پی ایس ایل بورڈ کے لیے کماتی ہے یا بورڈ پی ایس ایل کے لیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PSL

آخری اوور جاری تھا۔ گرانٹ ایلیٹ کریز پر موجود تھے۔ محمد سمیع نے آف سٹمپ سے قدرے باہر اچھی لینتھ پہ ایک گیند پھینکی۔ ایلیٹ فوراً لائن میں آئے اور ایک لمبا چھکا رسید کر کے فتح لاہور قلندرز کے نام کر دی۔

اس کے بعد ایلیٹ سیدھے کھڑے ہوئے، پویلین کی جانب منہ کیا اور ایک خوش کن اطمینان کے ساتھ اپنا بلا ہوا میں چھوڑ دیا۔ سوشل میڈیا پہ، ان کی یہ سلیبریشن پی ایس ایل 2 کا حوالہ بن گئی۔

جہاں بہت سے شائقین اس سلیبریشن کے ہنگامے میں مگن تھے، وہیں ایک ٹویٹ بھارت سے بھی آیا۔ ایک سابق بھارتی کرکٹر نے اپنی حس ظرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایلیٹ کو یہ تلقین کر ڈالی کہ وہ آئندہ اس طرح بلا پھینکنے سے گریز کریں، اگر بلا ٹوٹ جائے تو پتا نہیں پی ایس ایل والوں کے پاس اتنا ںجٹ بھی ہے کہ نہیں۔

یہ بجائے خود ایک حقیر سا تمسخر تھا، جس میں مزاح سے زیادہ تذلیل کا عنصر شامل تھا۔ لیکن جس تناظر میں یہ پھبتی کسی گئی تھی، وہ آئی پی ایل سی انڈسٹری کے تقابل میں پی ایس ایل کی مالی زبوں حالی پہ چوٹ تھی۔

کرکٹ لیگز اس وقت دنیا بھر میں ہو رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ پیسے بنا رہی ہیں، کچھ صرف گزارہ کر رہی ہیں اور کچھ خسارہ بھگت کر، بند ہونے کے بعد، دوبارہ سے سر اٹھانا چاہ رہی ہیں۔ لیکن پی ایس ایل کا المیہ سب سے جدا ہے۔

مزید پڑھیے

پی ایس ایل 3 کے باصلاحیت نوجوان کرکٹرز

پی ایس ایل کے کوچز، کون کتنا تجربہ کار؟

’قومی ٹیم پر پی ایس ایل کو فوقیت‘

گو کہ یہ آئیڈیا ذکا اشرف کے عہد میں ہی زیر بحث آ چکا تھا مگر مالی مشکلات اور پاکستان کرکٹ کی عالمی تنہائی یوں آڑے آئی کہ شہریار خان بھی تعبیر سے گریزاں رہے۔ پہلے سیزن کے لیے قطر کو وینیو ٹھہرایا گیا، مگر پھر مارکیٹ کے تجزیے اور امارات کرکٹ بورڈ سے معاملات طے ہونے کے بعد عرب امارات ہی پی ایس ایل کا ہوم وینیو بن گیا۔

افتتاحی سیزن ابھی جاری تھا کہ نجم سیٹھی سے کسی نے پوچھا کہ بھئی جیسے تیسے آپ نے لیگ کروا تو لی، مگر اس سے کمائیں گے کیا۔ تب سیٹھی کا کہنا تھا کہ وہ پچاس ملین ڈالر کے قریب ریونیو آتا دیکھ رہے ہیں۔ لیکن جب سیزن ختم ہوا اور بھی کھاتوں پہ نظر ڈالی گئی تو منافع صرف ڈھائی ملین ڈالر تھا۔

کجا پچاس ملین اور کجا ڈھائی ملین۔ لیکن پھر بھی دیکھا جائے تو ایک ایسی پاکستانی لیگ جس کا ایک میچ بھی پاکستان میں نہ ہوا، جس میں سب سے بڑی کرکٹ مارکیٹ بھارت کا ایک بھی کھلاڑی شریک نہ ہوا اور شیڈول بھی بمشکل دو ہفتوں پہ محیط تھا، اس کی آمدن اگر چھبیس لاکھ ڈالر ہو تو اور کیا چاہیے۔ یہ خسارہ نہیں، منافع ہی تھا۔

لیکن پھر اس منافع کا بٹوارہ ہوا۔ فرنچائزز کو ان کا حصہ بھی تو دیا جانا تھا۔ سو جب حصے بخرے بٹ چکے تو پی سی بی کی جیب میں فقط چھ لاکھ ڈالر ہی بچے۔ پھر بھی مثبت پسند زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو تمام تر سیاق و سباق میں پہلا سیزن منافع بخش ہی رہا۔ بھئی جہاں خسارے کا خدشہ تھا، وہاں چھ لاکھ ڈالر بچ گئے۔

دوسرا سیزن پہلے سے بھی زیادہ ہنگامہ خیز رہا۔ میچز بھی بڑھ گئے۔ برانڈ بھی قدرے مستحکم ہو گیا۔ اور پھر لاہور کے فائنل کی گونج تو پوری دنیا میں سنائی دی۔ سپاٹ فکسنگ کی سرخیوں نے اپنی جگہ ایک الگ سی مارکیٹنگ بھی کی۔ امید یہی تھی کہ اس بار منافع پہلے سے زیادہ ہو گا۔ مگر دوسرے سیزن کا ریونیو صرف 109 ملین روپے رہا، جو قریب دس لاکھ ڈالر بنتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سو، پہلے سیزن میں 26 لاکھ ڈالر کمانے والا برانڈ دوسرے سیزن میں دس لاکھ ہی کما سکا۔ پی سی بی کے ریکارڈ سے یہ واضح نہیں کہ فرنچائزز میں حصوں کی تقسیم کے بعد کیا کچھ بچا، مگر پہلے سیزن کے پیمانے ہی کے مطابق تخمینہ لگایا جائے تو پی سی بی کو قریب چار لاکھ ڈالر اپنی جیب سے ادا کرنا پڑے ہوں گے۔

لیکن پی ایس ایل کی مشکلات صرف مالی زبوں حالی پہ ہی موقوف نہیں۔ جس طرح سے دبئی اور شارجہ انواع و اقسام کی کرکٹ لیگز کے لیے فیورٹ ہوتے جا رہے ہیں، اگلے سال پی ایس ایل کی مشکل مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ جنوری میں افغانستان کی ٹی ٹونٹی لیگ انہی میدانوں میں کھیلی جائے گی جہاں چند ہفتوں بعد پی ایس ایل ہونا ہو گی۔ ایسے میں مارکیٹ کا کتنا حصہ پی سی بی کے پلے رہ جائے گا؟

دریں اثنا، پی سی بی یہ تو تہیہ کر چکا ہے کہ اس بار تین میچز پاکستان میں ہوں گے لیکن لاہور کے دو اور کراچی کے ایک میچ پہ اٹھنے والے اخراجات بھی اگر پی ایس ایل کی بیلینس شیٹ میں ڈالے جائیں تو منافع اور خسارے کی بحث کہاں تک پہنچے گی؟ فی الوقت یہ خوش قسمتی ہے کہ سکیورٹی کے اخراجات ریاست خود ادا کرتی ہے، پی سی بی پہ اس کا بوجھ نہیں ہے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ پی ایس ایل نے پاکستان کرکٹ کو بہت کچھ دیا ہے۔ نئے سٹارز پیدا کیے ہیں۔ چیمپئنز ٹرافی میں بھی مدد کی ہے۔ پاکستان کی ہوم کرکٹ کی بحالی میں بھی معاون رہی ہے۔ بحیثیت برانڈ بھی پی ایس ایل خاصی مستحکم نظر آتی ہے۔ لیکن جلد یا بدیر، ایک سوال پی سی بی کے سامنے کھڑا ہو گا، کیا پی ایس ایل کرکٹ بورڈ کے لیے کماتی ہے یا کرکٹ بورڈ پی ایس ایل کے لیے کماتا ہے؟

یہ خاصا پیچیدہ سوال ہے جس کا فوری جواب ممکن نہیں ہے، کیونکہ فی الوقت پی ایس ایل اتنا بڑا برانڈ نہیں ہے کہ یہ اپنی شرائط پہ آگے بڑھ سکے۔ اسے دنیائے کرکٹ کی تائید نہ بھی سہی، نیم رضامندی تو بہر طور چاہیے۔ اس سوال کا جواب صرف پاکستان کے ہوم گراونڈز ہی دے سکتے ہیں، لیکن ان کا اپنا امیج بجائے خود پی ایس ایل کا محتاج ہے۔

فی الحال، پی ایس ایل کو سودوزیاں کی بحث سے قطع نظر صرف زندہ رہنے کی ضرورت ہے۔ آج پی ایس ایل کا تیسرا سیزن شروع ہو رہا ہے۔ تیسری بار بھی افتتاحی تقریب دبئی ہی میں ہو گی۔ لیکن شاید چوتھی نہیں تو پانچویں یا چھٹی، ساتویں بار کی افتتاحی تقریب پاکستان میں ہو اور سارے سوالوں کے جواب مل جائیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں