چین اور نیپال کے درمیان ماؤنٹ ایورسٹ پر سبقت کی جنگ

ماؤنٹ ایورسٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ماؤنٹ ایورسٹ صرف دنیا کی بلند ترین چوٹی ہی نہیں بلکہ یہ نیپال اور چین کے درمیان سرحد بھی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ کئی عشروں سے دونوں ممالک کی حکومتیں کوہ پیماؤں میں مقبول اس عظیم چوٹی پر جانے والے مہم جوؤں کو اپنے اپنے ملکی قوانین کے مطابق اجازت نامے یا پرمٹ دے رہی ہیں۔ لیکن چونکہ دونوں ملکوں کے قوانین ایک جیسے نہیں اس لیے یہ کام دونوں کے لیے دردِ سر رہا ہے۔

ایورسٹ ڈائری: کھمبو گلیشیئر پر

’ماؤنٹ ایورسٹ کی پیمائش میں انڈیا شامل نہیں ہوگا‘

لیکن اب چونکہ اس عظیم پہاڑ کو دیکھنے اور اسے سر کرنے کی خواہش لے کر یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو گیا ہے اور نیپال کی جانب سے یہاں آنے والوں کے لیے حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں۔

دنیا کی کوہ پیما برادری اور چینی حکام پہاڑ کی شمالی جانب بہتر انتظامات اور ایک پھلتی پھولتی سیاحتی معشیت کے لیے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایورسٹ سر کرنے کا تین سالہ منصوبہ

ایک نئے منصوبے کے تحت چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 29 ہزار 29 فٹ بلند اس چوٹی پر پہنچنے کے لیے لاکھوں ڈالر کے خرچ سے ایک نیا راستہ بنائے گا۔ چین کے بقول مجوزہ نئے راستے پر حفاظتی انتظامات بھی نیپال کی نسبت بہت بہتر ہوں گے اور ان پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔

اس کے علاوہ چین نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ ہر سال کوہ پیمائی کا موسم شروع ہونے سے پہلے تبت میں واقع ایورسٹ کی شمالی چوٹی کو جانے والے راستے پر لگے ہوئے رسّوں کی بھی مرمت کرے گا تاکہ بین الاقوامی حفاظتی معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ یاد رہے کہ نیپال گذشتہ عرصے میں اس قسم کے حفاظتی انتظامات کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو گیا

چین کو امید ہے کہ کوہ پیماؤں کو زیادہ محفوظ اور قابل بھروسہ انتظامات فراہم کرنے سے ملک کی آمدن میں اضافہ ہوگا اور زیادہ سے زیادہ مہم جُو چین کے راستے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے آئیں گے۔

چینی قوائد کے مطابق صرف ایسے افراد کو ماؤنٹ ایورسٹ پر جانے کی اجازت دی جائے گی جو اس سے پہلے آٹھ ہزار میٹر ( 26 ہزار 247 فٹ) سے زیادہ کی چوٹی کو سر کر چکے ہوں۔ اس قانون کا مقصد غیر تربیت یافتہ کوہ پیماؤں اور غیر معیاری سیاحتی کمپنیوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

چین کے سرکاری حکام اور کئی نجی کمپنیاں اس نئے منصوبے کے حوالے سے بہت پُرامید ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک تین بڑی سیاحتی کمپنیاں نیپال میں اپنا کاروبار بند کر چکی ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ سنہ 2019 میں کوہ پیمائی کا موسم شروع ہونے سے پہلے پہلے تبت میں ماؤنٹ ایورسٹ کو جانے والا ایک نیا راستہ، پھنس جانے والے کوہ پیماؤں کے لیے ہیلی کاپٹر سروس اور چین کے نئے قوائد و ضوابط، ہر چیز مکمل تیار ہو گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں