ملک یا پرائیویٹ لیگز، فوقیت کسے دی جائے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کی طرف سے اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے کھلاڑیوں کو کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہو گی: سرفراز احمد

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا خیال ہے کہ اگر کرکٹروں کو اپنے ملک کے لیے کھیلنا ہے تو انھیں لیگز کی کچھ نہ کچھ قربانی دینا ہو گی۔

واضح رہے کہ ان دنوں یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ کرکٹروں کو اپنے ملک اور پرائیویٹ لیگز میں کسے فوقیت دینی چاہیے اور اس میں توازن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے۔

سرفراز احمد نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر کرکٹر پاکستان کی طرف سے اچھا کھیلنا چاہتے ہیں تو انھیں لیگز کے معاملے میں کچھ نہ کچھ قربانی دینا ہو گی کیونکہ بہت زیادہ کھیلنے سے وہ تھک جائیں گے۔

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ کرکٹروں کے لیے مکمل فٹ رہنا بہت ضروری ہے اسی لیے کوچ مکی آرتھر نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستانی کرکٹر پی ایس ایل کے دوران بھی ٹرینر گرانٹ لوڈن کے ساتھ اپنی فٹنس پر کام کرتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’اِدھر اُدھر کی کرکٹ پر کنٹرول کرنا ہو گا‘

پی ایس ایل بورڈ کے لیے کماتی ہے یا بورڈ پی ایس ایل کے لیے؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ کرکٹروں کو پرائیوٹ لیگز کھیلنے سے صرف اسی صورت میں روکا جاسکتا ہے جب آپ اپنے سینٹرل کنٹریکٹ کے کھلاڑیوں اور دوسرے کرکٹرز کے معاوضوں میں اضافہ کریں گے۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس وقت سینٹرل کنٹریکٹ میں اے کیٹگری کے کرکٹر کو سال کے 55،60 لاکھ روپے ملتے ہیں جبکہ ایک کرکٹر ہفتے دس دن کی لیگ کھیل کر اتنے ہی پیسے بنا لیتا ہے۔ ہمارے سامنے بھارتی کرکٹروں کی مثال موجود ہے جن کا بورڈ انھیں اتنا زیادہ معاوضہ دیتا ہے کہ انھیں آئی پی ایل کے علاوہ کوئی دوسری لیگ کھیلنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر کھلاڑی اپنے ملک کی طرف سے نہیں کھیل رہے تو کوئی بھی ان کو نہیں پہچانے گا: وسیم اکرم

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستانی کرکٹروں کو پرائیویٹ لیگز میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ کس کھلاڑی کے لیے لیگ میں حصہ لینا ضروری ہے۔ اگر یہ دیکھا گیا کہ کوئی کرکٹر تھکاوٹ کا شکار ہے تو اسے آرام دیا جائے گا۔

سابق کپتان اور ملتان سلطانز کے ڈائریکٹر کرکٹ وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ اولین ترجیح ملک کی طرف سے کھیلنا ہے کیونکہ اگر آپ اپنے ملک کی طرف سے نہیں کھیل رہے تو کوئی بھی آپ کو نہیں پہچانے گا۔ آپ جتنی زیادہ فرنچائز کرکٹ کھیل لیں آخری میں آپ کے پاس صرف پیسہ ہی ہو گا اس کے بعد کچھ نہیں۔

وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ اگر کرکٹروں کی فٹنس اجازت دیتی ہے تو انھیں لیگز ضرور کھیلنی چاہییں لیکن پہلے اپنے ملک کے لیے سوچنا چاہیے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ لیگز اور قومی ڈیوٹی میں توازن اسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو مستحکم کردیا جائے اور کرکٹروں کے معاوضوں میں اتنا اضافہ ہو جائے کہ وہ کسی لیگ میں جانے سے پہلے فائدے اور نقصان کے بارے میں سوچ سکیں اسی طرح سینٹرل کنٹریکٹ کرکٹروں کے معاوضوں میں اضافہ کر کے ان کی پرائیویٹ لیگز میں شرکت کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں