نجم سیٹھی: ’نئے کھلاڑیوں کو سٹار بننے میں وقت لگے گا‘

نجم سیٹھی
Image caption پی ایس ایل نے ہماری ٹیم کو ٹی ٹؤنٹی کے لیے تیار کر دیا ہے۔ اب ہمیں اسے ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ کے لیے تیار کرنا ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی پُر اعتماد ہیں کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی مکمل بحالی کو زیادہ سے زیادہ مزید دو برس کا عرصہ لگے گا۔

پاکستان سوپر لیگ نے پاکستان کو ٹی ٹؤنٹی کے لیے تو تیار کر دیا ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ایک روزہ کرکٹ میں نئے آنے والے کھلاڑیوں کو’سٹار‘ بننے میں وقت لگے گا۔

بی بی سی اردو کے ساتھ ایک حالیہ خصوصی انٹرویو میں نجم سیٹھی کے ساتھ گفتگو کا آغاز تو پی ایس ایل کے فائنل کی متوقع کراچی آمد اور پاکستان کے حالیہ دورہ نیوزی لینڈ میں ایک روزہ سیریز میں شکست سے ہوا، تاہم بات سپاٹ فِکسنگ پر بھی ہوئی۔ اور بات اس پر بھی ہوئی کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی کرکٹ بظاہر دورِ حاضر کی کرکٹ سے پیچھے رہ گئی ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستان پانچ میچوں کی سیریز میں ایک بھی میچ نہیں جیت پایا تھا۔ چیمپیئنز ٹرافی جیتنے کے بعد ایک روزہ کرکٹ میں یہ پاکستان کا پہلا امتحان تھا۔ نجم سیٹھی نے اس پر قدرے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

’دیکھیں پی ایس ایل نے ہماری ٹیم کو ٹی ٹؤنٹی کے لیے تیار کر دیا ہے۔ اب ہمیں اسے ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ کے لیے تیار کرنا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں مسلسل چوتھی شکست

انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی تیسری پوزیشن

’کھیل پانچ دن کا، نتیجہ صفر‘

پاکستان کرکٹ ٹیم بمقابلہ پاکستان کرکٹ بورڈ

شکست کی وجوہات کا صحیح تعین کوچ اور مینیجر کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جا سکے گا، تاہم نجم سیٹھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے پرانے سٹار کھلاڑی اب بوڑھے ہو رہے ہیں یا ان کے ریفلیکسز اتنے اچھے نہیں رہے جتنے پہلے تھے۔

’اس لیے ہمیں ایک نئی ٹیم تیار کرنی پڑ رہی ہے۔ نئے کھلاڑیوں کو سٹار بنانے میں وقت لگتا ہے۔‘

دورِ جدید کی کرکٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماؤنٹ مؤنگنوئی میں کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری ٹی 20 میچ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 18 رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی

نجم سیٹھی کے کشادہ دفتر میں چیئرمین کی جہازی سائز کی میز سے ان کے بائیں جانب شیشے کی دیوار کے دوسری طرف قذافی سٹیڈیم کا میدان اور اس کی پِچ پر جاری کھیل نظر آتا ہے تو دائیں جانب سجی ٹرافیوں کے بیچ مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے نشستیں لگی ہیں۔ سامنے نصب سکرین پر ٹی ٹؤنٹی میچ جاری ہے۔

’ٹیسٹ میں تو ہم او کے ہیں، ایک روزہ کرکٹ میں کمزور ہیں۔ اب ہمارا تمام تر دھیان ورلڈ کپ پر ہے اور اس کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

’اب ہمارے پاس لڑکے ہیں، مڈل آرڈر میں ہمیں متبادل مل گئے ہیں۔ انہیں تھوڑا وقت لگے گا میچور ہونے میں مگر مجھے امید ہے کہ سب اچھا ہو جائے گا۔‘

اس آخری جملے کی طرح نجم سیٹھی تمام تر گفتگو کے دوران چیزوں کو مثبت زاویے سے دیکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان جدید طرز کی کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر پایا، ان کا کہنا تھا ’اب ہو جائیں گے، ماڈرن کوچز ہیں، اچھے کھلاڑی ہیں سب ہو جائے گا۔‘

مگر دیگر ٹیمیں جس جارحانہ انداز سے کھیلتے ہوئے جس باقاعدگی سے ایک روزہ کرکٹ میں تین سو سے زائد کے سکور بناتی ہیں، پاکستان نہیں بناتا؟

’پتہ نہیں کیوں آپ اتنی منفی سوچ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ گذشتہ 12 ماہ میں ہم ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر آچکے ہیں، ون ڈے اور ٹی ٹؤنٹی میں بھی آ چکے ہیں، تو اتنی منفی سوچ کی کیا ضرورت ہے۔‘ پھر وہ مسکرا دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیوزی لینڈ نے پاکستان کو چوتھے ایک روزہ کرکٹ میچ میں پانچ وکٹوں سے شکست دے کی سیریز میں چار صفر سے برتری حاصل کی

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں سکول اور کلب کرکٹ سے لے کر پی ایس ایل کے فرنچائزز کے ذریعے ٹیلنٹ تلاش کرنے اور دیگر ریفارمز کے ذریعے آئندہ دو برس کے دوران پاکستان میں کرکٹ کا نقشہ بدل جائے گا۔

’آپ دیکھیں گے کہ یہ جو بے ربطی ہے یہ ختم ہو جائے گی۔‘

نقصان جو ہونا تھا ہو گیا

لاہور میں حالیہ میچوں میں چند بین الاقوامی کھلاڑیوں کی میزبانی سے کتنا فرق پڑا ہے اور پاکستان کب تک ایک مکمل سیریز کی میزبانی کرنے میں کامیاب ہو پائے گا؟

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کے کئی پہلو ہیں جبکہ ان کا اختیار صرف ایک پر ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ ملک کی عمومی سکیورٹی صورتحال کس حد تک اور کتنی جلدی بہتر ہوتی ہے۔

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ یہ صورتحال کافی حد تک بہتر ہو چکی ہے۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم سٹیڈیم تیار کر لیں تو وقت کے ساتھ ساتھ ہم ان کو کھول سکتے ہیں۔‘

’میں یہ سمجھتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اگلے دو برس میں پاکستان میں کرکٹ کی مکمل بحالی ہو جائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آٹھ سال بعد سری لنکن کرکٹ ٹیم گذشتہ اکتوبر میں پاکستان کے دورے پر آئی تھی

ان کا کہنا تھا کہ انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور انفرادی کرکٹ بورڈز سے منظوری مل جائے گی۔ اگر ایسا نہ ہو پایا تو پاکستانی کرکٹ کو کتنا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے؟

نجم سیٹھی نے اسی مثبت پُر اعتماد انداز میں جواب دیا کہ ’کیوں نہیں ہو گا۔ نقصان تو جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب ہم اس کو واپس کر رہے ہیں۔ آئی سی سی کی ٹیم میں بین الاقوامی کھلاڑی آ چکے، سری لنکا، زمبابوے آئے، ویسٹ انڈیز مارچ میں آ رہے ہیں۔ ’

انھوں نے بتایا کہ آئندہ 12 ماہ میں آپ کو کوئی نئی جھلک بھی دکھائیں گے۔‘

آپ پکڑے گئے، آپ کا سر قلم

پی ایس ایل میں گزشتہ برس سامنے سپاٹ فکسنگ کا ایک واقعہ سامنے آیا، اس کے روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔ نجم سیٹی کہتے ہیں کہ وہ دہ بنیادی اور ضروری اقدام یقینی بنا رہے ہیں۔ ایک انتہائی مستعدی سے نگرانی ہو رہی ہے۔ دوسرا، معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ برس پاکستان سپر لیگ میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث کرکٹرز خالد لطیف اور شرجیل خان پر پانچ پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی۔ ان دونوں نے دبئی میں ایونٹ کے دوران مبینہ طور پرایک مشکوک شخص سے ملاقات کرکے معاملات طے کیے تھے۔

’جن لوگوں کو ہم نے پکڑا اور سزا دی ہے اس میں ظاہر ہے کہ ہمارے پاس ثبوت تھے اور ہم درست ثابت ہوئے۔‘

’یہ ایسا ہی ہے کہ آپ پکڑے گئے، آپ کا سر قلم۔ جب تک میں ہوں آپ سمجھ لیں حقیقی معنوں میں زیرو ٹالرنس ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں