کے ٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے پولینڈ کے کوہ پیما زخمی

پہاڑ تصویر کے کاپی رائٹ Rafal fornia

پاکستان میں واقع دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ 'کے ٹو' کو سر کرنے کی کوشش کرنے والے پولینڈ کے کوہ پیما رافیل فرونیا کو زخمی ہو جانے کے بعد سکردو کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

رافیل فرونیا اپنی ٹیم کے ساتھ کے ٹو کو سردی کے موسم میں سب سے پہلے سر کرنے کی کوشش میں اس وقت زخمی ہو گئے جب ایک چٹان ان کے بازو پر آ گری اور وہ ٹوٹ گیا۔

زخمی ہونے کے بعد رافیل فرونیا کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سکردو کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

پاکستان میں کوہ پیمائی کی الف سے ے

فرانسیسی کوہ پیما خاتون نانگا پربت سے ریسکیو کے بعد اسلام آباد میں

پاکستان: نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش کرنے والی فرانسیسی کوہ پیما کو بچا لیا گیا

'وینیسا او برائن کے ٹو سر کرنے والی پہلی امریکی خاتون بن گئیں'

کوہ پیمائی کے ادارے الپائن فیڈریشن کے مطابق رافیل فرونیا کا بازو دو دن پہلے ٹوٹا تھا۔

ادارے کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق انھیں کوہ پیماؤں کے لیے مخصوص ایک کیمپ میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ انھیں مزید علاج کے لیے بہتر موسمی حالات کا انتظار کرنے کی ضرروت تھی تاکہ انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال پہنچا سکے۔

رافیل فرونیا کے ٹو سر کرنے کی کوشش میں زخمی ہونے والے دوسرے کوہ پیما ہیں۔ اس سے کچھ چند پہلے ایڈم بیلیکی نامی کوہ پیما اس وقت زخمی ہو گئے تھے جب ایک گرتی ہوئی چٹان سے ان کی ناک ٹوٹ گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ALPINE FEDERATION
Image caption رافیل فرونیا کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سکردو کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا

کوہ پیما 'کے ٹو' کو 'وحشی پہاڑ' کے نام سے جانتے ہیں۔ کے ٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تکنیکی لحاظ سے اسے سر کرنا بہت مشکل ہے اور چوٹی پر پہنچنے اور وہاں سے نیچے آنے کی کوشش کرنے والے ہر چار کوہ پیماؤں میں سے ایک کی موت ہوتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اب تک کے ٹو کو 377 کوہ پیماؤں سے سر کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ گذشتہ چند ہفتوں میں کسی غیر ملکی کوہ پیما کے پاکستان کے بلندوبالا پہاڑوں سے ریسکیو کا دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل 28 جنوری کو پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع 'قاتل پہاڑ ' کے نام سے معروف نانگا پربت پر پھنس جانے والی فرانسیسی خاتون کوہ پیما کو ایک ڈرامائی امدادی کارروائی کے نتیجے میں زندہ بچا لیا گیا تھا۔

تاہم اس ریسکیو آپریشن میں ان کے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ساتھی کو تلاش نہیں کیا جا سکا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں