’ہیٹ ٹرک میں تجربہ کام آیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مجھے آئیڈیا تھا کہ آخری گیند پر بیٹسمین کو میری الٹی گیند ( گگلی ) کی توقع ہوگی: عمران طاہر

جنوبی افریقی لیگ سپنر عمران طاہر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف ہیٹ ٹرک مکمل کرنے میں ان کا تجربہ کام آیا۔

’مجھے آئیڈیا تھا کہ آخری گیند پر بیٹسمین کو میری الٹی گیند ( گگلی ) کی توقع ہوگی لہذا میں نے جو پلان کیا تھا اسی کے مطابق گیند کی اور مجھے خوشی ہے کہ میں کامیاب رہا۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنی خوشی بیان کرسکوں۔‘

واضح رہے کہ عمران طاہر نے پاکستان سپر لیگ میں ہفتے کے روز ملتان سلطانز کی طرف سے کھیلتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے حسان خان، جان ہیسٹنگز اور راحت علی کو لگاتار گیندوں پر آؤٹ کرکے ہیٹ ٹرک کی ہے۔

یہ موجودہ پی ایس ایل کی دوسری ہیٹ ٹرک ہے اس سے قبل ملتان سلطانز ہی کے فاسٹ بولر جنید خان نے لاہورقلندر کےخلاف دبئی میں ہیٹ ٹرک کی تھی۔

عمران طاہر اپنی اس ہیٹ ٹرک کو سپیشل قرار دیتے ہیں۔

’میں نے اس سے قبل انگلینڈ میں بھی ہیٹ ٹرک کی تھی لیکن یہ ہیٹ ٹرک خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ میری فیملی بھی اسوقت میرے ساتھ ہے اور اس کے سامنے اس کارکردگی پر میں خوش ہوں۔‘

عمران طاہر کی خواہش ہے کہ ملتان سلطانز فائنل تک پہنچے اور وہ پاکستان جائیں۔

’پاکستان جانے کی بہت زیادہ خوشی ہوگی کیونکہ میری فیملی کے لوگ لاہور میں بھی ہیں جو یقیناً میچ دیکھنے آئیں گے ۔ میں اس کے لیے بہت زیادہ پر جوش ہوں لیکن فی الحال میری توجہ شارجہ اور دبئی کے میچوں پر ہے جن میں ہمیں اچھی کارکردگی دکھانی ہے۔‘

پی ایس ایل: غیرملکی کرکٹرز میں کون دھاک بٹھائے گا؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
موقع ملے تو ایسی لیگز ضرور کھیلنی چاہیے

یاد رہے کہ عمران طاہر کا تعلق لاہور سے ہے اور انہوں نے انڈر نائنٹین ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے علاوہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی ابتدا بھی پاکستان میں کی تھی جس کے بعد وہ انگلینڈ اور پھر وہاں سے جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔

عمران طاہر گزشتہ سال ستمبر میں ورلڈ الیون کی طرف سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے پاکستان جاچکے ہیں۔

عمران طاہر پہلی بار پاکستان سپر لیگ کھیل رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پوری طرح اس ایونٹ سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

’ملتان سلطانز کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ خاصا خوشگوار رہا ہے ۔ زبردست ماحول ہے۔ ہم ہر میچ کو چیلنج سمجھ کر کھیل رہے ہیں اور تمام کھلاڑی پراعتماد ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات