ناگن ڈانس کا کرکٹ سے کیا تعلق؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بنگلہ دیش کو جیت کر ٹرائی سیریز کے فائنل میں پہنچنے کے لیے پانچ گیندوں پہ 12 رنز درکار تھے، اوور کی پہلی گیند شارٹ پچ باونسر تھی۔ اگلی گیند بھی اسی لینتھ اور لائن پہ پھینکی گئی، مستفیض الرحمن آوٹ ہو گئے۔ لیگ امپائر اور سٹینڈنگ امپائر کے درمیان کنفیوزن ہوئی مگر آؤٹ دے دیا گیا۔

اب بنگلہ دیش کو چار گیندوں پہ 12 رنز درکار تھے، اگر نو بال مل جاتی تو پانچ گیندوں پہ 11 رنز رہ جاتے اور فری ہٹ بھی ملتی۔ بیٹسمین محموداللہ کی اس معاملے پہ امپائر سے کافی بحث ہوئی، جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی اور بنگلہ دیشی ڈریسنگ روم آگ بگولہ ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے!

ڈیوڈ وارنر حالات سے ناراض ہیں

’یہ کرکٹ نہیں کچھ اور ہی تھا‘

'کرکٹ کے لیجنڈز بھی کرکٹ پہ رحم کریں'

اسی اثنا میں، ایک متبادل بنگلہ دیشی پلئیر جو میچ کا حصہ نہیں تھے اور گراونڈ میں صرف اپنے ساتھی بلے بازوں کو پانی پلانے آئے تھے، واپس جاتے ہوئے باونڈری پہ کھڑے سری لنکن فیلڈر سے الجھ پڑے، نوبت یہاں تک آ گئی کہ سری لنکن پلئیر نے دھکا دے کر انہیں ہٹایا۔

بیٹسمین اس دوران کریز چھوڑ کر باونڈری پہ ہوتی خانہ جںگی کا ثالث بن گیا۔ بیچ میں ہی کہیں، بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن ڈریسنگ روم سے دوڑے دوڑے آئے اور باونڈری کے پاس آ کر فورتھ امپائر سے الجھنے لگے۔ اس دوران انھوں نے اپنے بلے بازوں کو واپس بلا کر میچ چھوڑنے کی کوشش بھی کی۔

یہ سارے ڈرامے ختم ہوئے تو کچھ ہی دیر بعد محمود اللہ اختتامی لمحات کو ایک شاندار چھکے سے رونق بخش رہے تھے۔ بنگلہ دیش جیت گیا۔ اس کے بعد تمام بنگلہ دیشی پلئیرز گراونڈ میں کود آئے اور سری لنکن پلئیرز کو چڑانے کے لیے اجتماعی ناگن ڈانس کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران بھی کوسال مینڈس اور بنگلہ دیشی پلئیرز کے درمیان نوک جھونک جاری رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کچھ ہی دیر بعد پتا چلا کہ بنگلہ دیشی ڈریسنگ روم کا شیشہ کسی نے توڑ دیا ہے۔

کوئی ہفتہ پہلے ساؤتھ افریقہ اور آسٹریلیا کے مابین جاری دوسرے ٹیسٹ کے دوران کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے کچھ اہلکاروں نے مبینہ طور پر کچھ لوگوں کو گراونڈ میں داخل کیا جو، کوئنٹن ڈی کوک اور وارنر تنازعے کا بدلہ لینے کے لیے، وارنر کی بیوی کے سابقہ دوست کے ماسک پہن کر تماشائیوں کی اگلی صف میں کھڑے ہو گئے اور وارنر پہ آوازے کستے رہے۔

سمجھ نہیں آتا کہ شرفا کی گیم کے ساتھ اچانک ایسا کیا ہو گیا ہے کہ اب صرف بال اور بیٹ برتری ثابت کرنے کو کافی نہیں رہے، بیچ میں ہاتھا پائی کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ بیویوں کے سابقہ بوائے فرینڈز کے حوالے بھی درکار ہوتے ہیں اور ڈریسنگ روم کے شیشے توڑنا بھی سیلیبریشن کا جزو لازم بن گیا ہے۔

آئی سی سی نے کوڈ آف کنڈکٹ کے حوالے سے ایک جامع ضابطہ وضع کر رکھا ہے جس میں پلئیرز کو ایسی ناشائستہ حرکات پہ ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جاتے ہیں اور پوائنٹ بڑھنے پہ میچز کی پابندی بھی عائد کی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جو کھیل کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے۔

کگیسو ربادا جب پورٹ الزبتھ میں بولنگ کے لیے آئے تو وہ دو میچوں کی پابندی سے صرف ایک پوائنٹ دوری پہ تھے۔ آسٹریلیا انہیں ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ بنا کر آیا تھا لیکن ربادا آسٹریلیا سے بھی زیادہ تیار ہو کر آئے تھے۔ ایک طرف اپنی بولنگ سے وہ نمبرون رینکنگ تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور ساتھ ہی اپنے رویے کے طفیل دو میچز کی پابندی حاصل کرنے میں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کچھ ہفتے پہلے جب سری لنکن ٹیم بنگلہ دیش کے دورے پہ تھی، تب سیلیبریشن کے لیے ناگن ڈانس کی یہ اختراع ہوئی اور ہفتوں میں ہی اتنی منہ زور ہو گئی کہ کل ڈریسنگ روم کا شیشہ ٹوٹنے پہ منتج ہوئی۔

عموماً اس معاملے میں امپائرز پہ دوش دیا جاتا ہے کہ وہ گیم سپرٹ کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موثر کردار ادا نہیں کرتے لیکن اس تنقید کے باوجود امپائرز کی اتھارٹی میں کوئی عملی اضافہ ہمیں دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ حالانکہ اگر فٹبال کی طرز پہ ہی ییلو کارڈز کا نظام متعارف کرا دیا جائے تو کافی بہتری آ سکتی ہے۔

ثانیا، اگر پلئیر کے خراب رویے کے ڈی میرٹ پوائنٹس میں تھوڑا بہت حصہ کوچ اور کپتان کو بھی دے دیا جائے تو ممکن ہے اگلی بار سمتھ میڈیا پہ وارنر کا دفاع کرنے کی بجائے فیلڈ پہ ہی بیچ بچاو کروا دیں۔ کرکٹ ساوتھ افریقہ کو وارنر کی بیوی کے سابقہ دوست کے ماسک نہ تیار کروانا پڑیں اور شاید ناگن ڈانس کی ضد میں آنے والا کوئی اور ڈریسنگ روم اپنے شیشے بچا لے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں