر سیریز کا آغاز ہوتا تھا اور پھر واقعی ایسی جاندار کرکٹ دیکھنے کو ملتی کہ بازار ویران ہو جاتے تھے۔

اب یہ عالم ہے کہ سیریز کے آغاز سے بمشکل ایک ہفتہ پہلے مہمان ٹیم اجنبی کنڈیشنز میں لینڈ کرتی ہے، ایک آدھ وارم اپ گیم کھیلتی ہے اور اسی آپا دھاپی میں اچانک سیریز شروع ہو جاتی ہے۔

سیریز کیا شروع ہوتی ہے کہ پے در پے شکست کی ایک جھڑی سی لگ جاتی ہے۔ جب تک مہمان ٹیم کو کنڈیشنز کی کچھ سوجھ بوجھ ہونا شروع ہوتی ہے تب تک سیریز ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

پاکستان کے دورۂ نیوزی لینڈ کے بارے میں مزید پڑھیے

یہ ہار سرفراز کی ٹیم کی نہیں ہے

'جب پاکستانی بیٹنگ پہ احتیاط طاری ہوئی'

نیوزی لینڈ کا ون ڈے سیریز میں وائٹ واش

'اِدھر اُدھر کی کرکٹ پر کنٹرول کرنا ہو گا'

پاکستانی ٹیم کے حالیہ دورۂ نیوزی لینڈ کے پچھلے پانچوں میچوں میں پاکستان کے کھیل کے معیار کو دیکھا جائے تو پہلے سے پانچویں میچ تک اس کی کارکردگی میں درجہ بدرجہ بہتری نظر آتی ہے لیکن اس بہتری سے نتائج میں کوئی تبدیلی نہ آ سکی کیونکہ جوں جوں بہتری کا گراف بڑھتا گیا، شیڈول کا دامن چھوٹا پڑتا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرکٹ میں ٹی 20 لیگز کی آمد سے ایک طرف تو یہ کرشمہ ہوا ہے کہ کوئی بھی پروفیشنل کرکٹر سال کے کسی بھی مہینے میں آرام نہیں کر پاتا۔ دوسری طرف آئی پی ایل کا اعجاز دیکھیے کہ مسلسل دو ماہ تک ہر طرح کی دو طرفہ کرکٹ منجمد ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کے بعد جو دس ماہ بچتے ہیں ان میں ہر کرکٹ بورڈ کو نہ صرف اپنی ذاتی ٹی 20 لیگ بلکہ اپنے ریونیو اور انٹرنیشنل فرائض کا پیٹ بھی بھرنا ہوتا ہے۔

پچھلی بار جب پاکستان نیوزی لینڈ کے دورے پر گیا تھا تو دورے کا دورانیہ صرف اتنا تھا کہ گماں ہوتا تھا جیسے آسٹریلین ہائی کمیشن نے کوئی شرط عائد کر رکھی تھی کہ نیوزی لینڈ سے دو ٹیسٹ میچ کھیلے بغیر پاکستان کو آسٹریلیا کا ویزا نہیں ملے گا۔

اس بار نیوزی لینڈ کے خلاف جو سیریز جاری ہے یہ کوئی مکمل سیریز نہیں ہے بلکہ اس دورے کے بقایا جات ہیں جو گونا گوں مصروفیات کے سبب پچھلے دورے کے دوران ممکن نہ ہو پائے تھے۔ اسی طرح سے پچھلی بار نیوزی لینڈ نے بھی بھارت کا دورہ قسطوں میں کیا اور پاکستان جیسے نتائج ہی دیکھنے کو ملے تھے۔

قسط در قسط شیڈولنگ سے بظاہر کرکٹ بورڈز بھی خوشحال دکھائی دیتے ہیں اور آئی سی سی بھی مطمئن دکھائی دیتی ہے لیکن یہ اقساط کھلاڑیوں کے اذہان پر کچھ خوشگوار نقوش نہیں چھوڑتیں۔

پچھلے دس برسوں میں اگر ہر ٹیم اپنے ہوم گراونڈز پر ناقابل تسخیر ہوتی جا رہی ہے تو اس میں کلیدی کردار ٹی ٹونٹی لیگز، انٹرنیشنل کرکٹ کی زیادتی اور مشکل شیڈولنگ کا ہے، ورنہ وکٹیں تو پہلے بھی ایسی ہی ہوتی تھیں۔

پاکستان کے حالیہ دورۂ نیوزی لینڈ کو دیکھا جائے تو اس کا صرف ایک ہی مصرف سجھائی دیتا ہے کہ شیڈولنگ کرنے والوں نے ’کیوی سمر‘ کا پیٹ بھرنے کو ہی یہ دورہ ڈیزائن کر دیا تھا، کیونکہ اس سے پہلے نیوزی لینڈ ویسٹ انڈیز سے ایک مکمل سیریز کھیل چکا ہے جس میں تینوں فارمیٹ کی کرکٹ کھیلی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی طرح پاکستان سے فراغت کے بعد بھی نیوزی لینڈ کو انگلینڈ سے ایک مکمل سیریز کھیلنا ہے لیکن پاکستان کی حد تک صرف اس بار ہی نہیں، پچھلے برس بھی دورے کا مصرف یہی تھا کہ کیوی کیلنڈر کی خالی جگہوں کو پر کر دیا جائے۔

ایسے میں نتائج کی ذمہ داری کھلاڑیوں پر ڈال دینا سرا سر ناقابل جواز ہے۔ اگر آج انڈیا بھی جنوبی افریقہ کے یہاں پے در پے وار سہہ رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ کرکٹ بورڈ کی ہٹ دھرمی ہے جسے زیادہ دن کرکٹ ساؤتھ افریقہ کی میزبانی میں گزارنا گوارا نہیں تھا۔ نتیجتاً جن ایام میں انڈین ٹیم کو جنوبی افریقی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونا تھا تب وہ اپنے ہوم گراونڈز پر سری لنکا کی نحیف ٹیم سے ایک اور بے معنی سیریز کھیل کر بورڈ اور براڈکاسٹرز کی جیبیں بھر رہی تھی۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کل سے شروع ہونے والی ٹی 20 سیریز میں دو کرکٹ بورڈز اور ایک براڈ کاسٹر کے سوا کسی کی دلچسپی باقی نہیں ہے۔ کل کو دو ٹیمیں مختصر ترین فارمیٹ میں اپنی برتری کی جنگ نہیں لڑیں گی، محض ایک ناقابل فہم شیڈول کا پیٹ بھرنے کی کوشش کریں گی۔

کل پاکستان کا نیوزی لینڈ سے نہیں صرف اپنے کرکٹ بورڈ کی خواہشات سے مقابلہ ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں