’گیانا کی وہ شام اور ٹرینیڈاڈ کا وہ جوان‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تین کپتان موجود ہیں۔

وکٹ سے کچھ دور، سرفراز احمد کھڑے ہیں۔ ان کے چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ وہیں محمد حفیظ اور شعیب ملک بھی موجود ہیں۔ لیکن سرفراز شاید وہاں ’موجود‘ نہیں ہیں۔ حفیظ کوئی مشورہ دیتے ہیں، ملک مایوسی سے خلا میں گھورتے ہیں، سرفراز سکور بورڈ پہ نظر ڈالتے ہیں۔ اور تین افسردہ چہروں کی یہ مختصر سی میٹنگ برخاست ہو جاتی ہے۔

ویسٹ انڈین ٹیم نے تاریخ میں کبھی 300 کا تعاقب نہیں کیا تھا، لیکن گیانا کی اس شام یہ تاریخ بدلنے کو تھی۔

یہ پاکستان کے گذشتہ دورہء ویسٹ انڈیز کا پانچواں میچ تھا۔ ٹی ٹونٹی سیریز کی جیت کے بعد، بطور ون ڈے کپتان یہ سرفراز کا پہلا میچ تھا۔ پہلے بیاسی اوورز تک میچ پاکستان کی گرفت میں تھا۔ لیکن پھر، ٹرینیڈاڈ کا وہ جوان بیٹنگ کے لیے آ گیا۔

ویلکم بیک ہوم کرکٹ

پی ایس ایل تھری میں ابھرنے والے نئے ستارے کون ہیں؟

جس وقت وہ کریز پر آیا، ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے 107 گیندوں پہ 153 رنز بنانا تھے۔ اور یہ آخری بیٹنگ پیئر تھا۔ لیکن اس جوان نے عماد وسیم، محمد عامر، وہاب ریاض اور حسن علی سے بھاری اٹیک کے خلاف، 58 گیندوں پہ 91 رنز بنا ڈالے۔ اس اننگز میں گیارہ چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔

جیسن محمد کی وہ اننگز ماڈرن ون ڈے بیٹنگ کی ماسٹر کلاس تھی، جو بدقسمتی سے آئی پی ایل کے ہنگامے میں ایسی گم ہوئی کہ یوٹیوب پہ اس کا کوئی تذکرہ تک موجود نہیں۔ خود جیسن محمد بھی اسی اننگز کے ساتھ گم ہو گئے۔ وہ 91 ناٹ آؤٹ ابھی تک ان کا کرئیر بیسٹ ون ڈے سکور ہے۔

اس روز جیسن محمد مین آف میچ تھے۔ کل شام جیسن محمد کپتان ہوں گے۔ اور ان کی کمزور سی ٹیم کا مقابلہ سرفراز احمد کی بھرپور، مکمل ٹیم سے ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی پچھلی دونوں ٹی ٹونٹی سیریز میں پاکستان فاتح رہا ہے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم دونوں بار وقت سے خاصی پیچھے دکھائی دی۔ اس بار بھی جو ٹیم پاکستان بھیجی گئی ہے، وہ بھی اوسط پلاننگ کا نمونہ ہے۔

گمان یہ ہوتا ہے کہ ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ نے صرف ایک طویل المدت کاروباری معاہدے کی توثیق کے لیے نجم سیٹھی کی دعوت قبول کر لی۔ ورنہ ٹیم سلیکشن ہی کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کرکٹ کوالٹی اور ویسٹ انڈین شناخت کے عوامل فی الوقت ڈیو کیمرون کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔

ایسے میں، بظاہر سکیورٹی وجوہات کی بنا پہ، جب سینیئرز کی اکثریت نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تو افراتفری میں ایک سکواڈ پورا کیا گیا اور جیسن محمد کو اس کی کپتانی دے کر جھٹ پٹ کراچی فلائٹ پہ بٹھا دیا گیا۔

اس کوشش سے کراچی کی انٹرنیشنل کرکٹ تو یقینا بحال ہو جائے گی لیکن اچھی کرکٹ شاید نہ ہو پائے۔ دونوں اسکواڈز کی طاقت میں بہت فرق ہے۔ مکمل ٹیم ہی نہیں، سرفراز کو اپنے ہوم گراونڈ اور کراوڈ کا بھی ساتھ حاصل ہے۔

اس کے برعکس ویسٹ انڈین سکواڈ کا المیہ دیکھیے کہ تین وکٹ کیپر بیٹسمین شامل کیے گئے ہیں لیکن یہ جواب ہی بہت دقیق ہے کہ بطور کیپر کون کھیلے گا اور بطور بیٹسمین کون؟ مڈل آرڈر میں کون آئے گا؟ اور کپتان خود کہاں کھیلے گا؟

یہ سبھی جواب مشکل سہی، مگر پھر بھی ایک موہوم سی امید تو ہے کہ شاید ٹرینیڈاڈ کا وہ جوان کسی ایک دن اٹھ کھڑا ہو، اور گیانا کی وہ شام یاد دلا دے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں