فٹبال کلب خریدنے کے لیے بیوی کے 50 لاکھ پاؤنڈ چرانے پر پانچ سال قید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سلیمان الفہیم کو جعل سازی اور جعلی دستاویزات کے استعمال کا مجرم قرار دیا گیا ہے

متحدہ عرب امارات میں انگلش فٹبال کلب پورٹسمتھ کے سابق مالک سلیمان الفہیم کو بیوی کے 50 لاکھ برطانوی پاؤنڈ چرا کر فٹبال کلب خریدنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سلیمان الفہیم سنہ 2009 میں چھ ہفتوں تک اس کلب کے مالک رہے تھے۔

سلیمان الفہیم نے مانچسٹر سٹی کلب خریدنے کے لیے ابوظہبی کے یونائیٹڈ گروپ کے ساتھ معاہدے کی کوششیں بھی کی تھیں اور انھیں جعل سازی اور جعلی دستاویزات کے استعمال کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

سلیمان الفہیم اور ان کے ایک ساتھی پر پورٹسمتھ کلب سچا گیڈملک سے چوری کے پیسوں سے خریدنے کا جرم ثابت ہوا ہے جسے انھوں نے جلد ہی علی الفرج کو فروخت کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

’اپنے دور کا بہترین کھلاڑی‘

مانچیسٹر یونائیٹڈ سب سے ’قیمتی فٹبال کلب‘

دنیا کے سب سے مہنگے فٹبالر مکہ میں

اس مقدمے کی سماعت کے موقع پر 42 سالہ سلیمان الفہیم عدالت میں موجود نہیں تھے اور ان کی غیرحاضری میں یہ فیصلہ سنایا گیا ہے۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ سلیمان الفہیم کی بیوی کو جب معلوم ہوا کہ جو اکاؤنٹ انھوں نے 2009 میں کھلوایا تھا اس میں متوقع منافع کی شرح کے مطابق ملنے والی رقم اکاؤنٹ سے رقم غائب تھی۔

ان کی بیوی کا کہنا تھا کہ انھوں نے بینک کے مینیجر سے رابطہ کیا لیکن وہ ستمبر 2011 میں بار بار پوچھنے کے باوجود ’مسلسل ٹال مٹول‘ کرتا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سلیمان الفہیم جب پورٹسماؤتھ کلب کے مالک بنے تھے اس وقت یہ کلب انگلش پریمیئر لیگ کا حصہ تھا

جب انھوں نے خود بینک کا فیصلہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ ان کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم موجود نہیں ہے۔

اس کے بعد انھوں نے بینک کے قانونی شعبے سے رابطہ کیا لیکن جب انھوں نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی تو انھوں نے اس بارے میں پولیس کو مطلع کیا۔

دبئی کریمنل کورٹ نے بینک مینیجر کو بھی چوری، سرکاری دستاویزات میں جعل سازی اور جعلی دستاویزات کے استعمال کا مجرم ٹھہرایا ہے۔ بینک مینیجر کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سلیمان الفہیم جب پورٹسمتھ کلب کے مالک بنے تھے اس وقت یہ کلب انگلش پریمیئر لیگ کا حصہ تھا اور اسے مالی مشکلات درپیش تھیں جس کے باعث اسے کھلاڑیوں اور عملے کو ادائیگیوں میں بھی مشکل پیش آ رہی تھی۔

اسی بارے میں