میرا کام میچ ختم کرنا نہیں ہے: فخر زمان

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
پاکستان، کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپنر فخر زمان یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اپنی بیٹنگ سے میچ ختم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

مبصرین کا یہ خیال ہے کہ فخر زمان باصلاحیت بیٹسمین ضرور ہیں لیکن وہ ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرنے سے قبل ہی اپنی وکٹ گنوا دیتے ہیں۔

فخرزمان پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندر کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

انھوں نے پی ایس ایل کے پہلے میچ میں ملتان سلطانز کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 49 رنز بنائے تھے جس میں ایک چوکا اور چار چھکے شامل تھے لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی لاہور قلندر کی ٹیم صرف چار رنز پر سات وکٹیں گنوا کر میچ ہار گئی تھی۔

مزید پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

فخرزمان یہ ضرور مانتے ہیں کہ جتنے بھی بڑے کھلاڑی بنتے ہیں وہ میچ کو ختم کرتے ہیں اور وہ بھی یہی کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی اننگز کو طول دیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بات بھی واضح کر دیتے ہیں کہ اوپنرز کا کام اچھا اسٹارٹ دینا ہوتا ہے میچ فنش کرنا مڈل آرڈر بیٹسمینوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

فخر زمان کہتے ہیں کہ وہ کپتان اور کوچ کی جانب سے دیے گئے کردار کے مطابق بیٹنگ کرتے ہیں۔ وہ اپنی نصف سنچری کے بجائے ٹیم کو اولیت دیتے ہیں۔ انھیں جو رول ملتا ہے اس میں وہ میچ فنش نہیں کر سکتے کیونکہ انھیں تیز کھیلنا ہوتا ہے اور جب آپ زیادہ شاٹس کھیلتے ہیں تو اس میں آؤٹ ہونے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔

فخرزمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی بھی اپنا یہ رول نہیں سمجھا کہ وہ میچ فنشر کے طور پر کھیلیں کیونکہ اگر انھیں میچ فنش کرنے کے لیے کھیلنا ہو تو پھر انھیں مڈل آرڈر بیٹسمین کے طور پر کھیلنا ہو گا۔

27 سالہ فخر زمان نے پاکستان کی جانب سے 13 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں ایک سنچری اور چار نصف سنچریاں بنائی ہیں۔ انھوں نے یہ سنچری چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں انڈیا کےخلاف بنائی تھی۔ تاہم وہ 12 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں صرف ایک نصف سنچری بنانے میں ہی کامیاب ہو سکے ہیں۔