’میچ وننگ کارکردگی دکھا کر پاکستانی ٹیم میں آنا چاہتا ہوں‘

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
،ویڈیو کیپشن

پہلے میچ میں وکٹ نہیں ملی لیکن پریشان نہیں ہوا: ابتسام شیخ

ٹیلنٹ وہ جو پہلی ہی نظر میں سب کو متاثر کر جائے۔

19 سالہ لیگ سپن گگلی بولر ابتسام شیخ کے بارے میں پشاور زلمی کے ہیڈ کوچ محمد اکرم نے پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے قبل ہی کہہ دیا تھا کہ یہ بچہ بڑا باصلاحیت ہے اور کچھ کردکھائے گا۔

ابتسام شیخ کو پشاور زلمی نے ایمرجنگ کیٹگری میں شامل کیا ہے اور دو میچوں میں متاثر کن کارکردگی دکھانے کے بعد وہ اب مبصرین اور تجزیہ کاروں کی گفتگو کا بڑا موضوع بن چکے ہیں اور یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ جس طرح پاکستان سپر لیگ نے حسن علی محمد نواز اور شاداب خان کو بین الاقوامی کرکٹ کا راستہ دکھایا ہے ابتسام شیخ بھی اسی طرح بہت جلد بین الاقوامی کرکٹ کا حصہ بن جائیں گے۔

خود ابتسام شیخ بی بی سی اردو کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

’مجھے یقین ہے کہ حسن علی، شاداب خان اور محمد نواز کے بعد اگلا نام میرا ہی ہوگا ۔میری کوشش ہوگی کہ اپنی کارکردگی سے اپنی ٹیم کو کامیابی دلاؤں کیونکہ میچ وننگ کارکردگی سے ہی میرا کہیں نہ کہیں نام آئے گا۔‘

ابتسام شیخ کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ان میں بلا کا اعتماد ہے۔

’پہلے میچ میں مجھے وکٹ نہیں ملی لیکن میں پریشان نہیں تھا میرے سامنے ورلڈ کلاس بیٹسمین تھے میں اپنے طور پر جتنی اچھی بولنگ کرسکتا تھا میں نے کوشش کی مگر انھوں نے اچھے شاٹس کھیلے لیکن میرا اعتماد متاثر نہیں ہوا اسی وجہ سے میں نے اگلے دو میچوں میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔‘

یاد رہے کہ ابتسام نے اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف بیس رنز دے کر تین جبکہ کراچی کنگز کے خلاف پچیس رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔

ابتسام شیخ کے لیے وہ لمحہ ناقابل یقین تھا جب انہیں پشاور زلمی میں شمولیت کی خبر ملی۔

’جب مجھے بتایا گیا کہ میرا نام ایمرجنگ کیٹگری میں آیا ہے تو خوشی سے موبائل فون میرے ہاتھ سے اچھل گیا۔ جو خوشی تھی وہ بیان نہیں کرسکتا۔‘

عینک لگاکر کرکٹ کھیلنے والے ابتسام شیخ کا تعلق پاکستان کے شہر حیدرآباد سے ہے اور وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کی طرح حافظ قرآن بھی ہیں۔ ان کے والد اور بڑے بھائی ڈاکٹر ہیں۔ گلی محلے کی کرکٹ سے پاکستان سپر لیگ تک پہنچنے میں ابتسام کی محنت کا دخل نمایاں ہے جو اپنے شوق کی تکمیل میں حیدرآباد کی سخت گرمی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گھنٹوں بولنگ کیا کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہSaeed Ajmal/FB

،تصویر کا کیپشن

19 سالہ ابتسام شیخ کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے وہ لیگ بریک گگلی بولر ہیں

’مجھے پہلی حوصلہ افزائی گھر سے ملی ۔کالج کے گراؤنڈ میں ٹیپ بال سے کرکٹ شروع کی پھر باقاعدہ کرکٹ کی گیند سے میچز کھیلنے شروع کیے۔ پھر ماما شوکت بلوچ کی اکیڈمی میں شامل ہوا۔ وہ میرے استاد بھی ہیں۔ جب ریجنل کرکٹ میں آیا تو حیدرآباد ریجن کے ہیڈ کوچ اقبال امام نے ہمت بڑھائی جس کے بعد نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں مشتاق احمد نے مجھ پر بہت توجہ دی جبکہ فیصل آباد کے کوچ تنویر شوکت نے میری فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کرائی۔‘

ابتسام شیخ نے اسی سیزن میں اپنے فرسٹ کلاس کریئر کی ابتدا کی ہے اور فیصل آباد کی نمائندگی کرتے ہوئے سوئی گیس نادرن کے خلاف دو میچز کھیلے ہیں۔

’میں نے پہلے ہی میچ میں مصباح الحق کو آؤٹ کیا۔ دراصل وہی موقع تھا کہ اتنے بڑے بیٹسمین کو آؤٹ کرنے سےمیرے اعتماد میں اضافہ ہوا‘

دوسرے کئی لیگ اسپنرز کی طرح ابتسام کے پسندیدہ بولر شین وارن ہیں جن کی وڈیوز دیکھ کر وہ اپنی بولنگ میں بہتری لانے کی کوشش کررہے ہیں۔