پی ایس ایل 3 کے باصلاحیت نوجوان پاکستانی کرکٹرز

سلمان تصویر کے کاپی رائٹ Lahore Qalandars
Image caption سلمان ارشاد نے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے بولنگ کرکے کوچ عاقب جاوید کو بے حد متاثر کیا تھا

پاکستان سپر لیگ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع فراہم کیا ہے۔

یہ پاکستان سپر لیگ ہی ہے جو پچھلے دو ٹورنامنٹس میں محمد نواز، حسن علی اور شاداب خان کا ٹیلنٹ دنیا کے سامنے لائی اور انھیں بین الاقوامی کرکٹ کا راستہ دکھایا۔

پاکستان سپر لیگ تھری میں بھی متعدد نوجوان کرکٹرز موجود ہیں جن کے روشن مستقبل کی امید کی جا رہی ہے۔

پی ایس ایل تھری کے بارے میں یہ بھی پڑھیے

پاکستان سپر لیگ میں کون سی ٹیم کتنی مضبوط؟

پی ایس ایل: غیرملکی کرکٹرز میں کون دھاک بٹھائے گا؟

پی ایس ایل کے کوچز، کون کتنا تجربہ کار؟

سلمان ارشاد

راولا کوٹ سے تعلق رکھنے والے دائیں ہاتھ کے 22 سالہ تیز بولر سلمان ارشاد اس پی ایس ایل کے تمام نوجوان نئے کرکٹرز میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔

سلمان ارشاد اگرچہ 2015 میں کشمیر کی طرف سے قومی ٹی 20 ٹورنامنٹ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کے تین میچز کھیلے تھے لیکن وہ کوئی غیرمعمولی کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔

لاہور قلندر نے اس سال ٹیلنٹ کی تلاش میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ٹرائلز لیے تو سلمان ارشاد نے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے بولنگ کرکے کوچ عاقب جاوید کو بے حد متاثر کیا۔

لاہور قلندر نے سلمان ارشاد کو آسٹریلیا جانے والی رائزنگ اسٹارز ٹیم میں شامل کیا جہاں انھوں نے عمدہ بولنگ کی۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ نیوساؤتھ ویلز کے ہاکس بیری کلب نے ان سے تین ماہ کھیلنے کا معاہدہ کرلیا جس کی طرف سے کھیلتے ہوئے سلمان ارشاد نے اچھی کارکردگی دکھائی جس میں ایک ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی۔

لاہور قلندر نے انھیں نوجوان کیٹگری میں شامل کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہین شاہ آفریدی گذشتہ ماہ نیوزی لینڈ میں منعقدہ انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم میں شامل تھے

شاہین شاہ آفریدی

17 سالہ شاہین شاہ آفریدی کو لاہور قلندر نے ڈرافٹنگ میں حاصل کیا ہے۔

خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے تیز بولر شاہین شاہ آفریدی کے بڑے بھائی ریاض آفریدی ایک ٹیسٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

شاہین آفریدی نے گذشتہ سال اس وقت شہ سرخیوں میں جگہ بنائی جب انھوں نے اپنے اولین فرسٹ کلاس میچ میں کے آر ایل کی طرف سے کھیلتے ہوئے راولپنڈی کی دوسری اننگز میں صرف 39 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کرڈالیں جو پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی بولر کی اپنے پہلے میچ میں بہترین انفرادی کارکردگی ہے۔

وہ گذشتہ ماہ نیوزی لینڈ میں منعقدہ انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم میں شامل تھے۔ آئرلینڈ کے خلاف میچ میں انھوں نے صرف پندرہ رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں۔

انڈر 19 ورلڈ کپ میں وہ سب سے زیادہ 12 وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی بولر تھے۔

شاہین آفریدی نے گزشتہ سال بنگلہ دیشی پریمئر لیگ میں ڈھاکہ ڈائنامائٹس سے بھی معاہدہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس سال کھیلے گئے قومی ایک روزہ میچز کے ٹورنامنٹ میں صاحبزادہ فرحان علی نے ایک سنچری اور چار نصف سنچریوں کی مدد سے 454 رنز بنائے

صاحبزادہ فرحان علی

اسلام آباد یونائٹڈ نے دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے 21 سالہ صاحبزادہ فرحان علی کا ڈرافٹنگ میں انتخاب قومی سیزن میں ان کی عمدہ کارکردگی کے پیش نظر کیا ہے۔

اس سال کھیلے گئے قومی ایک روزہ میچز کے ٹورنامنٹ میں صاحبزادہ فرحان علی نے ایک سنچری اور چار نصف سنچریوں کی مدد سے 454 رنز بنائے۔

صاحبزادہ فرحان علی کا تعلق چارسدہ سے ہے۔ انھوں نے پانچ سال قبل اپنا پہلا ٹی 20 میچ کھیلا تھا لیکن ابتک وہ صرف نو ٹی20 میچز کھیل پائے ہیں جن میں ان کی دو نصف سنچریاں شامل ہیں البتہ 17 ون ڈے میچوں میں وہ دو سنچریاں اورسات نصف سنچریاں بناچکے ہیں۔

وہ 12 فرسٹ کلاس میچز بھی کھیل چکے ہیں جن میں ان کی سات نصف سنچریاں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption خوشدل شاہ گذشتہ چار سال سے قومی کرکٹ کا حصہ ہیں

خوشدل شاہ

پشاور زلمی کی ایمرجنگ کیٹگری میں شامل 23 سالہ خوشدل شاہ کا تعلق بنوں سے ہے۔

وہ گذشتہ چار سال سے قومی کرکٹ کا حصہ ہیں۔

اس سال قومی ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں فاٹا کی طرف سے کھیلتے ہوئے انھوں نے چار نصف سنچریاں سکور کیں جن میں دو مرتبہ وہ سنچری کے بہت قریب آکر رہ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saeed Ajmal/FB
Image caption 19 سالہ ابتسام شیخ کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے وہ لیگ بریک گگلی بولر ہیں

ابتسام شیخ

پشاور زلمی نے اس بار ڈرافٹنگ میں دو نئے کھلاڑیوں ابتسام شیخ اور سمین گل کا انتخاب بھی کیا ہے۔

19 سالہ ابتسام شیخ کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے وہ لیگ بریک گگلی بولر ہیں اورانھوں نے اسی سال اپنی فرسٹ کلاس اور ون ڈے کرکٹ شروع کی ہے۔

سمین گل

19 سالہ تیز بولر سمین گل جمرود سے تعلق رکھتے ہیں۔

فاٹا اور یو بی ایل کی طرف سے کھیلتے ہیں۔ اب تک صرف تیرہ فرسٹ کلاس میچوں میں 15 کی اوسط سے 62 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جس میں 44 رنز کے عوض آٹھ وکٹوں کی بہترین انفرادی کارکردگی بھی شامل ہے۔

پشاور زلمی کے ہیڈ کوچ محمد اکرم کو ان دونوں کھلاڑیوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور انھیں یقین ہے کہ یہ دونوں بولرز اپنی کارکردگی سے متاثر کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں