روس کی اولمپکس رکنیت بحال کردی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

روس کی اولمپکس کمیٹی کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے شہر پیونگچین میں منعقد ہونے والی سرمائی اولمپکس میں شرکت کرنے پر پابندی کے بعد اب ان کی رکنیت دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔

اولمپکس کی بین الاقوامی کمیٹی کی جانب سے ڈوپنگ کے الزامات کے تحت فروری میں منعقدہ ان مقابلوں میں روس کے حصہ لینے پر پابندی عائد تھی۔

اسی بارے میں

2018 کے سرمائی اولمپکس میں روس کی شرکت پر پابندی

’روس سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کے الزام کو تسلیم کر لے‘

روسی حکام کا پہلی بار ڈوپنگ کا اعتراف

اتوار کو مقابلوں کی اختتامی تقریب کے موقعے پر آئی او سی نے کہا تھا کہ ڈوپنگ کی خلاف ورزی نہ کیے جانے کی صورت میں یہ پابندی ہٹا لی جائے گی۔

روس کی اولمپک کمیٹی کے صدر ایلیگزینڈر زوکوف نے آئی او سی کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اہم فیصلہ قرار دیا۔

قومی ٹیلی وژن پر روسی اولمپکس کمیٹی نے بتایا کہ ان کے حقوق مکمل طور پر بحال کر دیے گئے ہیں۔

آئی او سی نے ابھی اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

روس کے 168 کھلاڑیوں نے ایک غیر جانبدار ٹیم ’اولمپک ایتھیلٹس فرام رشّیا‘ کے نام سے ان مقابلوں میں شرکت کی۔ تاہم ان میں سے دو بھی منشیات کے ٹیسٹ میں فیل ہو گئے۔

انھیں اب یہ ثبوت دینا ہوں گے کہ انھوں نے مقابلوں سے قبل کوئی دوائیں نہیں لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

یہ ٹیم ان مقابلوں میں تیسرے نمبر پر رہی انھوں نے 17 میڈلز جیتے۔

جب دسمبر میں انٹرنیشل اولمپک کمیٹی نے روس پر پابندی عائد کی تھی تو صدر تھامس بیچ نے کہا تھا کہ سوچی میں ہونے والے سنہ 2014 کے مقابلوں میں ڈوپنگ کا معاملہ دراصل اولمپکس مقابلوں اورکھیل پر ایک بے مثال حملہ ہے۔

آئی او سی نے نے 17 ماہ کی تحقیقاتی رپورٹوں اور تجاویز کو پڑھنے کے بعد روس پر پابندی عائد کی تھی۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر گریگوری روڈچنکاف سنہ 2014 میں سوچی کے سرمائی اولمپکس کے دوران روس کی اینٹی ڈوپنگ لیبارٹری کے ڈائریکٹر تھے۔ انھوں نے روس پر اپنے کھلاڑیوں کے لیے ڈوپنگ کا ایک منظم پروگرام چلانے کا الزام عائد کیا اور دعوی کیا کہ روس نے ایک دوا بنائی تھی جس سے کھلاڑی کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں