منصور امجد سے حسین طلعت تک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حسین طلعت میں وہ سارے گن ہیں جو ایک اچھے ماڈرن کرکٹر کا خاصہ ہوتے ہیں۔

پاکستان اور بنگلہ دیش 20 اپریل 2008 کو نیشنل سٹیڈیم کراچی میں مدمقابل ہوئے تھے۔ دس سال بعد جب نیشنل سٹیڈیم کراچی پھر سے آباد ہوا ہے تو موجودہ الیون میں اس پرانی ٹیم کی واحد نشانی شعیب ملک ہیں۔

پاکستان کی جانب سے وہ وہاب ریاض کا پہلا ٹی ٹونٹی میچ تھا۔ ان کے علاوہ ایک لیگ سپنر نے بھی انٹرنیشنل ڈیبیو کیا تھا۔ آنجہانی باب وولمر نے خود اس پلئیر کو مارک کر کے نیشنل اکیڈمی بلایا تھا۔ اس میچ میں، اس ہونہار سپنر نے صرف ایک ہی اوور پھینکا تھا، تین رنز دیے تھے اور تین وکٹیں لی تھیں۔

وہ لیگ سپنر تھے منصور امجد! اس کے بعد ایشیا کپ کا صرف ایک ون ڈے کھیلے اور منصور امجد کا انٹرنیشنل کرئیر بلا اعلان ختم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’اپنی دکان سے بیٹ اور گلوز چھپا کر لے جاتا تھا‘

ویسٹ انڈیز کا ’جیٹ لیگ‘ قدرے کم، 82 رنز سے شکست

اتنا مختصر اور اتنا شاندار کرئیر بجائے خود ایک ستم ظریفی ہے۔ سالہا سال کی محنت اور ان گنت خوابوں کے بعد یہ کیسی سہانی صبح طلوع ہوئی کہ ایک میچ، ایک اوور، تین وکٹیں اور اچانک، بے وجہ قصہ ختم۔

پرسوں جب پاکستان میدان میں اترا تو یہاں بھی دو پاکستانی کھلاڑیوں نے ڈیبیو کیا، آصف علی اور حسین طلعت۔ حسین طلعت کا یہ پہلا انٹرنیشنل میچ تھا اور وہ اپنی آل راونڈ پرفارمنس سے پلئیر آف دا میچ کا ایوارڈ لے اڑے۔

پچھلے سال جب پی ایس ایل کے بعد دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے کیمپ لگا تھا تو حسین طلعت بھی اس کیمپ کا حصہ تھے۔ لیکن فخر زمان کو ان پہ ترجیح دی گئی اور انہیں ایک اور پی ایس ایل کا انتظار کرنا پڑا۔ لیکن ایک سال بعد اب جو حسین طلعت ہمارے سامنے ہیں، یہ تکنیک اور ٹیمپرامنٹ کے حساب سے کافی آگے آ چکے ہیں۔

پاکستان کی ٹی ٹونٹی ٹیم صرف رینکنگ کے اعتبار سے ہی نہیں، ٹیلنٹ کے اعتبار سے بھی دنیا کی ںمبر ون ٹیم ہے۔ بیٹنگ میں قابل رشک گہرائی ہے اور بولنگ میں بے شمار ورائٹی۔ حسین طلعت ایسے پلئیر ہیں جو بیٹنگ ہی نہیں، بولنگ اور فیلڈنگ میں بھی ٹیم کی قوت بن کر سامنے آئے ہیں۔

پچھلے دو سال میں پاکستان کی ٹی ٹونٹی فتوحات کا تناسب دنیا کی کسی بھی ٹیم سے زیادہ ہے۔ لیکن اس کے بیٹنگ آرڈر میں شماریاتی اعتبار سے ایک ہلکی سی کجی تھی۔ کل کے میچ سے پہلے جو ٹی ٹونٹی میں پاکستان کا بیٹنگ آرڈر تھا، اس کے مڈل آرڈر میں چار دائیں ہاتھ کے بیٹسمین تھے اور چاروں ایک ہی مزاج کے بیٹسمین تھے۔ بابر اعظم، محمد حفیظ، شعیب ملک اور سرفراز احمد، چاروں اننگز بنانے میں تھوڑا وقت لیتے ہیں اور سٹرائیک ریٹ بھی نسبتاً کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL

حسین طلعت کے آنے سے پاکستان کو دو بڑے فائدے ہوئے ہیں۔ اول، مڈل آرڈر میں رائٹ ہینڈ بیٹنگ کی یکسانیت کا پیٹرن ٹوٹ گیا۔ دوم، سابقہ مڈل آرڈر کی نسبت حسین طلعت بہت جلدی اننگز جوڑ لیتے ہیں، ان کا سٹرائیک ریٹ لمبے ہدف تک رسائی میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔

ان عوامل کا واضح اثر ہمیں کل اور پرسوں کے سکور کارڈز میں دکھائی دیا، جہاں حسین طلعت کی روانی کے سبب مڈل اوورز میں بھی پاکستان کا رن ریٹ نیچے نہیں گرا اور پاکستان نے اپنی ٹی ٹونٹی تاریخ کا سب سے بڑا ٹوٹل بھی ترتیب دیا۔

حسین طلعت میں وہ سارے گن ہیں جو ایک اچھے ماڈرن کرکٹر کا خاصہ ہوتے ہیں۔ دس سال پہلے جب منصور امجد ںے ڈیبیو کیا تھا تو ان میں بھی یہ سارے گن دکھائی دیے تھے لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ لیگ سپنرز کے قحط کا شکار ٹیم اتنی جلدی منصور امجد سے مایوس ہو جائے گی جو مڈل آرڈر میں بیٹنگ بھی کر سکے۔ مگر سسٹم کی گرد میں وہ ایسے کھوئے کہ کھوجنا بھی محال۔

حسین طلعت نے مگر اتنا مضبوط کیس پیش کر دیا ہے کہ پی سی بی چاہے بھی، تو انہیں دوسرا منصور امجد نہیں بنا سکتا۔ امید ہی نہیں، خواہش بھی ہے کہ حسین طلعت دس سال بعد بھی ایسے ہی کھیل رہے ہوں جیسے آج۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں