پی ایس ایل 3 فائنل کی ’کوریج کرنی ہے تو سامنے پل پر سے کرو‘

پی ایس ایل فائنل

پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے فائنل کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور مقامی انتطامیہ کے درمیان رابطے کے فقدان کے سبب میچ کی کوریج کرنے والے میڈیا کو سکیورٹی اہلکاروں کے نامناسب سخت گیر رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پی ایس ایل کا فائنل اتوار کی شام پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان کھیلا جا رہا ہے۔

اس میچ کی کوریج کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے صحافیوں اور کیمرہ مینوں کو جاری کردہ ایکریڈیٹیشن کارڈز اور کار پارکنگ سٹیکرزکو بھی پولیس اور رینجرز اہلکار تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

’سخت سکیورٹی کے بجائے پرفارمنس پر توجہ ہے‘

پی ایس ایل تھری کا فائنل آج شام کراچی میں

کراچی میں کھیلنے پر خوش ہوں: ڈیرن سیمی

فائنل کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کے تحت سٹیڈیم تک آنے والے تمام راستوں کو کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں سے بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم میڈیا کے نمائندوں کو اس وقت شدید کرب سے گزرنا پڑا جب سکیورٹی اہلکاروں نے کار پارکنگ سٹیکرز اور ایکریڈیٹیشن کارڈز کو دیکھنے سے ہی انکار کردیا اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو میلوں دور سے پیدل چل کر سٹیڈیم پہنچنا پڑا۔

یہ صورتحال اس وقت مزید ابتر ہوگئی جب نیشنل سٹیڈیم کے مرکزی گیٹ پر رینجرز کے اہلکاروں نے صحافیوں کے لیپ ٹاپ، ریکارڈر اور کوریج کے لیے درکار دیگر آلات ساتھ لے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا جس پر جب صحافیوں نے انھیں بتایا کہ اس کے بغیر کوریج ممکن نہیں تو ڈیوٹی پر مامور ایک افسر نے سخت لہجے میں جواب دیا ’اگر کوریج کرنی ہے تو سٹیڈیم کے سامنے واقع ُپل پر سے کرو‘ ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کوریج کرنے والے میڈیا کے نمائندوں کی فہرست میچ سے ایک دن قبل سکیورٹی حکام کے حوالے کردی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے فائنل کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز بھی کراچی میں کرانے کا اعلان کیا ہے لیکن کراچی کے صحافتی حلقوں نے اس بات پر سخت تشویش ظاہر کی ہے کہ سکیورٹی حکام کے صحافیوں کے ساتھ نامناسب رویے کی وجہ سے صحافیوں کے لیے ان میچوں کی کوریج بہت مشکل ہوگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس ضمن میں اپنی میڈیا پالیسی کو از سر نو ترتیب دینا ہوگا جس میں صحافیوں اور کیمرہ مینوں کا کسی دشواری کے بغیر سٹیڈیم تک آنا قابل ذکر ہے۔

اسی بارے میں