’یہ کرکٹ نہیں کچھ اور ہی تھا‘

پاکستان، کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ PSL

یہ پاکستان سپر لیگ 2 کی بات ہے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا میچ جاری تھا۔ آخری اوور میں جیت کے لیے پانچ رنز درکار تھے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی سات وکٹیں باقی تھیں، انور علی سامنا کر رہے تھے، محمد سمیع بولنگ کر رہے تھے۔ سیزن کے ٹاپ سکورر رائلی روسو نان سٹرائیکر اینڈ پر موجود تھے۔

کیسے ممکن تھا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز چھ گیندوں پر پانچ رنز نہ بنا پاتا؟

کچھ ہی دیر بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ایک رن سے میچ ہار چکا تھا۔

کوئی میچ سمری جب اس طرح کے کلائمیکس پہ منتج ہوتی ہے تو یقینًا دماغ ماؤف ہو جاتا ہے کہ سات وکٹیں ہاتھ میں ہوں، بہترین بیٹسمین میدان میں ہو، دو تجربہ کار آل راؤنڈر بھی سامنا کریں اور پھر بھی نتیجہ ایک رن سے شکست ہو تو ہر کوئی یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ کرکٹ نہیں تھی کچھ اور ہی تھا۔

مگر یہ ’کچھ اور‘ ہوتا کیا ہے؟

ٹی ٹونٹی کرکٹ میں اس طرح کے ناقابل فہم ڈرامے اکثر ہو جاتے ہیں کہ پانچ وکٹیں باقی رہ جاتی ہیں اور بیٹنگ سائیڈ تین رنز سے میچ ہار جاتی ہے۔ ایسے میں جب عقدہ خالصتا کرکٹنگ پیرائے میں دیکھنے سے حل نہیں ہوتا تو نہایت آسانی سے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ کرکٹ نہیں کچھ اور کھیلا جا رہا ہے۔

شارجہ میں جمعے کی شب کھیلا جانے والا پی ایس ایل کا میچ لاہور قلندرز کو ہر حال میں جیتنا چاہیے تھا۔ 52 گیندوں پہ 45 رنز درکار تھے، آٹھ وکٹیں ہاتھ میں تھیں، میکلم کریز پر موجود تھے اور اپنے مزاج کے بالکل برعکس ایک سست رفتار لمبی اننگز کھیل رہے تھے۔ کیا امر مانع تھا کہ لاہور جیت نہ پاتا؟

لیکن ایک بار پھر لاہور قلندرز کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی۔ آخری آٹھ وکٹیں صرف 44 رنز کے عوض گر گئیں۔ آخری اوور کی پہلی گیند بھی مس ہو گئی۔ میکلم نے 19 اوور میں اپنے ارد گرد اس قدر انتشار دیکھا کہ ان کے اعصاب شل ہو گئے۔ وہ یہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ابھی اوور کی چار گیندیں باقی ہیں اور ہدف صرف ایک شاٹ کی مار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL

جس وقت بین سٹوکس آخری اوور پھینکنے آئے تھے اور کارلوس براتھویٹ سامنا کر رہے تھے تو کسی کو ذرہ بھر بھی شائبہ نہیں تھا کہ اس دو بدو اعصاب کی جنگ میں فاتح کون ہو گا؟ براتھویٹ نے ورلڈ ٹی ٹونٹی کا ٹائٹل جیتنے کے لیے جو پہلا چھکا مارا، لائن اور لینتھ کے اعتبار سے وہ بری گیند نہیں تھی، اس چھکے میں فقط براتھویٹ کی خوش قسمتی تھی، ورنہ اس گیند میں ایسا کچھ برا نہیں تھا کہ یہ نتیجہ نکلتا۔

لیکن اس ایک چھکے نے بین سٹوکس کے حواس کو ایسے منتشر کیا کہ اگلی تین گیندیں انھیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کہاں ہیں، کیوں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ اگلی تین گیندیں بجا طور پر چھکے ہی کی حقدار تھیں۔

جس وقت کوئٹہ ایک رن سے ہارا تھا، آخری گیند کا سامنا رائلی روسو نے کیا تھا، انھیں میچ جیتنے کے لیے تین رنز درکار تھے، محمد سمیع نے انھیں روم نہیں دیا، ان کے ذہن کی چال گیند کی رفتار سے مل نہیں پائی، بمشکل وہ اتنا ہی کر پائے کہ مڈ آن کی جانب کھیل دیا۔

یہ سب جانتے ہیں کہ مڈ آن پہ کھیل کر تین رنز کبھی نہیں بن سکتے، دو رنز بھی صرف تبھی بن سکتے ہیں جب مس فیلڈ ہو جائے یا اوور تھرو ہو جائے مگر جب آپ کو ہر صورت میں دو رنز بنانا ہی ہوں تو آپ گیند کی جانب دیکھے بغیر دوڑے چلے جاتے ہیں۔

روسو جب پہلا رن لینے کے لیے دوڑے تو پچھلے چند اوورز میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد انھیں یاد ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں، کیوں ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟

جس وقت روسو نے پہلا رن مکمل کیا تو دوسرے اینڈ سے تھسارا پریرا چیختے رہ گئے کہ وہ دوسرے کے لیے بھاگیں مگر روسو نے سنی ان سنی کر دی۔ اس وقت وہ صرف یہ جانتے تھے کہ وہ ایک مشکل سنگل لیتے ہوئے رن آوٹ ہونے سے بچ گئے۔ جس وننگ پوزیشن سے وہ یہاں تک پہنچے تھے، اس کی سنسنی میں انھیں یاد ہی نہ رہا کہ میچ برابر کرنے کے لیے بھی دوسرا رن تو چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL

کل شب میکولم بھی جن ذہنی چالوں اور اتار چڑھاؤ سے گزرے، ان پہ بھی کچھ ویسی ہی کیفیت طاری ہو گئی۔ ٹی ٹونٹی کی رفتار کچھ ایسی ہوتی ہے کہ جب اچانک بساط پلٹنے لگتی ہے تو پھر سبھی اس لمحے میں ایسے گم ہو جاتے ہیں کہ کوئی بھی پلٹ کر سانس نہیں لے پاتا اور نہ ہی یہ یاد رکھ پاتا ہے کہ سپر اوور دن کے بہترین بولر سے کروایا جاتا ہے نہ کہ بد ترین سے۔

کل لاہور کے بہترین بولر سنیل نارائن تھے جنھوں نے چار اوورز میں صرف 10 رنز دیے۔ جبکہ مستفیض الرحمان نے اپنے چار اوورز میں 39 رنز دیے تھے۔

لاہور نے پھر بھی سپر اوور کے لیے مستفیض الرحمن کو چنا۔ حالانکہ جس میچ کے 40 اوورز میں سپنرز نے راج کیا تھا، وہاں سنیل نارائن آندرے رسل سے کیا ڈرتے؟

واقعی یہ کرکٹ نہیں کچھ اور ہی تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں