بنگلہ دیشی ٹاپ آرڈر آف سٹمپ کے باہر کیا ڈھونڈ رہا تھا؟

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

آف سٹمپ لائن وہ چینل ہے جہاں ہر طرح کے مواقع کی بہتات ہوتی ہے۔ کوئی جلدی رنز بنانا چاہتا ہے تو آف سٹمپ سے باہر جاتی ہر گیند صلائے عام ہے۔ کوئی جلدی پویلین لوٹنا چاہتا ہے تو بھی چانس بہتیرے۔

شرفا یعنی جینٹلمین کے نزدیک، ٹیسٹ کرکٹ میں آف سٹمپ کے باہر جاتی گیند کو چھیڑنا کج روی ہے۔ صرف چھوڑ دینا بھی کافی نہیں، صحیح طریقے سے گیند چھوڑنا بجائے خود ایک آرٹ ہے۔

رکی پونٹنگ آف سٹمپ سے باہر جاتی گیند کو چھوڑنے کے ایسے ماہر تھے کہ بالکل درست ٹائمنگ پہ گیند کی لائن میں آ کر عین چھاتی کے قریب سے گیند کو رستہ دیتے تھے۔ وسیم اکرم آج تک ان کی اس کلا کی داد دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’کھیل پانچ دن کا، نتیجہ صفر‘

وراٹ کوہلی کے نئے ریکارڈز کا سلسلہ جاری

’کرکٹ کھیلنے کا پہلے سے زیادہ مزا آ رہا ہے‘

چٹاگانگ ٹیسٹ میں ایسی انوکھی وکٹ دیکھنے کو ملی تھی کہ آف سٹمپ چینل ہی کیا، کوئی بھی لائن کسی بھی بیٹسمین کے لیے مہلک نہیں تھی۔ اس کے برعکس میرپور میں ہمیں ایسی سپن وکٹ دیکھنے کو ملی کہ پہلے دن سے تیسرے دن تک، روشن سلوا کے علاوہ کوئی بھی بلے باز جم کر کھیل نہیں پایا۔

چٹاگانگ میں پانچ دن کے کھیل میں صرف 24 وکٹیں گری تھیں اور آئی سی سی نے اسے ادنی وکٹ بھی قرار دیا، لیکن میرپور میں اچانک ایسا بدلاؤ آیا کہ صرف ڈھائی دن میں ہی 40 وکٹیں گر گئیں، اور دو ٹیسٹ میچز کی یہ مختصر سیریز سری لنکا ایک صفر سے جیت گیا۔

سنہ 2015 کے بعد سے اب تک ہوم گراؤنڈز پہ یہ بنگلہ دیش کی پہلی سیریز ہے جس میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور غالبا یہی وہ پہلی سیریز ہے جہاں بنگلہ دیش کی ٹیم اس قدر مضطرب بھی دکھائی دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ٹیسٹ ٹیم کے نئے کپتان شکیب الحسن انجری کے سبب باہر تھے۔ محمود اللہ نے کیسی قیادت کی، اس پہ کچھ کہنا ہی بلا جواز ہے۔ آخر وہ کوئی اپنی مرضی سے تو کپتان نہیں بنے۔

اچنبھے کی بات یہ ہے کہ جن وکٹوں پہ سال بھر پہلے اسی بنگلہ دیشی ٹیم نے انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ہرا دیا تھا، وہاں سری لنکا کے لیے عین اسی طرح کی پچ کیوں تیار کی گئی۔

یہی سوال روشن سلوا نے بھی اٹھایا کیونکہ رنگنا ہیراتھ جیسے تجربہ کار سپنر کی موجودگی میں اتنی ٹرننگ وکٹ کا زیادہ فائدہ کس کو ہونا تھا، یہ جاننے کے لیے کسی بقراط کا دماغ نہیں چاہیے۔

لیکن اگر وکٹ میں اس قدر سپن نہ بھی ہوتی تو بھی بنگلہ دیش کی شکست قریب قریب نوشتہ دیوار تھی۔ جس ٹیم کے اوپنرز ہی آف سٹمپ کے باہر ٹامک ٹوئیاں مارنے لگیں، اسے ہرانے کے لیے 30 اوور بھی زیادہ پڑ جاتے ہیں۔

تمیم اقبال اور امر القیس نے جس طرح سے اپنی وکٹیں گنوائیں، وہیں سے ہار کا سفر شروع ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پہلی اننگز میں اگر بنگلہ دیش اپنے خوف کے ہاتھوں مجبور رہا، تو دوسری اننگز میں اپنی خود اعتمادی کے ہاتھوں۔ جہاں اٹیک کرنے کا وقت تھا، وہاں بلاوجہ رکنے کی کوشش کی گئی اور جہاں رکنے کی ضرورت تھی، وہاں شاید یہ خام خیالی آڑے آ گئی کہ آٹھ دس بار بلا گھمانے سے ہی 339 رنز بن جائیں گے۔

بنگلہ دیش کی ایک بڑی بدقسمتی یہ بھی رہی کہ واحد ان فارم بیٹسمین مومن الحق پہلی اننگز میں رن آؤٹ ہو گئے۔ جس طرح سے چٹاگانگ میں وہ کھیلے تھے، اگر اس کا عشر عشیر بھی کر جاتے تو چوتھی اننگز میں بنگلہ دیش کے سامنے ایسا پہاڑ سا ہدف نہ کھڑا ہوتا۔

سری لنکا کے لیے یہ سیریز بہت مثبت رہی ہے۔ ہیراتھ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین لیفٹ آرم بولر بن چکے ہیں۔ چندیمل کی کپتانی کو اس جیت سے کافی استحکام ملے گا، لیکن سب سے زیادہ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ سنگاکارا اور جے وردھنے کے جانے کے بعد جو احساس تفاخر سری لنکن ڈریسنگ روم سے غائب ہو گیا تھا، وہ میرپور میں واپس آتا نظر آیا۔

سری لنکن ڈریسنگ روم اپنے نوجوانوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے، لیکن بنگلہ دیشی ڈریسنگ روم کو فی الحال صرف یہ جواب چاہیے کہ ان کا ٹاپ آرڈر آف سٹمپ کے باہر ایسا کیا ڈھونڈ رہا تھا کہ ان کی کھوج 30 اوورز بھی نہ نکال پائی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں