بال ٹیمپرنگ: وارنر، سمتھ پر ایک ایک سال اور بینکروفٹ پر نو ماہ کی پابندی، آئی پی ایل سے بھی باہر

سٹیوئ وارنر بینکروفٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرکٹ آسٹریلیا نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل میں ملوث قومی کرکٹ ٹیم کے معطل کپتان سٹیو سمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر پر ایک ایک سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔

ان کے علاوہ کیمرون بینکروفٹ کو نو ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب سٹیو سمتھ اور ڈیوڈ وارنر کو کیپ ٹاؤن میں ٹیسٹ میچ کے دوران بال ٹیمپرنگ کے واقعے کے بعد انڈین پریمیئر لیگ نے اس سال ٹورنامنٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی ہے۔

سٹیو سمتھ آئی پی ایل میں بھی کپتانی نہیں کریں گے

ڈیوڈ وارنر حالات سے ناراض ہیں

کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق تینوں کھلاڑی پابندی کے عرصے کے دوران کسی بھی قسم کی کرکٹ میں ملک کی نمائندگی نہیں کر سکیں گے۔

بال ٹیمپرنگ کا واقعہ جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران کیپ ٹاؤن میں تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوران پیش آیا تھا۔

آسٹریلوی کھلاڑی کیمرون بینکروفٹ نے اعتراف کیا تھا کہ تیسرے ٹیسٹ کے دوران وہ بال ٹیمپرنگ کر رہے تھے اور ان کے کپتان سٹیون سمتھ کا کہنا ہے کہ وہ کیمرون کے ارادے کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے۔

کھلاڑی دھوکہ دہی کریں گے؟

سابق ٹیسٹ میچ امپائر جان ہولڈر کا بال ٹیمپرنگ کے حوالے سے کہنا ہے کہ کرکٹ پیسوں کا کھیل ہے اور کھلاڑی دھوکہ دہی کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی کھلاڑی پیسے بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وارنر اور دیگر کھلاڑی میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی سخت ترین سزا دی گئی۔ میرے خیال میں بہت بڑا تضاد ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی کو ضرور اس پر غور کرنا ہو گا اور اس حوالے سے سزاؤں میں اضافہ کرنا ہو گا۔

’کھلاڑیوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اگر وہ میچ میں ایسی حرکت کرتے ہیں تو کرکٹ میں ان کا مستقبل ختم ہو جائے گا۔‘

تاہم آسٹریلوی کرکٹ کے چیف جیمز ستھرلینڈ کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ ڈیرن لیہمن اس معاملے میں شامل نہیں تھے اور وہ اسی پوسٹ پر رہیں گے۔

اس حرکت پر پہلے ہی کرکٹ آسٹریلیا نے سٹیو سمتھ، نائب کپتان ڈیوڈ وارنر اور بلے باز کیمرون بینکروفٹ کو دورے سے واپس بلا لیا ہے۔

انڈین پریمیئر لیگ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ اس میچ کے لیے کپتانی سے اور ڈیوڈ وارنر نائب کپتانی سے دستبردار ہو گئے تھے

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سمتھ اور وارنر کا انڈین پریمیئر لیگ کے ساتھ 19 لاکھ ڈالر کا معاہدہ ہے۔ سمتھ راجستھان رائلز جبکہ وارنر سن رائزرز حیدر آباد کی ٹیم سے کھیلتے ہیں۔

اگرچہ آسٹریلیا کرکٹ کی جانب سے کپتان سٹیو سمتھ، نائب کپتان ڈیوڈ وارنر اور بلے باز کیمرون بینکروفٹ پر پابندی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا لیکن آئی پی ایل کے چیئرمین راجیو شکلا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’جن کھلاڑیوں پر انھوں نے (کرکٹ آسٹریلیا) نے پابندی لگائی ہے ہم بھی ان دو کھلاڑیوں پر اس سیزن کے لیے پابندی عائد کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ راجستھان رائلز اور رائزرز حیدر آباد ان کھلاڑیوں کی جگہ دوسرے کھلاڑی لے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ سمتھ اور وارنر دونوں ہی آئی پی ایل کی ٹیموں کے کپتانی سے پہلے ہی دستبردار ہو سکتے ہیں۔

کیمرون بینکروفٹ کے اعتراف کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ان پر میچ فیس کا 75 فیصد بطور جرمانہ عائد کیا تھا اور انھیں تین ڈیمیرٹ پوائنٹس بھی دیے گئے ہیں جبکہ آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ پر ایک میچ کی پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ انھیں سو فیصد میچ فیس بطور جرمانہ ادا کرنے کا کہا گیا تھا۔

اب باقی ماندہ سیریز میں وکٹ کیپر ٹم پین آسٹریلوی ٹیم کی کپتانی کے فرائض سرانجام دیں گے جبکہ سمتھ، وارنر اور بینکروفٹ کی جگہ میتھیو رینشا، گلین میکسویل اور جوئی برنز چوتھے ٹیسٹ میچ میں شرکت کریں گے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

میں نے بال ٹیمپرنگ کی: کیمرون بینکروفٹ

بینکروفٹ

منگل کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی کرکٹ کے چیف جیمز ستھرلینڈ نے کہا تھا کہ سنیچر کو کیپ ٹاؤن میں ہونے والے واقعے پر آسٹریلیا میں کرکٹ کے شائقین اور تمام عوام کو مایوسی اور غصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ وہ آسٹریلین کرکٹ کی جانب سے اس واقعے پر تمام شہریوں سے معافی مانگتے ہیں خاص طور پر ان بچوں سے جنھیں کرکٹ سے محبت ہے اور وہ ان کھلاڑیوں کو آئیڈیل مانتے ہیں۔

اس موقع پر انھوں نے جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ اور شائقین سے بھی معافی مانگی اور کہا کہ اس معاملے نے ایک بڑی سیریز پر اثر ڈالا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sky Sports
Image caption میدان میں کھڑے امپائرز نے بینکروفٹ سے پوچھا تو انھوں نے اپنی جیب سے صرف ایک کالا کپڑا نکال کر دکھایا جو کہ بظاہر ان کی سن گلاسز کا کور تھا

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں