قلندروں کی ٹیم کا کوئی قصور نہیں

پاکستان، پی ایس ایل تصویر کے کاپی رائٹ LahoreQalandars

کوئی بھی کرکٹ ٹیم بنانے کا مروجہ آسان سا فارمولا ہے کہ آپ اپنے پانچ بہترین بیٹسمین چنتے ہیں، ایک اچھا وکٹ کیپر، ایک آل راونڈر اور چار بولرز۔ کنڈیشنز اور مخالف ٹیم کی ممکنہ کمزوری کی بنیاد پہ یہ طے ہوتا ہے کہ بولنگ میں سپن اور پیس کا توازن کیا ہو گا؟

لاہور نے پہلے سال ٹیم بنائی تو اظہر علی کپتان تھے۔ بیٹنگ میں کرس گیل، عمر اکمل اور کیمرون ڈیلپورٹ جیسے سٹار تھے جبکہ آل راونڈ میں ٹی ٹونٹی کے بہترین آل راونڈر ڈوائن براوو موجود تھے۔ بولنگ میں ضیا الحق، ظفر گوہر، زوہیب خان، عدنان رسول اور حماد اعظم ہی تھے۔

یہ ٹیم حسب توقع پانچ ٹیموں کی دوڑ میں پانچویں نمبر پہ رہی۔

یہ بھی پڑھیے

وسیم بھائی کی موجودگی ہیٹ ٹرک سے زیادہ اہم

'غلطی ہوئی تھی لیکن سچ بولا تھا'

رپشن کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی ویب سائٹ کی خدمات

پی ایس ایل بورڈ کے لیے کماتی ہے یا بورڈ پی ایس ایل کے لیے؟

دوسرے سال جو ٹیم بنائی گئی اس میں کچھ انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں۔ دوسرے سال یہ فہم بھی نظر آیا کہ لاہور کی قیادت کے لیے محض کھلاڑی کا لاہوری ہونا ہی کافی نہیں ہے، ٹی ٹونٹی کا کھلاڑی ہونا بھی لازمی ہے۔ اظہر علی کی جگہ باگ ڈور بریںڈن میکلم کو تھمائی گئی۔ کرس گیل کو جانے دیا، سہیل تنویر کو لایا گیا، سنیل نارائن بھی آئے۔

اس ماحولیاتی تغیر و تبدل کے بعد بیٹنگ میں لاہور کے پاس فخر زمان، جیسن روئے، میکلم، ڈیلپورٹ اورعمر اکمل جبکہ آل راونڈ میں گرانٹ ایلیٹ جیسے مسلمہ کھلاڑی تھے۔ بولنگ میں سہیل تنویر، سنیل نارائن، یاسر شاہ اور بلاول بھٹی وغیرہ تھے۔

لیکن اس قدر انقلاب کے بعد بھی لاہور قلندرز کی ٹیم ایک بار پھر پوائنٹس ٹیبل میں پانچویں نمبر پر ہی رہی۔ 59 پہ آل آوٹ ہو کر بھی ہاری اور 200 کر کے بھی ہاری۔

تصویر کے کاپی رائٹ Lahore Qalandars

اب تیسرے سیزن کے لیے جو ٹیم ہمیں دیکھنے کو ملی ہے اس کے کپتان وہی ہیں جو دوسرے سیزن میں بطور بیٹسمین بھی ناکام رہے تھے۔ حالانکہ فخر زمان سٹار بن چکے ہیں اور میکلم نے خود بھی تمام کریئر اوپننگ ہی کی ہے لیکن پھر بھی یہ طے نہیں کر پاتے کہ ان کی اور فخر زمان کی موجودگی میں سنیل نارائن کے ساتھ اوپن کون کرے گا؟ گویا نارائن پکے اوپنر ہیں اور فخر زمان، میکلم میں سے جس کا قرعہ نکل آیا، وہ نارائن کا ساتھ دے گا۔

اب کی بار لاہور کے پاس آل راونڈر کون ہے؟ عامر یامین بولنگ میں البتہ نارائن اور یاسر شاہ جیسے سٹارز ضرور ہیں لیکن یہ جاننے کے لیے کس بقراط کا دماغ چاہیے کہ نارائن اب ویسا خطرہ نہیں رہے جیسا کبھی ہوا کرتے تھے اور یاسر شاہ بلاشبہ سرخ گیند کے تباہ کن بولر ہیں لیکن سفید گیند کے نہیں۔ پیس ڈیپارٹمنٹ میں جذبے کی بہتات بھلے ہو، تجربے کی شدید کمی ہے۔

تینوں سیریز کی ٹیموں اور اپروچز کو اگر یکجا کر کے دیکھنے کی کوشش کر بھی لی جائے تو بھی یہ سمجھ نہیں آتا کہ بحیثیت فرنچائز لاہور کرنا کیا چاہتا ہے؟ پیڈی اپٹن، مدثر نذر اور عاقب جاوید پر مشتمل تھنک ٹینک سوچ کیا رہا ہے؟ اور ٹیم کس طرح کی بنانا چاہتا ہے؟

بجا کہ اس بار کرس لِن کی انجری اور عدم دستیابی کا جواز بھی ہے کہ اگر کرس آ جاتے تو لاہور کی کئی مشکلات آسان ہو جاتیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو مشکلات کرس گیل، جیسن روئے، ڈوائن براوو اور گرانٹ ایلیٹ جیسے نابغے حل نہ کر سکے، ان کا کرس لِن کیا حل نکالتے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PSL

پی ایس ایل کا تیسرا سیزن جاری ہے کہ ہم دیکھتے ہیں لاہور کی فرنچائز مسلسل تجربات کر رہی ہے۔ پورا سال یہ فرنچائز سب سے زیادہ سرگرم رہتی ہے، ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کرواتی ہے، پروموشن اور کمرشل سرگرمیوں پہ لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے مگر جس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے، اس کے حصول سے تاحال کوسوں دور ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ مینیجمنٹ ابھی تک نہ تو ٹی ٹونٹی کرکٹ کے تقاضوں کو سمجھ پائی ہے اور نہ ہی اسے پی ایس ایل کے مزاج کی کوئی شدھ بدھ ہے۔ محض میکلم کو کپتانی دے کر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ قلندرز بھی ویسی ہی مضبوط ٹیم بن جائیں گے جیسی میکلم کی نیوزی لینڈ تھی۔ حالانکہ سوچنا یہ چاہیے تھا کہ تین ہفتوں میں کون سی ٹیم تیار ہوتی ہے؟ سوچنا یہ بھی چاہیے کہ سنگاکارا جیسا کپتان بھی اگر کراچی کی قیادت سنبھالتے ہی ناکام ہو گیا تو ملتان میں شامل ہوتے ہی ففٹی پہ ففٹی کیوں مارنے لگا؟

فی الوقت ایسا لگ رہا ہے کہ لاہور قلندرز نے اپنا ایک اور سیزن تجربات کی منڈی میں گزار دیا ہے کیونکہ جب ٹیم بنانے کا وقت تھا، تب یہ فرنچائز گدڑیاں جھاڑ جھاڑ کر لعل ڈھونڈنے میں مصروف تھی۔ تب یہ پاکستان کا تیز ترین بولر تلاش کر رہے تھے، شاید اس لیے طے نہیں کر پائے کہ ان کے چار بہترین بولر کون سے ہوں گے، وکٹ کیپر کون ہو گا اور آل راونڈر کون؟

شاید پلئینگ الیون میں ردوبدل کی بجائے اتنا ہی زور کوچنگ ’الیون‘ پہ دیا جاتا تو لاہور کا ٹائی ٹینک ایک بار پھر اندھا دھند گلیشئیر کی جانب نہ بڑھ رہا ہوتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں