ایک شخص کی وجہ سے ٹیم میں آنا رک نہیں سکتا: کامران اکمل

کامران تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کامران اکمل کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستانی ٹیم میں واپسی کی امید ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل کو پاکستانی ٹیم میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے تیار نہیں جبکہ دوسری جانب کامران اکمل کو یقین ہے کہ ان کی عمدہ کارکردگی انھیں پاکستانی ٹیم میں واپس ضرور لائے گی۔

لاہور میں پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایلیمنیٹر کے بعد جب کراچی کنگز اور پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پریس کانفرنس میں آئے تو ان سے کامران اکمل کی ڈومیسٹک کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ میں انتہائی شاندار کارکردگی کے بعد پاکستانی ٹیم میں واپسی کے بارے میں سوال کیا گیا۔

جس پر مکی آرتھر نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب پہلے بھی متعدد بار دے چکے ہیں اور اب بھی وہ یہ کہیں گے کہ کامران اکمل ایک اچھے بیٹسمین ہیں لیکن کھیل کے ہر شعبے میں مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

مکی ارتھر کا کہنا تھا کہ ’انھیں ویسٹ انڈیز میں موقع دیا گیا تھا لیکن ان کی فیلڈنگ بہت خراب رہی تھی اور انھیں یقین ہے کہ اس کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل کے ناکام پاکستانی بیٹسمین

پی ایس ایل تھری کی پہلی سنچری، پشاور زلمی پلے آف میں

دو بھائی، کارکردگی مختلف مگر مستقبل ایک جیسا

مکی آرتھر کے بیان پر کامران اکمل نے پریس کانفرنس میں اگرچہ سارا زور اپنی کارکردگی پر دیا لیکن ساتھ ہی ان کا یہ کہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مکی آرتھر کے اپنے بارے میں سخت موقف پر قطعاً خوش نہیں ہیں۔

کامران اکمل کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستانی ٹیم میں واپسی کی امید ہے۔ وہ اپنی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ یہ سلیکٹرز اور بورڈ کا کام ہے۔ ’ایک بندے کی وجہ سے کوئی لڑکا رک نہیں سکتا اگر وہ ٹیم کے لیے کھیلنا چاہے تو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کامران اکمل ایک اچھے بیٹسمین ہیں لیکن کھیل کے ہر شعبے میں مہارت کی ضرورت ہوتی ہے: مکی آرتھر

کامران اکمل گذشتہ پی ایس ایل کی طرح اس بار بھی سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن چکے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ٹیم میں واپس آنے کی امید اب ختم تو نہیں کردی ؟ جس پر انھوں نے سوال کردیا کہ ’کیا میری پرفارمنس سے لگ رہا ہے کہ میں نے امید ختم کردی ہے؟ ابھی تین چار سال کی کرکٹ باقی ہے۔‘

کامران اکمل کا کہنا ہے کہ کوئی کچھ بھی کہتا رہے ان کی توجہ اپنے کھیل پر ہے۔ اگر وہ یہ سب کچھ سوچتے رہتے تو اتنی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کوچ کی اپنی سوچ ہے۔ جو پاکستان کے لیے بہتر ہے وہ کریں۔ ہم اپنی کرکٹ کھیل رہے ہیں ہمیں کوئی کرکٹ کھیلنے سے نہیں روک سکتا۔‘

کامران اکمل سے جب ان کی فیلڈنگ اور سرفراز احمد سے موازنے سےمتعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی سے کیچز ڈراپ ہوتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز میں دوسروں نے بھی کیچز چھوڑے۔ کراچی کنگز کے میچ میں بھی کیچز ڈراپ ہوئے۔ وہ کسی کے ساتھ مقابلہ یا موازنہ نہیں کرتے بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی کارکردگی پر نظررکھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں