’ہر کوئی کپتان پر اعتماد کرتا ہے‘: لاہور قلندر کے مالک فواد رانا

Image caption لاہور قلندر کے سربراہ فواد رانا میدان میں اپنی قلندرانہ طبعیت کے سبب سب سے منفرد نظر آتے ہیں

پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی لاہور قلندر کے چیئرمین فواد رانا کے خیال میں ان کی ٹیم کی کارکردگی کسی بھیانک خواب سے کم نہیں رہی۔

یاد رہے کہ لاہور قلندر کی ٹیم مسلسل تیسرے سال پاکستان سپر لیگ میں سب سے آخری نمبر پر آئی ہے۔

فواد رانا کا کہنا ہے کہ یہ کارکردگی نہ صرف ان کی بلکہ پورے ملک کی توقعات کے مطابق نہیں ہے۔

فواد رانا نے سارا سال محنت کی ۔ لیّہ سے لے کر کشمیر تک جا کر ٹیلنٹ تلاش کیا، ان کا کیمپ لگایا۔ ان کرکٹرز کو آسٹریلیا بھیجا۔ انضمام الحق اور شعیب اختر کو کیمپ میں بلایا جبکہ عاقب جاوید جیسے تجربہ کار کوچ کو بھی تعینات کیا۔

یہ بھی پڑھیے

’آپ خوش ہوتے ہیں تو ہمارا حوصلہ بڑھتا ہے‘

جنوبی افریقہ لیگ: زلمی، قلندرز کے مالکان نے ٹیمیں خرید لیں

فواد رانا کا کہنا ہے کہ انھوں نے کرکٹ سے متعلق اہم معاملات ٹیم منیجمنٹ پر چھوڑ رکھے ہیں اور کبھی بھی ان میں مداخلت نہیں کی ہے۔

اس فرنچائز کرکٹ میں آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا ضابطہ اخلاق موجود ہے کہ ٹیم مالکان ٹیم میٹنگز میں شامل نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کی ٹیم کے کھلاڑیوں کے کمروں تک رسائی ہوتی ہے، لہذا وہ مالک ہونے کے ناتے اس پر عمل کرتے ہیں۔ وہ ٹیم میٹنگز کا حصہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو جس کا کام ہے وہ اسی کو ساجھے۔

فواد رانا کا کہنا ہے کہ وہ لاہور قلندر کی مایوس کن کارکردگی پر کسی پر انگلی اٹھا کر الزام عائد کرنا نہیں چاہتے۔ یہ ان کے مزاج میں شامل نہیں ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ٹیم اچھا کھیلنے میں ناکام رہی ہے لیکن وہ مایوس نہیں ہیں۔

فواد رانا نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ ٹیم میں اندرونی اختلافات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہر کوئی کپتان برینڈن مکلم پر اعتماد کرتا ہے کیونکہ وہ بہت بڑے کرکٹر ہیں اور ان کی ٹیم کے ساتھ وابستگی اور لگاؤ سے کسی کو بھی انکار نہیں۔

فواد رانا نے اس بات کی بھی تردید کی کہ عمراکمل کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ٹیم سے الگ کر دیا گیا ہے اور انہیں ٹیم کے ساتھ میدان میں نہیں لایا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ عمراکمل کی کارکردگی کو وہ اس انداز سے دیکھتے ہیں کہ وہ آؤٹ آف فارم تھے لہٰذا وہ عمراکمل پر کبھی بھی تنقید یا الزام عائد نہیں کریں گے۔

اس مرحلے پر ان کے بارے میں غلط باتیں مناسب نہیں ہیں بلکہ ان کی ہمت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ عمراکمل کو بینچ پر بیٹھا کر ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی تھی اسی لیے انہیں میدان میں نہیں لایا گیا۔

انہیں یقین ہے کہ عمراکمل کی فارم جلد واپس آئے گی اور وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

فواد رانا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دیگر فرنچائز مالکان کے برعکس میدان میں سب سے زیادہ اپنے احساسات ظاہر کرتے ہیں لیکن لاہور قلندر کی مایوس کن کارکردگی پر سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں دلچسپ کمنٹس اور وڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس پر وہ قطعاً ناخوش نہیں ہیں۔

فواد رانا کا کہنا ہے کہ وہ لاہور کی روایت کے مطابق زندہ دل شخص ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ زندہ دلانِ لاہور کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اپنے احساسات چھپانے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ خود کو لاہور قلندر کا مالک نہیں بلکہ پرستار سمجھتے ہیں اور جو کچھ بھی وہ میدان میں کرتے ہیں اس کا مقصد ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں جو کچھ بھی لکھا گیا ہے یا دکھایا گیا ہے اسے وہ چاہنے والوں کی محبت سمجھتے ہیں جس پر وہ کیسے ناراض ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں