کے ٹو سر کرنے کی ’خودکش‘ مہم ختم، ڈینس اروبکو کا واپسی کا فیصلہ

پہاڑ تصویر کے کاپی رائٹ Alpine club of Pakistan
Image caption ڈینس اروبکو اکیلے کے ٹو سر کرنے نکل پڑے ہیں

ساتھی کوہ پیماؤں سے جھگڑے کے بعد دنیا کے دوسرے سب سے اونچے پہاڑ کے ٹو کو اکیلے سر کرنے کے لیے نکلنے والے کوہ پیما نے مہم جوئی ختم کر کے واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

44 سالہ روسی نژاد پولش ڈینس اروبکو کوہ پیماؤں کی اس ٹیم کا حصہ ہیں جو موسمِ سرما میں یہ پہاڑ سر کر کے نیا ریکارڈ قائم کرنا چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فرانسیسی کوہ پیما خاتون اسلام آباد منتقل

پاکستان: فرانسیسی کوہ پیما کو بچا لیا گیا

کے ٹو سر کرنے کی کوشش میں پولش کوہ پیما زخمی

قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع آٹھ ہزار چھ سو میٹر بلند اس چوٹی کو آج تک کسی کوہ پیما نے موسمِ سرما میں سر نہیں کیا ہے۔

ڈینس اروبکو اتوار کو اپنے ساتھیوں سے بحث و مباحثہ کرنے کے بعد ٹیم سے علیحدہ ہو کر اکیلے ہی اپنے مشن پر نکلے تھے۔

وہ یہ مہم فروری کے ماہ میں ہی مکمل کرنا چاہتے تھے جب کہ ان کی ٹیم کے دیگر ارکان آئندہ ماہ کے آغاز تک انتظار کرنے کے حق میں تھے۔

ڈینس کا کہنا تھا کہ وہ یہ چوٹی موسمِ سرما کے سیزن کا اختتام ہونے سے قبل یعنی فروری میں ہی سر کریں گے۔

روسی نژاد پولش کوہ پیما کے اس فیصلے کو ان کی ٹیم کے ارکان اور ماہر کوہ پیماؤں نے ’خودکش‘ قرار دیا تھا۔

اس گروپ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ ڈینس اروبکو نے واپس آنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹر کے ٹو جانے والے کوہ پیماؤں کے بیس کیمپ کے اوپر سے اڑ رہا ہے

انھوں نے کہا کہ اگلی مہم جوئی میں اُن کی شمولیت کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

کوہ پیمائی کے ماہر مائیکل لیک سنسکی نے کہا تھا کہ ڈینس اروبکو کی کوشش ہے کہ وہ فروری کے مہینے میں ہی چوٹی سر کر لیں تاکہ ان کی کوشش موسم سرما میں گنی جائے۔

لڑائی کیوں ہوئی تھی؟

خبروں کے مطابق اروبکو ریڈیو کے بغیر ہی چلے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک پورٹر نے بتایا کہ 'اروبکو اپنے گروپ کو فروری میں ہی چوٹی سر کرنے پر زور دے رہے تھے اور ان کی گروپ کے سربراہ کے ساتھ کافی گرما گرمی بھی ہوئی تھی جس کے بعد وہ بغیر کوئی بات کیے گروپ چھوڑ گئے۔'

اکیلے کے ٹو سر کرنا کتنا خطرناک ہے؟

کوہ پیمائی کے دیگر ماہرین نے اروبکو کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا کہ ایسا کرنا پاگل پن ہے۔

پاکستانی کوہ پیما مرزا علی بیگ نے کہا کہ 'سردیوں میں کے ٹو اکیلے سر کرنے کی کوشش کرنا بالکل خود کشی کرنے کے جیسا ہے۔'

ایک اور کوہ پیما کریم شاہ نے کہا کہ اروبکو بہت زبردست اور ماہر کوہ پیما ہیں اور انھیں کوہ پیمائی کے حلقوں کے 'ہمالیہ کا ماہر' سمجھا جاتا ہے لیکن ان کا یہ فیصلہ غلط ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈینس اروبکو اور ان کے ساتھیوں نے گذشتہ ماہ نانگا پربت پر فرانسیسی کوہ پیما کو بچایا تھا جنھیں ہیلی کاپٹر میں منتقل کیا جا رہا ہے

ڈینس اروبکو کتنے ماہر ہیں؟

روسی پولش کوہ پیما ڈینس اروبکو کو بہت قابل کوہ پیما سمجھا جاتا ہے جنھوں نے 8000 میٹر سے اونچی دنیا کی تمام چوٹیاں عبور کی ہوئی ہیں۔

گذشتہ ماہ ڈینس اروبکو اور ان کے ساتھیوں کا نام خبروں کی زینت بنا تھا جب اپنے تین اور ساتھیوں کے ہمراہ انھوں نے حیران کن بہادری اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نانگا پربت پر فرانسیسی کوہ پیما الزبتھ ریول کو بچایا تھا۔

واضح رہے کہ کے ٹو کو دنیا کا مشکل ترین پہاڑ سمجھا جاتا ہے اور ان مشکلات کی وجہ سے اسی 'وحشی پہاڑ' بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی ساڑھ آٹھ ہزار میٹر سے بھی زیادہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں