انضمام الحق کھلاڑیوں کے ان فٹ ہونے سے پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کرکٹ ٹیم کو متحدہ عرب امارات میں جاری پاکستان سپر لیگ کے فوراً بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف تین بین الاقوامی میچوں کی سیریز کھیلنی ہے لیکن ٹیم کے چند کھلاڑی مکمل طور پر فٹ نہیں جس نے سلیکشن کمیٹی اور ٹیم منیجمنٹ کو پریشان کر رکھا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق چند روز کے لیے شارجہ آئے ہوئے ہیں۔ وہ یہاں ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور کپتان سرفراز احمد سے ٹیم سلیکشن اور پرائیوٹ لیگز میں پاکستانی کرکٹرز کی شرکت کے سلسلے میں پالیسی بنائے جانے کے سلسلے میں مشاورت کر رہے ہیں لیکن انضمام الحق تسلیم کرتے ہیں کہ ٹیم کے چند اہم کرکٹرز کے فٹنس مسائل پریشان کن ہیں۔

انضمام الحق نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جس طرح حسن علی، شاداب خان، رومان رئیس اور حارث سہیل کی انجریز سامنے آئی ہیں وہ پریشانی کا سبب ہیں کیونکہ یہ تمام کرکٹرز پاکستانی ٹیم کے لیے بہت اہم ہیں۔

پی ایس ایل کے حوالے سے مزید پڑھیے

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پشاور زلمی کی جیت

دو چینی کرکٹروں کی پشاور زلمی کے ساتھ ٹریننگ

مستفیض الرحمان لاہور قلندرز کا ساتھ چھوڑ گئے

ملک یا پرائیویٹ لیگز، فوقیت کسے دی جائے؟

'اِدھر اُدھر کی کرکٹ پر کنٹرول کرنا ہو گا'

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ فٹنس کے انہی مسائل کی وجہ سے پاکستانی کرکٹرز کی پرائیوٹ لیگز میں شرکت کو کنٹرول کرنے کے بارے میں پالیسی مرتب کی جا رہی ہے جس کا مقصد ان کرکٹرز کو ان لیگز میں شرکت سے روکنا نہیں بلکہ انھیں ان فٹ ہونے سے بچانا ہے تاکہ جب کوئی بڑی سیریز یا ورلڈ کپ آئے تو وہ مکمل طور پر فٹ ہوں۔

سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو آرام کی بھی سخت ضرورت ہوتی ہے۔

انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ہر فارمیٹ کے لیے علیحدہ علیحدہ کھلاڑی رکھے جائیں تاکہ فٹنس کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب کسی کھلاڑی کو کسی ایک فارمیٹ میں محدود کیا جاتا ہے تو میڈیا ہی سب سے زیادہ شور مچاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے 20 کرکٹرز کو ذہن میں رکھا گیا ہے اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک سال تک اسی ٹیم کو انٹرنیشنل میچز کھیلنے چاہئیں جو ورلڈ کپ کھیلے گی اس سے کھلاڑیوں میں اعتماد پیدا ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں