لیکن سٹیڈیم کیسے بھریں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کرکٹ عجیب المیے کا شکار ہے۔ ایک طرف تو اسے دنیا کو یہ یقین دلانا ہے کہ یہ کرکٹ کے لیے محفوظ ملک ہے۔ ساتھ ہی یہ ثابت کرنے کا بوجھ بھی کہ یہاں کے لوگ کرکٹ کی خاطر سب چھوڑ چھاڑ کر سٹیڈیم بھر سکتے ہیں۔

2015 میں جب زمبابوے نے پاکستان کا دورہ کیا تو پہلی شام، لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ لیکن دوسرے میچ میں سٹیڈیم کھچا کھچ نہیں تھا اور تیسرے میچ تک اتنی خالی جگہیں نظر آئیں کہ تل کے سوا بھی بہت کچھ دھرا جا سکتا تھا۔

ورلڈ الیون پاکستان کے دورے پہ آئی تو جوش و خروش دیدنی تھا، مگر پی سی بی کی ٹکٹنگ پالیسی نے مزہ کرکرا کر دیا۔ مہنگے انکلوزر کے کافی ٹکٹ دھرے کے دھرے رہ گئے اور نجم سیٹھی معذرت کرتے پائے گئے۔

چلیے لاہور تو اب پھر بھی اتنے میچز کی میزبانی کر چکا ہے کہ کچھ نشستیں خالی رہ بھی جائیں تو معمولی بات ہے، لیکن کراچی کی تو یہ پہلی انٹرنیشنل سیریز تھی۔ نو سال کی تشنگی کے بعد تو کراوڈ اس قدر ہونا چاہیے تھا کہ سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔

پہلے میچ میں حاضری اگرچہ غیرمعمولی تھی لیکن پی ایس ایل فائنل سے بہرحال کم تھی۔ دوسرے میچ میں تعداد اور کم ہوئی۔ کل کے میچ میں تو کافی کمی نظر آئی۔

ایسا ہونا تو نہیں چاہیے تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کو ترسے ایک شہر میں نو سال بعد کوئی میلہ سجا، مگر پھر بھی شائقین کو اس طرح سے کھینچ نہ پایا جیسی امید تھی۔ کیا ٹکٹیں مہنگی تھیں؟ یا پی سی بی کی پلاننگ میں کوئی کمی تھی؟ یا لوگ کرکٹ دیکھنا ہی نہیں چاہتے؟

پاکستان کرکٹ عجیب المیے کا شکار ہے۔ ایک طرف تو اسے دنیا کو یہ یقین دلانا ہے کہ یہ کرکٹ کے لیے محفوظ ملک ہے۔ ساتھ ہی یہ ثابت کرنے کا بوجھ بھی کہ یہاں کے لوگ کرکٹ کی خاطر سب چھوڑ چھاڑ کر سٹیڈیم بھر سکتے ہیں۔

زمبابوے کی سیریز کا پہلا میچ ایک تاریخی موقع تھا اس لیے ٹکٹ ڈھونڈے نہ ملتی تھی، لیکن جوں جوں سیریز آگے بڑھی تو ٹکٹ پڑے رہ گئے، خریدنے والا نہ ملتا تھا۔ حالانکہ ورلڈ الیون کی آمد دورہ زمبابوے سے کہیں بڑا موقع تھا، پھر بھی بہت نشستیں خالی رہ گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگرچہ فل ممبرز میں سے اکثر فی الوقت پاکستان کا دورہ کرنے پہ رضامند نہیں ہیں، لیکن پی سی بی کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ جو ممالک جیسے تیسے پاکستان کے دورے پہ تیار ہو جاتے ہیں، کم از کم وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ سامنے آئیں۔

پچھلے چند سال سے عالمی کرکٹ سیاق و سباق کی تلاش میں ہے۔ منتظمین کا خیال ہے کہ اگر ہر میچ اور سیریز ایک خاص تناظر میں کھیلی جائے اور اس کے عالمی کرکٹ پہ کچھ نہ کچھ اثرات بھی ہوں تو سٹیڈیم بھرنے لگیں گے۔

لیکن یہ مسئلہ بالخصوص لمبے فارمیٹس کو درپیش ہے، ٹی ٹونٹی کا یہ ہے کہ کوئی تناظر نہ بھی ہو، لوگ چوکے چھکے دیکھنے ہی امڈ پڑتے ہیں۔ مگر نیشنل سٹیڈیم کراچی نے اس مفروضے کو بھی رد کر دیا۔

کل کا میچ بہت اہم تھا۔ کسی بھی تین میچز کی سیریز کا آخری میچ عموماً بہت اہم ہوتا ہے، اگر سیریز کسی تناظر میں کھیلی جا رہی ہو یا پھر مقابلہ برابر کا ہو۔ لیکن حالیہ سیریز کا پہلا میچ ہی اس قدر بے جوڑ ہوا کہ اگلے دو دن کوئی تجسس باقی نہیں تھا۔

اس میں دو رائے نہیں کہ جب مقابلہ جوڑ کا ہو اور کچھ نہ کچھ داو پہ لگا ہو تو شائقین خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں۔ لیکن جب مقابلہ بے جوڑ ہی نہیں، بے معنی بھی ہو تو پھر کئی اگر مگر جنم لینے لگتے ہیں۔

اگرچہ فل ممبرز میں سے اکثر فی الوقت پاکستان کا دورہ کرنے پہ رضامند نہیں ہیں، لیکن پی سی بی کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ جو ممالک جیسے تیسے پاکستان کے دورے پہ تیار ہو جاتے ہیں، کم از کم وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ سامنے آئیں۔ رسمی سیریز کھیلنے کے لیے ڈنگ ٹپاو سکواڈ نہ بھیجیں۔

بہرحال اس بدمزگی کے باوجود اب یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ کراچی انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کر سکتا ہے۔ نجم سیٹھی کی یہ خواہش، کہ اگلے سال آدھی پی ایس ایل پاکستان میں ہو، بھی تقریباً پوری ہو سکتی ہے، لیکن سٹیڈیم بھرنے اور جاندار کراوڈز پیدا کرنے کے لیے پاکستان کو جاندار کرکٹ کا انتظار کرنا ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں