یہ گلیڈی ایٹرز کی قسمت نہیں تھی

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پہلے دونوں سیزنز کے فائنل کھیلنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس بار فائنل نہیں کھیل پائے گی

پچھلی بار جب پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہوا تھا تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں مد مقابل تھیں۔ بشمول غیرملکی کھلاڑی، پشاور زلمی کے پورے سکواڈ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے برعکس کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سبھی غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے بہت بڑا دھچکا کیون پیٹرسن کا انکار تھا، جس کو مہمیز انھوں نے اپنے ٹویٹ سے کر ڈالا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ ’بیسٹ آف لک میری ٹیم کوئٹہ! میچ میں صرف گیند کو دیکھیے گا، گیند کو ہٹ کیجیے گا، گیند کو کیچ کیجیے گا۔‘

اپنے تئیں وہ جانتے تھے کہ جس طرح سے ان کے دیگر غیر ملکی ساتھیوں نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے وننگ کمبی نیشن کو عین منزل کے قریب آ کے چھوڑا، ٹیم کے ٹائٹل تک رسائی کے امکانات بہت سے اگر مگر میں گھر چکے تھے۔ گراؤنڈ میں تو جو بھی ہوتا، بعد کی بات تھی، وہ جانتے تھے کہ ان کے نہ آنے سے ہی ٹیم کے حوصلے پست ہو چکے تھے، جنھیں وہ اپنے ایک نیک خواہشات بھرے ٹویٹ سے بلند کر کے انگلینڈ روانہ ہو گئے۔

کچھ روز پہلے معین خان پی ایس ایل مینیجمنٹ پہ کافی برہم نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں عین آخری لمحے پہ جب تین چار میچ وننگ پلیئرز ٹیم کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو اہم ترین میچز میں ٹیم کے چانسز پہلے ہی کم ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی ان کھلاڑیوں کو ڈرافٹ میں شامل ہی کیوں کرتا ہے جو پاکستان آنے پہ رضامند نہیں ہوتے۔

معین خان کا یہ اعتراض اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اگر پی ایس ایل کا مقصد ہی پاکستان میں کرکٹ کی واپسی ہے تو ایسے کھلاڑیوں کو ڈرافٹ کرنے کا کیا مطلب جو پاکستان آنا ہی نہیں چاہتے؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کو بیٹنگ کی دعوت دی تو پشاور زلمی کے بلے بازوں کے اوسان خطا ہو گئے

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پشاور زلمی کے سبھی کھلاڑی ہر سال پاکستان آ جاتے ہیں، کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ بھی اپنے غیرملکی کھلاڑیوں کو قائل کر سکتے ہیں تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیوں نہیں؟

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پی ایس ایل تھری کے ڈرافٹ میں قریب قریب وہی غیرملکی کھلاڑی چنے جنھوں نے پچھلے سال پاکستان آنے سے اںکار کیا تھا۔ کیا ڈرافٹ میں جاتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مینیجمنٹ یہ بھول گئی تھی کہ وہ پھر اسی پیٹرسن کو شامل کر رہے ہیں جو پچھلی بار صرف ایک نیک خواہشات بھرا ٹویٹ کر کے پیا دیس سدھار گئے تھے۔

پہلے الیمنیٹر میں بارش کے بعد سب سے اہم چیز ٹاس جیتنا تھی کیونکہ نمی والی وکٹ پہ جس ٹیم کو پہلے بیٹنگ کرنا پڑتی ہے، اس کے لیے ایک مستحکم اننگز تشکیل دینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ عموماً ایسے میچز میں آدھی گیم ٹاس پہ ہی جیت لی جاتی ہے لیکن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ٹاس جیتنے سے پہلے ہی میچ ہارا ہوا تھا۔

سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کو بیٹنگ کی دعوت دی تو پشاور زلمی کے بلے بازوں کے اوسان خطا ہو گئے۔ لیام ڈاسن کے سوا کوئی بھی بیٹسمین جم کر نہیں کھیل پایا۔ سرفراز نے سپنرز کو بھی بہت اچھا استعمال کیا۔ راحت علی نے تو بہت عمدہ بولنگ کی۔ اس وکٹ پہ 158 کا ہدف آسان نہ سہی، بہت دشوار بھی نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مینیجمنٹ یہ بھول گئی تھی کہ وہ پھر اسی پیٹرسن کو شامل کر رہے ہیں جو پچھلی بار صرف ایک نیک خواہشات بھرا ٹویٹ کر کے پیا دیس سدھار گئے

لیکن جونہی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی بیٹنگ شروع ہوئی تو نفسیاتی دباؤ ذہنوں سے نکل کر بلے میں جھلکنا شروع ہو گیا۔ یہ دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ ابتدائی انتشار کے بعد جب سرفراز اور نواز ایک شاندار پارٹنرشپ لگا چکے تھے، تب بھی سر ویوین رچرڈز کے چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔

اگر وہ پارٹنرشپ دو اوورز مزید چل جاتی تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میچ لے جاتا لیکن یہ اسی نفسیاتی دباؤ کی کارستانی تھی کہ جونہی سرفراز نے نواز کو وکٹ پہ جمے رہنے کی نصیحت کی، اگلی ہی گیند پہ نواز آؤٹ ہو گئے۔ اس سے اگلی گیند پہ سرفراز خود ایک بے معنی شاٹ کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔

آخری اوور میں انور علی نے بلاشبہ کمال ہٹنگ کی۔ سرفراز کے چہرے پہ مسکراہٹ بھی لوٹ آئی لیکن جو نفسیاتی دباؤ یہ پورا ڈریسنگ روم دبئی سے اپنے ہمراہ لایا تھا، اس کے بعد شکست اس ٹیم کا مقدر تھی بھلے وہ ایک رن سے ہی ہوتی۔

پہلے دونوں سیزنز کے فائنل کھیلنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس بار فائنل نہیں کھیل پائے گی۔ مگر یہ صرف قسمت کی بات نہیں ہے، غلط پلاننگ کا کرشمہ ہے۔ معین خان کا شکوہ بالکل بجا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ڈرافٹ کرتے ہوئے انھیں کیون پیٹرسن کا وہ ٹویٹ کیوں نہ یاد آیا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں