حسین طلعت کا کھیلوں کے سامان کی دکان سے سٹیڈیم تک کا سفر

طلعت حسین تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption حسین طلعت نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہیں بیٹ کی مرمت کا کام بھی آتا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم میں پہلی بار شامل ہونے والے اسلام آباد یونائیٹڈ کے آل راؤنڈر حسین طلعت کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔

والد نے کھیلوں کے سامان کی دکان ان کے حوالے کر دی لیکن دکان پر زیادہ وقت گزارنے کے بجائے وہ میدان کا رخ کرتے تھے۔

حسین طلعت نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں اپنے کرکٹ کے سفر کی دلچسپ روداد بیان کی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

پی ایس ایل تھری میں ابھرنے والے نئے ستارے کون ہیں؟

پی ایس ایل کے ناکام پاکستانی بیٹسمین

پی ایس ایل 3، آپ کیا جانتے ہیں؟

’میرے والد کی کھیلوں کے سامان کی دو دکانیں تھیں جن میں سے ایک انھوں نے میرے حوالے کر دی تھی اس وقت میں سکول میں پڑھتا تھا لیکن مجھے کرکٹ کا جنون کی حد تک شوق تھا جیسے کسی بچے کو کسی پسندیدہ مشغلے میں لگا دیا جاتا ہے۔

’دکان میں زیادہ ترسامان کرکٹ سے متعلق تھا تو میں دکان سے بیٹ، گلوزاور پیڈ وغیرہ چھپا کر لے جاتا تھا اور اپنے استعمال میں لاتا تھا۔‘

حسین طلعت نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہیں بیٹ کی مرمت کا کام بھی آتا ہے۔

’میرے والد نے مجھ سے کہا کہ اگر میں کرکٹ بیٹ کی مرمت سیکھ لوں تو اس میں ملنے والا تمام معاوضہ میرا ہو گا لہٰذا میں نے یہ کام بھی سیکھ لیا۔‘

حسین طلعت کے لیے وہ دن کبھی نہ بھولنے والے ہیں۔

’وہ تین چار برس ہی درحقیقت میری زندگی کے بہترین لمحات تھے جنھوں نے مجھے سخت محنت اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا وہ بڑے مزے کی زندگی تھی ۔‘

حسین طلعت کا تعلق سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق کے علاقے شاہدرہ سے ہے اور جب حسین طلعت نے سڑکوں اور میدانوں میں کرکٹ شروع کی تو ان کے لیے یہی بات خوشی کا سبب تھی کہ ٹیسٹ کرکٹر عبدالرزاق اس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

حسین طلعت کو پی ایس ایل کے دوران ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی عمدہ کارکردگی انہیں جلد پاکستانی ٹیم تک لے آئے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL

’میں انٹرنیشنل کرکٹ کے چیلنج کے لیے تیار ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ایس ایل میں کارکردگی اچھی رہی ہے۔ اس کے علاوہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ جس طرح پی ایس ایل میں پرفارم کیا ہے پاکستانی ٹیم کی طرف سے بھی ایسی ہی کارکردگی دکھاؤں۔‘

حسن علی اور شاداب خان کی طرح حسین طلعت بھی پی ایس ایل کو کسی نئے کرکٹر کی صلاحیتوں کے اظہار کا سب سے مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

’یہ پی ایس ایل ہی ہے جس نے ہمیں دنیا کے سامنے متعارف کرایا ہے ہم ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہیں لیکن اسے دیکھنے والے برائے نام ہوتے ہیں لیکن پی ایس ایل کی پرفارمنس سب کو نظر آتی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں