پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: ٹی ٹوئنٹی کے نئے ریکارڈ

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کرکٹ

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کراچی میں کھیلے جانے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں متعدد نئے ریکارڈز قائم ہوئے ہیں۔

اس میچ میں پاکستان نے مہمان ٹیم ویسٹ انڈیز کو 143 رنز سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔

پاکستان نے پانچ وکٹوں پر 203 رنز بناکر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اپنے سب سے بڑے سکور کا ریکارڈ بھی برابر کیا جو اس سے قبل اس نے 2008 میں اسی نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں بنگلہ دیش کے خلاف پانچ وکٹوں پر 203 رنز بنایا تھا۔

پاکستان نے 143 رنز سے کامیابی حاصل کرکے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی جیت کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے اس سے قبل اس نے 2008 میں بنگلہ دیش کو102 رنز سے شکست دی تھی۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم صرف 60 رنز پر آؤٹ ہوگئی جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اس کا سب سے کم سکور بھی ہے اس سے قبل اس نے 2010 میں زمبابوے کے خلاف سات وکٹوں پر 79 رنز بنائے تھے۔

یہ 60 رنز پاکستان کے خلاف کسی بھی ٹیم کا سب سے کم سکور بھی ہے ۔ اس سے پہلے نیوزی لینڈ کی ٹیم 2010 میں پاکستان کے خلاف کرائسٹ چرچ میں 80 رنز بنا سکی تھی۔

ویسٹ انڈیز نے 60 رنز پر آؤٹ ہوکر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کسی بھی ٹیسٹ ٹیم کے سب سے کم سکور کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا ہے اس سے پہلے نیوزی لینڈ نے 2014 میں سری لنکا کے خلاف 60 رنز بنائے تھے۔

پاکستان کے دورے پر آنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے کپتان جیسن محمد نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اپنی ٹیم کی کارکردگی پر مایوسی ظاہر کی ہے تاہم انہیں امید ہے کہ اگلے دونوں میچوں میں ان کے کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

جیسن محمد جنھیں کئی سینیئر کرکٹرز کے پاکستان نہ آنے کے سبب ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز یقیناً ناتجربہ کار ہے۔ اچھا ہوتا کہ ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑی ہوتے لیکن آئی پی ایل کی وجہ سے متعدد سینیئر کرکٹرز دستیاب نہیں تھے۔ موجودہ ٹیم میں کچھ سینیئر اور کچھ نوجوان کرکٹرز شامل ہیں اور یہ اچھی کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جیسن محمد کو امید ہے کہ ان کی ٹیم اگلے میچوں میں خاص کر بیٹنگ کے شعبے میں اچھی پرفارمنس دے گی۔

انھوں نے کہا کہ ابتدائی دو اوورز میں ہی تین وکٹیں گرنے سے ان کی ٹیم دباؤ کا شکار ہوگئی۔

جیسن محمد نے کہا کہ وہ پاکستان آکر خوشی محسوس کررہے ہیں۔ سٹیڈیم میں شائقین کا رویہ مثالی تھا اور وہ یہاں خود کو محفوظ تصور کر رہے ہیں۔