تیسرا ٹی20: پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی

پاکستانی ٹیم

ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان کراچی میں کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری ٹی20 میچ میں مہمان ٹیم نے پاکستان کو 153 رنز کا ہدف دیا تھا جو پاکستان نے صرف دو وکٹوں کے نقصان پر مکمل کر لیا۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز انتہائی مستحکم تھا۔ فخر زمان نے اپنے روایتی جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے صرف 17 گیندوں پر 40 رنز بنائے اور ایمرت کی گیند پر رام دین کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔

بابر اعظم نے ایک اور عمدہ نصف سینچری مکمل کی تاہم وہ اس کی اگلی ہی گیند پر سمتھ کی گیند پر باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اس سے قبل مہمان ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بلےبازی کی اور مقررہ 20 اووروں میں چھ وکٹوں نے نقصان پر 153 رنز سکور کیے۔

ویسٹ انڈیز کی اوپنر فلیچر نے عمدہ بلےبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سینچری مکمل کی اور 43 گیندوں پر 52 رنز بنا کر محمد نواز کے عمدہ تھرو کی وجہ سے رن آؤٹ ہوئے۔

ان کے علاوہ رام دین 30 نے بھی عمدہ بیٹنگ کی اور صرف 18 گیندوں پر 42 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

،تصویر کا کیپشن

آندرے فلیچر نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سینچری مکمل کی

رام دین کی پاور ہٹنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے آخری تین اووروں میں 44 رنز بٹورے۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے والٹن اور فلیچر نے اننگز کا آغاز کیا لیکن والٹن محمد نواز کی گیند پر بابر اعظم کو کیچ تھما بیٹھے۔

سیموئلز 32 رنز بنا کر شاداب خان کی گگلی کا شکار بنے۔ ان کے اور فلیچر کے درمیان 72 رنز کی نہایت عمدہ شراکت ہوئی۔ اس کے بعد نئے کھلاڑی میکارتھی کھیلنے آئے لیکن صرف پانچ رنز بنا کر شاداب کی گیند پر فخر زمان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

پاؤل دو رنز بن کر فہیم اشرف کا نشانہ بن گئے۔

پاکستان کی جانب سے شاداب خان نے دو، جب کہ فہیم اشرف، محمد نواز اور عثمان شنواری نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

پہلے دونوں میچوں میں پاکستان کی بھاری مارجن سے فتوحات کے بعد ویسٹ انڈیز کو پاکستان کے ہاتھوں وائٹ واش کا خطرہ ہے۔ ان دونوں میچوں میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کر کے بڑے سکور کھڑے کر دیے تھے۔

ابتدائی میچ میں پاکستان نے 143 رنز سے، جب کہ دوسرے میچ میں 82 رنز کے مارجن سے فتح حاصل کی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

نوعمر فاسٹ بولر شاہین آفریدی کا یہ پہلا میچ ہے

پاکستان نے اس میچ میں نوعمر فاسٹ بولر شاہین آفریدی کو متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ عثمان شنواری کو بھی کھلایا گیا ہے۔

اس سیریز میں کے پہلے دونوں میچوں میں ایک اور نئے کھلاڑی حسین طلعت اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کر چکے ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی لیگ سپنر شاداب خان پر ویسٹ انڈین کھلاڑی چیڈوک والٹن کو آؤٹ کرنے کے بعد غیرمناسب طرزِ عمل کی پاداش میں جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔